گورنر راج کے بعد

تحریر: سلیم صافی
بشکریہ: روزنامہ جنگ

بالآخر وہی ہوا جس کا خطرہ ظاہر کیا جارہا تھا ۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی منتخب حکومت معطل کرکے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیاگیا۔ اس کیلئے وفاقی حکومت کی طرف سے جواز یہ بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت (وفاقی وزرا کے بقول) ٹی ٹی پی کی سہولت کاربنی ہوئی تھی۔ اس کے دور میں دہشت گردی کے واقعات میں تقریباََ دو سو فی صد اضافہ ہوا۔ سہیل آفریدی کی حکومت نے پولیس اور سی ٹی ڈی کو مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کئے اور بارہ اضلاع میں حکومتی رٹ عملاََ ختم ہوچکی ہے ۔ چنانچہ وفاقی حکومت نے بیک وقت آئین کے آرٹیکل 232اور 234کا اطلاق کرکے صوبے میں ایمرجنسی بھی نافذ کردی اور گورنر راج بھی لگا دیا۔ وفاقی حکومت کے اس اقدام سے پیپلز پارٹی کے گورنر فیصل کریم کنڈی صاحب کی دلی آرزو پوری ہوئی ۔ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹیو بن گئے جبکہ وزرا کے بجائے انکی معاونت کیلئے مشیروں کی گیارہ رکنی کونسل قائم کردی گئی جنکے بیشتر ارکان ٹیکنوکریٹس ہیں البتہ کچھ تقرریاں سیاسی بنیادوں پر بھی کی گئی ہیں۔ اسی طرح ضم شدہ آٹھ قبائلی اضلاع اور ان سے متصل چار بندوبستی اضلاع کیلئے اضافی طور پر ایک سرکاری افسر کی قیادت میں الگ سیکرٹریٹ قائم کردیا گیا ہے جبکہ ان کے ساتھ قبائلی عمائدین اور زعما کی ایک الگ کونسل قائم کردی جائیگی ۔

وفاقی حکومت نے گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے جو دلائل دیے ہیں، ان میں وزن ہے یا نہیں ، یہ فیصلہ تو عدالتیں کریں گی لیکن ایک بات واضح ہے کہ گیارہ اکتوبر کو وفاقی حکومت نے ذمہ داری کا بوجھ سہیل آفریدی اور ان کے ساتھیوں کے کاندھوں سے اٹھا کر اپنے کاندھوں پر رکھ دیا ہے ۔ سیاسی محاذ پر تلخی مزید بڑھ جائے گی کیونکہ صرف پی ٹی آئی نہیں بلکہ جے یو آئی اور اے این پی وغیرہ نے بھی گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کی ہے ۔ اور تو اور ٹی ٹی پی نے بھی پہلی مرتبہ کسی سیاسی ایشو سے متعلق اپنا موقف دیتے ہوئے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت کی ہے ۔ چنانچہ اب وفاقی حکومت اور گورنر کا امتحان شروع ہوگیا ہے اور اگر وہ دہشت گردی میں کمی لاسکے تو شاید اس اقدام کو لوگ ہضم کرلیں گے لیکن اگر حالات مزید خراب ہوئے یا جوں کے توں رہے تو اس صورت میں لوگ اگر باہر نہ بھی نکلے تو اگلے انتخابات میں اپنا غصہ پی ٹی آئی کے حق میں ووٹنگ کی شکل میں ضرور نکالیں گے ۔یوں گورنر راج پی ٹی آئی پر ظلم کی بجائے اس پر احسان ثابت ہوگا۔

وفاقی حکومت نے سہیل آفریدی کی حکومت کی رخصتی کیلئے دہشت گردی میں اضافے کو جواز بنا کر گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ تو کردیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اتنا سادہ مسئلہ نہیں کہ اسے چند انتظامی اقدامات کے نتیجے میں حل کر دیا جائے ۔ جب وہاں پر طالبانائزیشن شروع ہورہی تھی تو جنرل افتخار حسین شاہ مرحوم کی عسکری حکومت برسراقتدار تھی اور پھر جب اسے عروج حاصل ہوا تو علی محمد جان اورکزئی گورنر تھے ۔ اسی طرح ایم ایم اے کی صوبائی حکومت میں بھی اس میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا رہا اور اے این پی ،جو سب سے آگے بڑھ کر طالبان کے مقابلے میں ڈٹ گئی تھی ، کی حکومت میں بھی اس میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا رہا ۔ اگر معاہدوں کی بات ہو تو شکئی معاہدہ، سرہ روغہ معاہدہ ، سوات معاہدہ ، شمالی وزیرستان معاہدہ اور اسی طرح کے درجنوں معاہدے بھی ہوئے اور اگر آپریشنوں کی بات ہو تو آپریشن ضرب عضب، آپریشن المیزان، آپریشن بیادرغلم اور درجنوں دیگر آپریشنز ہوئے لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا۔

گزشتہ کئی برسوں سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں اور پی ٹی آئی حکومت نے اگر ان میں ساتھ نہیں دیا تو رکاوٹ بھی نہیں ڈال سکی لیکن پھر بھی مسئلہ حل نہ ہوا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ نہایت ہمہ پہلو مسئلہ ہے لیکن آپریشنز ہوں یا معاہدے ،ان میں اس کے صرف ایک جزو کو ایڈریس کیا جاتا رہا۔ مثلاً یہ نظریاتی مسئلہ بھی ہے اور یہ خیال غلط ہے کہ ٹی ٹی پی کی شکل میں چند جھگڑالو قسم کے لوگ جمع ہوگئے ہیں ۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں۔ ان کا ایک مخصوص نظریہ ہے ۔ لٹریچر ہے اور لہو کو گرمانے کیلئے جذباتی ترانے ہیں۔ اسی طرح یہ ایک تزویراتی مسئلہ بھی ہے اور جب تک افغانستان کے ساتھ بات طے نہیں ہوجاتی ٹی ٹی پی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا کیونکہ ان کی ایک بڑی تعداد اور قیادت افغانستان میں ہے ۔ یوں یہ خارجہ پالیسی کا ایشو ہے ۔ اسی طرح یہ ایک معاشی مسئلہ بھی ہے ۔ اس خطے میں واراکانومی جنم لے چکی ہے اور بہت سارے لوگوں کا معاش بھی اس سے وابستہ ہے ۔ پھر یہ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے اور کسی حد تک اس میں پختون قوم پرستی کا عنصر بھی شامل ہوگیا ہے ۔ پھر یہ امن و امان کا مسئلہ بھی ہے اور انکے مقابلے میں ریاستی فورسز اور بالخصوص پولیس،سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس کی استعداد کو بھی دیکھنا ہوگا ۔

سردست تو پوزیشن یہ ہے کہ ہتھیاروں اور ٹریننگ کے لحاظ سے ٹی ٹی پی ، کے پی پولیس سے بہت آگے ہے ۔ امریکہ نے افغانستان میں جو ہتھیار چھوڑے ان کا ایک بڑا حصہ ٹی ٹی پی کے ہاتھ بھی لگ گیا ہے اور ان کے آگے ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خطے میں جو کواڈکاپٹر کے حملے ہوئے ، ان میں سیکورٹی فورسز سے زیادہ حملے ٹی ٹی پی نے کرائے ۔مذکورہ تناظر میں اگر ایسی اپروچ نہ اپنائی گئی کہ جس میں ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہو اور جس میں وفاقی اور صوبائی اداروں کا قریبی کوآرڈنیشن نہ ہو تو گورنر راج کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی ۔ میرے نزدیک بارہ اضلاع کیلئے الگ سیکرٹریٹ بنانے کا اقدام بھی نہایت فضول اقدام ہے کیونکہ دیگر اداروں کیساتھ اسکے کوآرڈنیشن میں بڑے مسائل درپیش ہوں گے ۔ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ ضلع دیر اور ضلع مردان میں بھی ٹی ٹی پی موجود ہے جبکہ وہ کسی بھی ضلع میں کارروائی کرنے کی استعداد رکھتی ہے ۔ ان حالات میں چند اضلاع کیلئےالگ انتظام کرنے اور حکومتی سائز بڑھانے کی کیا ضرورت تھی؟۔

Back to top button