روزنِ دیوار سے…

تحریر: عطا ء الحق قاسمی
بشکریہ : روزنامہ جنگ
میں سگریٹ نوشی سے عاجز آچکا ہوں اور خود کو تسلی دینے کیلئےاس حوالے سے سگریٹ نوشوں نے جو لطیفے گھڑے ہوئے ہیں وہ اپنے ہمدردوں کو سنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہوں کہ سگریٹ ایک بے ضرر سی چیز ہے۔اس حوالے سے میں اپنے مرحوم بھائی جان ضیاء الحق قاسمی کا وہ واقعہ نما لطیفہ ضرور سناتا ہوں جسکے مطابق بھائی جان کو جب دل کا دورہ پڑا اور وہ اسپتال میں داخل تھے، ڈاکٹروں نے انھیں سختی سے کہا کہ اگر انھوں نے سگریٹ نہ چھوڑے تو انکی زندگی کی ضمانت نہیں دی جا سکے گی۔ مگر ایک روز جب انھیں سگریٹ کی بہت زیادہ طلب ہوئی تو وہ آئی سی یو سے باہر آئے ، لفٹ خراب ہونے کی وجہ سے تین منزل نیچے سیڑھیوں سے اتر کر سگریٹ کی تلاش میں نکلے اور کافی دور جا کر انکی نظر ایک پان سگریٹ کی دکان پر پڑی ۔ اس سے تین سگریٹ خریدے اور بڑے سکون سے ان کے لمبے لمبے کش لگانے کے بعد واپس سیڑھیاں چڑھ کر آئی سی یو میں پہنچےاور بیڈ پر لیٹ گئے ۔ اتنی دیر میں ڈاکٹر آیا تو کچھ بتائے بغیر گھبراہٹ کے عالم میں ڈاکٹر نےکہا کہ ان کا بی پی چیک کریں۔ ڈاکٹر نے بی پی چیک کرنے کے بعد کہا’’ ضیاء صاحب آج آپ کی حالت بہت بہتر ہے، پرہیز اسی طرح جاری رکھیں “۔ اب میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ ظرافت کے ایڈیٹر اور لاجواب فکاہیہ شاعر اور قہقہوں سے بھری ثقافت کے حامل ضیاء الحق قاسمی نے یہاں بھی ظرافت کی پھلجھڑیاں چھوڑی ہوں گی کہ بڑے بھائی کے حوالے سے چھوٹا بھائی یہ جسارت کیسے کر سکتا ہے؟ تاہم حقیقت یہی ہے کہ سگریٹ کے اثرات بھگت رہا ہوں مگر میں تو کئی دفعہ اس لعنت سے چھٹکارا پانے کی کوشش کر چکا ، تین چار دفعہ میں نے سارا سٹاک سامنے رکھ کر اس پر پٹرول پھینکا اور پھر تیلی جلا کر اس پر پھینک دی اور اسے خس و خاشاک میں تبدیل کر دیا ، مگر اگلے ہی دن ڈرائیور سے پوچھا تھا یار کوئی ایک آدھ سگریٹ ہے؟“ایک بار میں نے سوچا کہ اس شعبے کے ممتاز طبیب ڈاکٹر صداقت علی سے مشورہ بلکہ علاج کراؤں ۔ مجھے میرے بیٹے نے ان کے پاس جانے کیلئے کہا تھا۔ چنانچہ میں اس مہربان شخصیت کے پاس گیا اور وہاں جا کر حیران رہ گیا کہ جس بڑی عمارت میں ان کا سیٹ اپ تھا ، وہاں نشے کے عادی مریض بھی مختلف کمروں میں رکھے گئے تھے۔ میرا خیال تھا کہ نشے کی عادت پوری نہ ہونے کی صورت میں ان کی چیخ و پکار سنائی دیتی ہو گی مگر وہاں سناٹا ہی سناٹا تھا۔ میں نے سوچا ان کا پراپر علاج ہوتا ہوگا ، ان کو عقل آگئی ہوگی اور یا پھر (از راہِ تفنن ) ان کے کمرے ساؤنڈ پروف ہوں گے۔ ڈاکٹر صاحب بڑی محبت سے ملے۔ میں نے انھیں کونسلنگ کیلئے نہیں کہا کہ اس موضوع پر میں خود کسی عادی سگریٹ نوش کی کونسلنگ کر سکتا ہوں اور یہاں داخل ہونے کا نہ انھوں نے کہا نہ میرا ایسا کوئی ارادہ تھا۔ بس کافی دیر تک بہت اچھی گپ شپ کی اور چائے پی کر خیر سے بدھو گھر کو لوٹے ۔ میں نے اس موذی سگریٹ نوشی سے جان چھڑانےکیلئے کیا کیا جتن کیے، یہ داستان بھی ہے۔ ان میں سے ایک جتن یہ بھی تھا کہ جن دوستوں کی سگریٹ نوشی کی ’کفالت‘ ایک عرصے سےمیرے ذمے تھی میں نے کوشش کی کہ اب وہ میری کفالت شروع کریں۔ چنانچہ میں نے ان سے سگریٹ مانگ کر پینے شروع کیے۔ یہ سلسلہ صرف چند روز چل سکا۔ ان میں سے ایک دوست جو پیکٹ میں صرف ایک سگریٹ اور باقی مختلف جیبوں میں رکھتا تھا ، وہ پیکٹ میں سے ایک سگریٹ نکال کر خالی پیکٹ پھینک دیتا تھا اور یوں تاثر دیتا تھا کہ سگریٹ کے حوالے سے اب وہ کنگال ہو گیا ہے۔ ایک اور دوست اس سے بھی دانا تھا ، وہ ایک سگریٹ نکال کر باقی پورا پیکٹ پھینک کر یہ تاثر دیتا تھا کہ اب اس کے پاس کچھ نہیں رہا اور جاتی دفعہ ادھر ادھر دیکھ کر وہ خالی پیکٹ اٹھا کر دوبارہ جیب میں رکھ لیتا تھا مگر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی ؟ پول تو ایک دن کھلنا ہی ہوتا ہے ، سو ان دونوں کی اسٹرٹیجی کا سب کو پتہ چل گیا اور اس کے بعد ان دونوں کو’گیدڑ کٹ‘ لگائی گئی۔ ’’گیدڑ کٹ“ کے دوران ملزم پر کمبل ڈال دیا جاتا ہے اور پھر سب باری باری اس پر طبع آزمائی کرتے ہیں اور چونکہ وہ ضرب لگانے والوں کو دیکھ نہیں سکتا لہٰذا اس موقع پر پرانی دشمنیاں بھی نکالی جاتی ہیں۔اب اس صورتحال کو حکومت نے مزیدسنگین بنا دیا ہے۔ متذکرہ صورتحال کے بعد سے مجبوراً اپنی جیب سے خریدتے ہوئے سگریٹ پینا پڑ رہے تھے۔ سگریٹ کا جو پیکٹ تین سو میں ملتا تھا ، اب حکومت نے اس کی قیمت پانچ سو کر دی ہے۔ اب ہم جیسے مسکین لوگ جو سگریٹ چھوڑنا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے بارہا پرخلوص کوششیں بھی کر چکے ہیں، مگر اب تو مرے کو مارے شاہ مدار والی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ اس کے باوجود میں سگریٹ کی مہنگائی سے خوش ہوں بلکہ حکومت سے مطالبہ کروں گا کہ وہ چار گنا زیادہ مہنگے کرے تا کہ میری کوششیں عملی صورت اختیار کر سکیں ۔ بس اس حوالے سے شرط یہ ہے کہ پیسہ حکومت کے پاس جائے ، لٹیرے، بلیک میلرز اور ذخیرہ اندوزوں کی جیب میں نہیں۔ میں اس کالم کا اختتام کرنے ہی کو تھا کہ ایک خوفناک قسم کا سگریٹ نوش میرے پاس آیا اور پوچھا ’’کیا لکھ رہے ہو؟‘‘میں نے بتایا تو بولا’تمھیں پتہ ہے کہ ماسکو میں فیض صاحب کی وفات کا کیا سبب تھا؟‘ میں نے کہا نہیں ، جس پر اس بقراط نے کہا ’اس لیے کہ روسی ڈاکٹروں نے فیض صاحب کے سگریٹ اور وسکی دونوں پر پابندی عائد کر دی تھی جو ان کے جسم کی کیمسٹری میں شامل تھے۔ بس اس کے بعد ان کی وفات کا افسوسناک واقعہ پیش آیا‘۔اس من مانی توجیہ پر صرف ہت تیری ہی کہا جا سکتا ہے۔

 

Back to top button