طالبان دہشت گردوں نے کے پی سی ایم گنڈاپور کاحلقہ نوگوایرا بنادیا

وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی نااہلی کی وجہ سے جہاں صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے وہیں ان کا اپنا آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان نو گو ایریا بن چکا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ڈی آئی خان میں دہشتگردی، بد امنی اور اغوا کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
سی ٹی ڈی رپورٹ کے مطابق رواں سال دہشتگردی میں سب سے زیادہ جانی نقصان ڈی آئی خان میں ہوا جبکہ قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے والے نامعلوم ہی رہتے ہیں۔
ضلع ڈی آئی خان صرف علی امین گنڈاپور ہی نہیں بلکہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور آئی جی پولیس اختر حیات گنڈاپور کا بھی آبائی ضلع ہے۔ تاہم صوبے کے حکمرانوں اور پولیس چیف کا آبائی ضلع گزشتہ کچھ عرصے سے دہشتگردوں کے نشانے پر ہے اور پرتشدد اور دہشتگردی واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ضلع میں ہونے والی اکثر شرپسندانہ کارروائیوں کا ٹارگٹ سکیورٹی ادارے اور پولیس ہوتی ہے۔تاہم پولیس کی نااہلی کی وجہ سے نامعلوم دہشتگرد واقعے کے بعد فرار ہو جاتے ہیں اور کوئی پکڑا نہیں جاتا۔
صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سی ٹی ڈی کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال دہشتگردی کے واقعات میں سب سے زیادہ ہلاکتیں وزیر اعلیٰ، گورنر اور آئی جی کے آبائی ضلعے ڈی آئی خان میں ہوئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق رواں برس دہشتگردی کے سب سے زیادہ واقعات ڈی آئی خان میں پیش آئے جن میں 56 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 75 زخمی ہوئے۔ڈی آئی خان میں ہر ہفتے 2 افراد دہشتگردی کے باعث زندگی ہار جاتے ہیں۔سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں رواں سال کے ابتدائی 7 ماہ میں ڈی آئی خان میں دہشتگردی سے پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 56 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔رپورٹ کے مطابق ضلعے میں ہر ہفتےاوسطاً 2 افراد مارے جاتے ہیں جو دیگر اضلاع کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ ان واقعات میں فائرنگ، دھماکے اور حملے شامل ہیں۔
مبصرین کھ مطابق حکومتی نااہلی کی وجہ سے ڈی آئی خان سمیت جنوبی اضلاع اس وقت دہشتگردی کی لپیٹ میں ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایف سی اور پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا گیا اور پھر ان کی سر کٹی لاشیں ملیں جس سے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑگئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر زیر گردش ہیں کہ رات کو نامعلوم غول نکلتے اور گشت کرتے ہیں اور ویڈیوز بھی بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی افراد اس صورتحال پر پریشان ہیں۔ شام ہوتے ہی ان لوگوں کا راج شروع ہو جاتا ہے لیکن حکام اسے تسلیم کرنے یا اس پر بات کرنے پر تیار نہیں ہیں۔
ڈی آئی خان اور دیگر جنوبی اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں لیکن صوبائی حکومت اس پر کھل کر بات نہیں کرتی۔
ڈی آئی خان میں اہم عہدے پر فائز رکھنے والے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈی آئی خان گزشتہ کچھ عرصے سے دہشتگردوں کے نشانے پر ہے۔ ان کے مطابق کولاچی سمیت کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں طالبان کی واضح موجودگی دیکھی جاسکتی ہے اور بظاہر وہی گروپ اس طرح کے واقعات میں ملوث ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ گروپس اغوا برائے تاوان میں بھی ملوث ہے جبکہ یہ گروہ پولیس اور دیگر اداروں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔افسر نے بتایا کہ افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقوں کی نسبت ڈی آئی خان میں دہشتگردی زیادہ ہے جس کی بڑی وجہ وہاں موجود مقامی طالبان کمانڈرز اور گروپس ہیں جن کی اپنے مضبوط ٹھکانوں کی وجہ سے وہاں پوری گرفت ہے۔سرکاری افسر نے بتایا کہ آرمی پولیس اور سی ٹی ڈی مشترکہ آپریشن کرتی ہے اور کئی اہم دہشتگردوں کا خاتمہ بھی کیا گیا ہے لیکن انہیں مکمل طور پر ان علاقوں سے ختم نہیں کیا جاسکا جو حکومت کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ موجود حالات میں ذمے دار ادارے بھی الرٹ ہیں اور ٹارگیٹڈ آپریشن کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
