ہنیہ کی شہادت کے بعد ایران اور اسرائیل میں خوفناک جنگ کا خدشہ

فلسطین کی عسکری تنظیم حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پہلے سے ہی تنازعات میں گھرے خطے میں مزید کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد جہاں ایران نے اسرائیل سے بدلہ لینے کا اعلان کر دیا ہے وہیں حماس اور حزب اللہ نے بھی اسرائیل کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ امریکہ نے اسرائیل کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے اپنا وزن اسرائیل کے پلڑے میں ڈال دیا ہے جس کے بعد پورے خطے میں جنگ کے گہرے بادل منڈلانے لگے ہیں جبکہ امریکی اخبار کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر نے سیکیورٹی فورسز کو اسرائیل پر حملے کا حکم دے دیا ہے۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کا اس حملے پر اسرائیل کو سخت سبق سکھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ کیونکہ اسماعیل ہنیہ کا قتل ایران میں ہوا ہے اس لیے وہ ان کے خون کا بدلہ لینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل رواں برس اپریل میں اسرائیل اور ایران اس وقت جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے جب شام میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایران کے ایک اعلیٰ کمانڈر مارے گئے تھے۔اس حملے کے بعد ایران کی جانب سے اسرائیل پر سیکڑوں ڈرون اور راکٹ فائر کیے گئے تھے جبکہ اسرائیل نے جوابی حملے میں وسطی ایران کے شہر اصفہان کے فوجی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔ تاہم اب ایک بار پھر دونوں ممالک میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔
مبصرین کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ پچھلی دہائی میں ہونے والے ایرانی جوہری سائنسدانوں کے قتل کے پیچھے بھی اسرائیل کا ہاتھ تھا لیکن یہ پہلی بار ہے کہ اسرائیل کسی ممتاز سیاسی رہنما کو نشانہ بنایا ہے۔ہنیہ کا قتل نہ صرف ایران کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہا ہے بلکہ یہ اس کی سکیورٹی ایجنسیوں کی صلاحیتوں پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ تاہم اسرائیلی میڈیا کے مطابق ہنیہ پر تہران میں قاتلانہ حملہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہاں سیکیورٹی کی ذمہ داری ایران کی تھی۔ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ چاہتی تو اسماعیل ہنیہ کو قطر میں ہی قتل کردیا جاتا لیکن اسماعیل ہنیہ کو تہران میں قتل کرنے کی 2 وجوہات تھیں۔پہلی وجہ یہ تھی کہ حماس کے سربراہ کو نشانہ بنانا تھا اور دوسرا ایران کو المیہ کا شکار کرنا تھا۔غیر ملکی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے تہران میں قتل کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ ایران اس کا جواب کیسے دیتا ہے۔
مبصرین کے مطابق اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد فوری تشویش یہ ہے کہ ایران کا ردعمل کیا ہو گا اور یہ کیا شکل اختیار کر سکتا ہے اور اس طرح کے ردعمل کا خطے میں تناؤ کا کیا مطلب ہو گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اب ایران بھی خطے میں موجود اپنی پراکسی ملیشیا کو اسرائیل پر حملوں کا کہہ سکتا ہے۔ پہلے ہی خطے کے مبصرین کا ماننا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی ایک نیا رخ اختیار کر سکتی ہے اور دونوں ممالک میں براہ راست جنگ چھڑنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق اسماعیل ہنیہ کی شہادت نے اسرائیل غزہ تنازعے میں جنگ بندی اور امن مذاکرات کی کوشش پر بہت اثر ڈالا ہے مگر کیا یہ سب خطے میں ایک ہمہ گیر جنگ کا باعث بنے گا؟ یہ کہنا مشکل ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس وقت کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا۔ لیکن جنگیں ہمیشہ سوچے سمجھے خطرات کا نتیجہ نہیں ہوتیں۔
تاہم بعض دیگر مبصرین کے مطابق اسماعیل ہنیہ اور فواد شکر کو ٹارگٹ کرنے کے بعد اب اسرائیل جنگ کو ایران تک پھیلانے اور امریکا کو شامل کرنے کی بھر پور کوشش کریگا۔اقوام متحدہ، چین، پاکستان اور دیگر ممالک کی جانب سے تشویش اور مذمت کی نہ تو اسرائیل نے پہلے کبھی پرواہ کی ہے اور نہ اب کرے گا۔
دوسری جانب سینئر تجزیہ کار اور صحافی حامد میر نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت ایران اور تمام مسلم ممالک کیلئے ٹیسٹ کیس قرار دیا ہے۔ حامد میر کے مطابق اس وقت کی اہم خبر اسماعیل ہنیہ کی شہادت ہے ان کو ایران کے شہر تہران میں شہید کیا گیا ان کی شہادت سے صرف ایران کی سیاست پر ہی اثرات مرتب نہیں ہوں گے بلکہ پورے خطے کی سیاست پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔اس وقت اہم سوال یہ ہے کہ تہران میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت کیا ایران کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے یا تمام مسلم ممالک کے کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے دیکھنا ہوگا کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت سے خطے بالخصوص پاکستان کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
