عمران مخالف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا کتنا امکان ہے؟

اگر عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ آئینی طریقے سے فارغ ہونے والے ملک کے پہلے وزیر اعظم ہوں گے لیکن اگر یہ کوشش ناکام ہو گئی تو عمران آئینی مدت پوری کرنے والے پہلے وزیراعظم بن جائیں گے۔
آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق 1973 کے متفقہ آئین کے تحت قومی اسمبلی میں وزئر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوتی ہے یعنی سب کے سامنے ہوتی ہے، اس میں پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی طرح خفیہ ووٹنگ نہیں ہوتی۔ جب تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی ہے تو تین دن سے پہلے اس پر ووٹنگ نہیں ہوسکتی لیکن سات دن سے زیادہ اس پر ووٹنگ میں تاخیر بھی نہیں کی جاسکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے خیال میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنا آسان ہے جبکہ اسے منظور کروانا بہت مشکل ہوتا ہے چونکہ وزیراعظم کو اقتدار میں ہونے کا ایڈوانٹیج حاصل ہوتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے۔مطابق آج کے حالات میں ایک بات حتمی ہے کہ جب تک کپتان کو برسر اقتدار لانے والی اسٹیبلشمنٹ ان کے سر سے ہاتھ نہیں اٹھائے گی ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو پائے گی۔
یہ ناقابل تردیدحقیقت ہے کہ حکومت کا ایک اپنا رعب اور دبدبہ ہوتا ہے اسی لیے ماضی میں کسی بھی وزیر اعظم کے خلاف کوئی بھی تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو پائی۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی بھی اپنے کپتان کے لئے اس قدر استقامت دکھاتے ہیں جس کا مظاہرہ ماضی میں عدم اعتماد کا سامنا کرنے والی حکومتوں نے کیا۔
بعض تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ جب تک حکومت کے 20 سے 30 لوگ ٹوٹ کر اپوزیشن کا ساتھ نہیں دیتے یہ تحریک کامیاب نہیں ہو گی۔ اسی لیے اپوزیشن جماعتیں عمران خان کے پانچوں اتحادیوں یعنی قاف لیگ، ایم کیو ایم، جی ڈی اے، اور بلوچستان عوامی پارٹی کے علاوہ ترین گروپ کو توڑنے کی کوشش میں مصروف ہیں تا کہ ہارنے کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
عامر لیاقت نے چوتھی شادی کی ہے، تیسری بیوی سامنے آ گئی
یاد رہے کہ اپوزیشن نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ مہنگائی اور معاشی بدانتطامی بتائی جا رہی ہے۔ ایسے میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے باہمی روابط اور ملاقاتوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے اور ان رابطوں میں حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی خاصی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ یہ تحریک کب اور کیسے پیش کی جائے گی، اس بارے میں ابھی حزب اختلاف نے کوئی تفصیلات شیئر نہیں کی ہیں۔ تاہم حسبِ توقع اس تحریک کے ناکام ہونے سے متعلق خود عمران خان کے وزرا نے پیشگوئی کردی ہے۔
واضح رہے کہ اس بار مرکز میں تحریک عدم اعتماد لانے کے نتیجے میں تاریخی نتائج سامنےآئیں گے۔ اگر تو یہ تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو عمران خان پاکستانی سیاسی اور پارلیمانی تاریخ کے پہلے منتخب سربراہِ حکومت ہوں گے جو آئین میں دیے گئے اس طریقۂ کار کے تحت عہدے سے ہٹائے جائیں گے۔ لیکن اگر تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوتی ہے تو عمران پاکستانی تاریخ کے پہلے وزیراعظم بن جائیں گے جو اپنی منتخب آئینی مدت پوری کریں گے۔ یعنی دونوں صورتوں میں نہ صرف ایک نئی تاریخ رقم ہوگی بلکہ اس سے سیاست بھی رخ بدل لے گی۔
یاد رہے کہ 1973 کے آئین میں جب تحریک عدم اعتماد کا طریقہ وضح کیا گیا رھا تو تب کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو دوتہائی اکثریت حاصل تھی۔ تب ایسی تحریک کسی نے پیش کرنے کا سوچا بھی نہیں مگر آگے چل کر جب جمہوری سفر شروع ہوا تو تحریک عدم اعتماد جیسی فضا بھی اس کا مقدر بن گئی۔
1988 میں جب محترمہ بینظیر بھٹو شہید پہلی دفعہ وزیراعظم بنیں تو نواز شریف ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ ابھی حکومت بنے دو برس بھی نہیں گزرے تھے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں بینظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر متفق ہو گئیں۔ اپوزیشن اپنے اراکین اسمبلی مری لے گئی جبکہ پیپلز پارٹی کے خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ آفتاب شیرپاؤ اپنے اراکین کو سوات لے گئے تاکہ کوئی وفاداری تبدیل نہ کر سکے۔
سینیئر صحافی حامد میر کے مطابق یہ ایک ایسا وقت تھا جب آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل انتخابات سے قبل ہی بے نظیر بھٹو حکومت کے خلاف خاصے متحرک تھے اور وہ بھی اس عدم اعتماد کے بھرپور حامی تھے اور انھوں نے اسلامی جمہوری اتحاد ’آئی جے آئی‘ کے نام سے اپوزیشن کو متحد کر دیا، جبکہ خان عبدالولی خان جیسے نامور اپوزیشن رہنما بھی وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے خلاف متحرک تھے۔
فوج کے اندر بہت سے لوگوں کو یہ خوف بھی تھا کہ اگر بے نظیر بھٹو نے قدم جما لیے تو پھر وہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کریں گی جنھوں نے ان کے والد وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو کو پھانسی دی تھی۔ بھٹو کی بیٹی کا راستہ روکنے کے لئے راتوں رات آئی جے آئی بھی بنا دی گئی لیکن نتائج پھر بھی توقعات کے برعکس آئے۔ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بن گئیں مگر انھیں پنجاب کی حکومت نہیں دی گئی۔ تمام تر کوششوں کے باوجود حزب اختلاف کی بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک ناکامی سے دوچار ہوئی۔
حامد میر کے مطابق عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے صورت حال ایک ہفتے تک واضح ہو گی مگر ابھی تک اپوزیشن نے اپنی حکمت عملی شیئر نہیں کی۔ ان کے مطابق حکومت کے اراکین کو نااہلی کے خوف سے نکالنے کے لیے عین ممکن ہے کہ اپوزیشن پہلے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے تاکہ وہ حکومتی جماعت سے منحرف ہونے والے اراکین کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن کو ریفرنس نہ بھیج سکیں۔
خیال رہے کہ اگر کوئی حکومتی رکن وزیراعظم کے خلاف ووٹ دے تو ایسی صورت میں سپیکر قومی اسمبلی اس رکن کے خلاف الیکشن کمیشن کو 18 ویں ترمیم کی روشنی میں سیاسی وفاداری تبدیل کرنے پر نااہلی کا ریفرنس بھیج سکتا ہے۔ حامد میر کے مطابق ابھی اپوزیشن اتحاد نے یہ بھی طے کر نا ہے کہ پہلے پنجاب میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے یا مرکز سے اس کا آغاز کیا جائے۔ حامد میر کے خیال میں اس تحریک کا بیرومیٹر ایم کیوایم ہے۔
ان کے خیال میں اس وقت ایم کیو ایم سنجیدہ نظر آتی ہے اور اگر ایم کیو ایم نے ساتھ دیا تو پھر ق لیگ بھی اس تحریک کی حمایت کرے گی۔ حامد میر کے خیال میں اپوزیشن کو ایسا لگتا ہے کہ اب عمران خان کے سر سے سٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اٹھ گیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے۔
