ہماری دیگ لذید کیوں نہیں ہے؟

تحریر: یاسر پیر زادہ
بشکریہ: روزنامہ جنگ
نہ جانے مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہمارا حال ایک ایسے پرانے باورچی جیسا ہے جسے کھانا پکانا نہیں آتا! جب بھی ہانڈی خراب ہوتی ہے، وہ اپنی ناکامی ماننے کے بجائے کسی نئے مسالے یا برتن پر ملبہ ڈال دیتا ہے۔ کبھی وہ بالکل پھیکا پکوان بنا کر سامنے رکھ دیتا ہے تو کبھی حد سے زیادہ تیکھا، کبھی کہتا ہے کہ اصل لذت کالی مرچ کی کڑاہی سے آئیگی تو کبھی دعویٰ کرتا ہے کہ پیکٹ والے تیار مسالے سے ذائقہ بدلے گا۔ لیکن اصل مسئلہ مسالوں کا نہیں، بلکہ اسکی نیت اور توجہ کا ہے۔

ہم بھی اپنے طرزِ حکمرانی میں ہر دس پندرہ برس بعد ایک نیا ’جادوئی مسالہ‘ دریافت کرتے اور فرض کر لیتے ہیں کہ دراصل یہی وہ خرابی تھی جسکی وجہ سے ہماری ہانڈی میں لذت نہیں آئی۔ گزشتہ ایک سو بیس برس سے ہم اسی قسم کے نت نئے تجربات کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ہر ناکام تجربے کے بعد ہم دامن جھاڑ کر کھڑے ہوتے ہیں اور سینہ تان کر دعویٰ کرتے ہیں کہ منزلِ مقصود مل گئی، جبکہ حقیقت میں وہ مقصود منزل ہوتی ہے جو مقصود گھوڑے کو ملتی ہے۔

ایک سو بیس سال پہلے ہمیں اچانک یہ خیال سوجھا کہ انگریز سرکار کے دربار میں مسلمانانِ ہند کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی لہٰذا اگر ہم اپنے لیے ایک الگ سیاسی جماعت بنا لیں تو انگریز بہادر فوراً سیدھا ہو جائیگا۔ سیاسی جماعت بن گئی۔ چند سال بعد ہمیں لگا کہ اصل مسئلہ تو ہندو مسلم اتحاد کا ہے اگر ہم اور کانگریس مل کر انگریز کا مقابلہ کریں گے تو آزادی تھال میں سجی سجائی مل جائیگی، سو ہم نے لکھنؤ پیکٹ کر لیا۔ پھر نہرو رپورٹ آئی، چودہ نکات سامنے آئے اور وہ اتحاد کا خوبصورت خواب چکنا چور ہو گیا۔ پھر ہمیں الہام ہوا کہ نہیں، اصل نسخہ تو جداگانہ انتخاب کے حق میں چھپا ہے۔ جب یہ حق بھی مل گیا تو معلوم ہوا کہ دردِ سر تو جوں کا توں ہے۔ پھر خیال آیا کہ یہ چھوٹے موٹے حقوق اور آئینی ترامیم تو محض لالی پاپ ہیں، کیوں نہ ایک بالکل علیحدہ ملک کا مطالبہ ہی کر دیا جائے؟ سو ہم نے یہ جدوجہد شروع کر دی۔ مگر ابھی اس مطالبے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ 1946ء میں ہم یکدم علیحدہ ملک کے مطالبے سے تقریباً دستبردار ہو کر کیبنٹ مشن پلان قبول کرنے پر تیار ہو گئے۔ لیکن بات نہ بنی اور ہم نے باؤنڈری کمیشن کے انگریز ریڈکلف کیساتھ بیٹھ کر نقشے پر پنسل سے علیحدہ ملک کی لکیریں کھینچ ڈالیں۔

خواب کی تعبیر مل گئی۔ ایک پورا نیا ملک ہمارے ہاتھ میں آ گیا۔ تاریخ کا سب سے بڑا جغرافیائی اور سیاسی معجزہ رونما ہو گیا۔ اب ہمیں بتایا گیا کہ تمام سیاسی حساب کتاب صاف ہو چکے ہیں۔ 11 اگست 1947ء کو قانون ساز اسمبلی میں بانیٔ پاکستان نے تاریخی تقریر فرمائی کہ اس ریاست میں اب نہ کوئی ہندو ہوگا، نہ مسلمان،کم از کم سیاسی حد تک، ہر کسی کو اپنے عقیدے کے مطابق مسجد، مندر یا گرجے میں جانے کی مکمل آزادی ہوگی اور ریاست کا کسی کے ذاتی مذہب سے کوئی سروکار نہیں ہوگا۔ بات بالکل دل کو لگتی تھی لیکن ابھی ملک کو بنے دو سال بھی نہیں ہوئے تھے کہ ہمارے نابغوں کو خیال آیا کہ مسائل بہت گمبھیر ہیں، اتنی سادہ بات اور لبرل اصولوں سے کام نہیں چلے گا۔ ملک میں اتنے فرقے، اتنے زبان بولنے والے اور اتنے تضادات ہیں کہ جب تک انکو ایک مذہبی دھاگے میں نہ پرویا جائے، یہ شیرازہ بکھر جائیگا۔ لہٰذا قراردادِ مقاصد پیش کر دی گئی اور ہمیں بتایا گیا کہ اصل حاکمیت تو اللہ تعالیٰ کی ہے اور اُس کے منتخب نمائندے محض اِس تفویض کردہ اختیار کو امانت کے طور پر استعمال کرینگے۔ قراردادِ مقاصد پاس ہو گئی لیکن مسائل پھر بھی حل نہ ہوئے۔ اِس کے بعد آئین ساز اسمبلی کا تماشا شروع ہوا، سیاسی چپقلش عروج پر پہنچی، وزرائے اعظم یوں بدلنے لگے جیسے ڈرامے کے کردار۔ بالآخر 1956ء میں پہلا آئین بنا لیکن دو سال بھی نہ چل سکا اور 1958ء میں مارشل لا ہی مسائل کا حل سمجھا گیا۔ پھر ایک نیا نسخہ پیش کیا گیا جس کا نام ’بنیادی جمہوریتیں‘ رکھا گیا۔ انہوں نے اسّی ہزار بی ڈی ممبران کا ایک نظام بنایا اور فرمایا کہ اب اصل جمہوریت نچلی سطح پر آگئی ہے، اب تمام مسئلے حل ہو جائیں گے۔ اسی دوران مشرقی پاکستان کی آبادی کا وزن کم کرنے کیلئے ایک اور شاندار شاہکار ایجاد کیا گیا جس کا نام تھا ’ون یونٹ‘۔ یکایک کسی کو خیال آیا کہ 1956ء کا آئین ٹھیک نہیں بنا تھا سو ایک نیا آئین بنا کر دیکھتے ہیں لہٰذا 1962ء میں صدارتی آئین نافذ کر دیا گیا۔ لیکن نہ ون یونٹ چلمن کی لاج رکھ سکا، نہ بنیادی جمہوریتیں ملک کو بچا سکیں، اور نہ ہی 1962ء کا آئین قوم کو متحد رکھ سکا،مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی… اور بالآخر ملک ٹوٹ گیا۔

سقوطِ ڈھاکہ کے بعد جو باقی ماندہ پاکستان بچا وہاں ہم نے 1973ء کا متفقہ آئین بنایا۔ سب نے دستخط کیے، جشن منایا گیا کہ لو جی اب تو تمام مسائل کا حل نکل آیا، وفاقی پارلیمانی نظام قائم ہو گیا لیکن چار سال بعد ہی ایک صاحب اسلامائزیشن کا نیا نسخہ لے کر نازل ہو گئے۔ انہوں نے فرمایا کہ 1973ء کا آئین کیا ہے؟ چند صفحات کا کاغذ کا ٹکڑا ہے جسے جب چاہوں پھاڑ کر پھینک دوں۔ انہوں نے حدود قوانین، مجلسِ شوریٰ، غیر جماعتی انتخابات اور زکوۃ و عشر کا نظام نافذ کیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ اب پاکستان واقعی سچا اسلامی ملک بننے والا ہے جسکے بعد تمام برائیاں ختم ہو جائیں گی۔ فاسٹ فارورڈ کرتے ہیں۔ ہم نے صدارتی نظام چلا کر دیکھ لیا، پارلیمانی نظام کے ذائقے چکھ لیے، مخلوط (Mix breed) جمہوریت آزما لی، مارشل لاؤں کی سختیاں برداشت کر لیں، ون یونٹ بنا کر دیکھ لیا، صوبائی خودمختاری دے کر دیکھ لی، بنیادی جمہوریتوں کے بی ڈی ممبران دیکھ لیے، مشرف کے ناظمین دیکھ لیے، ٹیکنو کریٹ حکومتوں کی باتیں سن لیں، نگران حکومتوں کے لمبے طویل تجربے سہ لیے، اور مذہب سے لیکر لبرل ازم تک کا ہر نعرہ اور مسالا لگا کر دیکھ لیالیکن ’ذائقہ‘ پھر بھی نہ بن سکا۔

ہم اس گھر کے افراد کی طرح ہیں جو ہر بار باورچی کے بدلتے مسالوں پر آس لگا لیتے ہیں مگر ہانڈی پھر بھی بدذائقہ ہی رہتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ نئے نظام یا نعرے آزمائے نہیں گئے یا حالات میں تھوڑی بہت تبدیلی نہیں آئی، لوگوں کی زندگیوں میں بدلاؤ ضرور آیا، مگر وہ ’مثالی دیگ‘ جو ہم تیار کرنا چاہتے تھے وہ کبھی نہ بن سکی۔ اِسکی وجہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس ایک اچھا نظام یا کچن چلانے کی صلاحیت نہیں تھی۔ دنیا کے دوسرے ممالک یہی نظام چلا کر ترقی کر چکے ہیں، کہیں صدارتی نظام کامیابی سے چل رہا ہے تو کہیں پارلیمانی جمہوریت سے کام بن رہا ہے، اور تو اور آمریت اور کمیونسٹ طرزِ حکمرانی بھی ڈیلیور کر رہے ہیں۔ اصل مسئلہ نظام، آئین یا نعروں کے ان ’مسالوں‘ میں ہے ہی نہیں، اصل مسئلہ نیتوں کا فتور ہے۔ اب یہ کیسے حل ہو گا، اِس کا ذکر پھر کسی وقت!

 

Back to top button