اچھا ہوا چیف جسٹس گلزار احمد سابق ہو گئے

سابق چیف جسٹس گلزار احمد کی ریٹائرمنٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی انصار عباسی نے کہا ہے کہ بڑے عہدے دراصل ان کے لیے آزمائش ہوتے ہیں اور اسی بنا پر اُن کے بارے میں فیصلہ تاریخ کرتی ہے کہ کون کیا تھا، کس نے بڑے عہدہ کی توہین کی، کون عہدے کے نشے میں مغرور ہو گیا اور کس نے اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کیے۔
انصار عباسی نے کہا کہ چیف جسٹس گلزار احمد ریٹائر ہو گئے۔ اُن کا دور کیسا تھا، انہون نے کیسے فیصلے کیے، عدلیہ اور نظامِ عدل میں کیا بہتری لائے، اس پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے لیکن ابھی صرف اتنا کہنا ہی کافی ہو گا کہ اچھا ہوا جسٹس گلزار ریٹائر ہو گئے۔اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ امید ہے کہ نئے چیف جسٹس اپنے لیے گلزار احمد سے بہتر تاریخ چھوڑ کر جائیں گے۔
بدقسمتی سے گزشتہ چند ایک چیف جسٹس ایسے گزرے کہ اُن کے بارے میں عوامی رائے کچھ اچھی نہ تھی۔ ان سابق چیف جسٹس صاحبان کا اپنے بارے میں کیا خیال تھا یہ بات معنی نہیں رکھتی، اہم بات یہ ہے کہ عوام اُن کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور تاریخ اُن کے بارے میں کیا لکھے گی۔ نئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حلف اُٹھاتے ہی فرمایا ہے کہ عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید جائز لیکن ججوں کو بدنام کرنے والے ہمارے ایکشن سے پہلے سوچ لیں۔
اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام عدالتوں کو پرفارمنس آڈٹ کرنا ہو گا تاکہ کمزوریوں کی نشاندہی ہو سکے اور اصلاحات کے ذریعے مقدمات کو جلد نپٹایا جا سکے۔ اللّٰہ کرے ایسا ہی ہو۔ پاکستان کے عدالتی نظام کی حالت بہت خراب ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری عدلیہ کی، دنیا میں بھی آخری پوزیشنز میں سے ایک ہے۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ حال ہی میں ٹرانسرپرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے ہماری عدلیہ کو دوسرا کرپٹ ترین ادارہ قرار دیا ہے۔ عوام سے بات کریں تو عدلیہ کے بارے میں یہ شکایت عام ہے کہ عدالتیں دہائیوں میں فیصلے کرتی ہیں، جلد اور سستا انصاف محض ایک خواب اور نعرہ ہے، جسے ممکن بنانے کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں لیکن عملاً ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔ وکلاء تحریک کے وعدے اور خواب بھی ادھورے کے ادھورے رہ گئے بلکہ اس تحریک کے بعد انصاف کا حصول بہت ہی مہنگا ہو گیا۔
یعنی جن کے پاس پیسہ ہو گا وہی انصاف کے لیے مہنگے وکیل کر سکتے ہیں جبکہ غریب اور مستوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے تو عدالتی کارروائی کا سن کر ہی مایوس ہو جاتے ہیں کیوں کہ نہ تو اُن کے پاس مہنگے وکیل کرنے کے لیے پیسہ ہوتا ہے اور نہ ہی اُنہیں امید ہوتی ہے کہ انہیں انصاف ملے گا۔
عدالت میں تو جانے سے لوگ ڈرتے ہیں کہ نجانے کیس کتنا لمبا چلے، کتنا پیسہ خرچ ہو۔ تاریخوں پر تاریخیں، سٹے آرڈرز، مہنگے وکیل، فیصلہ برسوں، دہائیوں بعد اور جب فیصلہ ہو جائے تو عمل درآمد کرانا ایک نئی مصیبت، ایک نئی مشکل۔
میر شکیل الرحمن کی بریت کو چیلنج کرنے کیلئے مسودہ تیار
انصار عباسی کا کہنا ہے کہ کہ پاکستان کا عدالتی نظام ظالم اور کرپٹ کو زیادہ سوٹ کرتا ہے جبکہ مظلوم اور عام شہری عدالت کا نام سن کر ہی ڈر جاتا ہے۔ نئے چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ عوام کے اس خوف، اس ڈر کو دور کرنے کے لیے عدالتی نظام میں بنیادی اصلاحات کا آغاز کریں، انصاف کو سستا بنانے کا رستہ نکالیں، برسوں دہائیوں تک مقدمات کے لٹکائے جانے کے رواج کو بدلیں۔ انکا کہنا یے کہ عدلیہ کو اپنی خامیوں کو کھلے دل سے تسلیم کر کے اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ عدلیہ کا عوام میں اعتماد بحال ہو۔
یہ اہم نہیں کہ جج حضرات عدلیہ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ دوسرے عدلیہ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، عوام کو کیا عدلیہ پر اعتماد ہے بھی کہ نہیں!! ماضی میں دیکھا کہ کچھ چیف جسٹس حضرات نے جب عدلیہ کا سب سے اہم عہدہ سنبھالا تو اُن کا رویہ سخت ہو گیا، وہ عدالت میں پیش ہونے والوں کو بے عزت کر کے خوشی محسوس کرنے لگے، اُن کے فیصلوں میں ضد، غصہ اور عناد واضح نظر آنے لگی۔
انصاف کے نام پر ناانصافی کے فیصلہ دیے جانے لگے جس نے عدلیہ کو مزید بدنام کر دیا۔ انصار عباسی نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئے چیف جسٹس ایسے تمام رویوں کی حوصلہ شکنی کریں گے تاکہ اپنے لیے بہتر تاریخ چھوڑ کر جا سکیں اور یہ کہنے کی نوبت نہ آئے کہ اچھا ہوا موصوف چلے گئے۔
