کاش آصفہ بی بی وزیراعلیٰ سندھ ہوتیں!

تحریر: عرفان صدیقی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جو صرف شخصیات نہیں بلکہ ایک پورے عہدکی پہچان ہیں۔ بھٹو خاندان بھی انہی میں سے ایک ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کے غریب اور محروم لوگوں کو آواز دی، انہیں اپنے حقوق کیلئے کھڑا ہونا سکھایا اور اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہ کیا۔ انہوں نے عوام کے حق اور جمہوریت کیلئے اپنی جان گنوا دی، مگر اپنے نظریے اور مؤقف سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹے۔ پھر محترمہ بینظیر بھٹو آئیں، جنہوں نے اپنے والد کی سیاسی میراث کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اسے نئی زندگی دی۔ انہوں نے جیلیں کاٹیں، جلاوطنی برداشت کی، دھمکیوں کا سامنا کیا، لیکن اپنے عوام کا ساتھ نہ چھوڑا۔ وہ جانتی تھیں کہ وطن واپسی خطرناک ہو سکتی ہے، مگر انہوں نے پاکستان اور اپنے لوگوں سے محبت میں شہادت کو بھی قبول کر لیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی وہ لاکھوں دلوں میں امید، قربانی اور عوامی محبت کی علامت ہیں۔آج بھٹو خاندان کی نئی نسل سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور بطور وزیر خارجہ کئی اہم مواقع پر پاکستان کو شاندار سفارتی کامیابیاں دلائیں۔ انہوں نے عالمی فورمز پر پاکستان کا مؤقف اعتماد اور دانشمندی سے پیش کیا اور ایک ذہین، پڑھے لکھے اور دور اندیش رہنماکے طور پر اپنی پہچان بنائی۔ کم عمری میں سیاسی پختگی، مدلل گفتگو اور عالمی امور پر گہری نظر نے انہیں ملک کے نمایاں نوجوان سیاست دانوں میں شامل کر دیا ہے۔ دوسری طرف آصفہ بھٹو زرداری بھی عوام میں مقبول دکھائی دیتی ہیں اور ان میں لوگوں کو بی بی کی جھلک نظر آتی ہے۔ لیکن ایک سوال اکثر ذہن میں آتا ہے کہ کیا سندھ، خاص طور پر کراچی، زیادہ توجہ کا مستحق نہیں؟ اور پھر ایک خیال دل میں جنم لیتا ہے، کاش آصفہ بھٹو زرداری وزیراعلیٰ سندھ ہوتیں۔کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ یہ شہر ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے، صنعتوں کا مرکز ہے اور لاکھوں لوگوں کے خوابوں کا شہر ہے۔ لیکن افسوس کہ آج اس کے شہری پانی کی قلت، جرائم، ٹوٹی سڑکوں، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اگر آصفہ بھٹو زرداری وزیراعلیٰ ہوتیں تو شاید وہ ان مسائل کو صرف سرکاری فائلوں کا حصہ نہ سمجھتیں بلکہ عوام کا درد سمجھ کر ان کے حل کیلئے میدان میں اترتیں۔شاید انکی پہلی ترجیح کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم کا خاتمہ ہوتا۔ اس شہر میں ایک باپ اپنے بیٹے کے گھر واپس آنے تک پریشان رہتا ہے اور ایک ماں ہر دستک پر چونک جاتی ہے۔ روزانہ موبائل فون اور موٹر سائیکلیں چھینی جاتی ہیں اور مزاحمت کرنے والے کئی لوگ اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں۔ ممکن ہے وہ پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی طرز پر سندھ میں بھی ایک جدید فورس قائم کرتیں جس سے شہریوں کو تحفظ کا احساس ہوتا اور جرائم پیشہ افراد کے دلوں میں قانون کا خوف پیدا ہوتا۔پھر پانی کا مسئلہ آتا۔ سمندر کے کنارے آباد یہ شہر آج بھی پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترس رہا ہے۔ لاکھوں لوگ ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں۔ شاید آصفہ بھٹو نئی واٹر اسکیمیں شروع کرتیں، پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتیں اور ٹینکر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرتیں۔ ممکن ہے وہ سڑکوں، سیوریج اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کیلئے بڑے منصوبے شروع کرتیں تاکہ کراچی ایک جدید شہر کی شکل اختیار کر سکے۔شاید ان کی سب سے بڑی کامیابی سندھ کے سرکاری اداروں میں موجود کرپشن اور فرسودہ نظام کے خلاف جنگ ہوتی۔ آج ایک عام شہری اپنے جائز کام کیلئے بھی سرکاری دفاتر کے چکر لگاتا ہے، سفارش ڈھونڈتا ہے اور بعض اوقات رشوت دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اگر آصفہ بھٹو وزیراعلیٰ ہوتیں تو ممکن ہے وہ میرٹ، شفافیت اور جدید ای گورننس کا ایسا نظام متعارف کراتیں جہاں عام آدمی کو اپنے حق کیلئے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑتا۔صحت، تعلیم اور بلدیاتی نظام بھی انکی ترجیحات میں شامل ہوتے۔اگر کراچی کے مسائل ایک ایک کرکے حل ہونے لگتے، اگر شہری خود کو محفوظ اور پُرامید محسوس کرتے اور اگر سندھ شفاف طرزِ حکمرانی اور ترقی کی مثال بن جاتا تو اس کا سیاسی فائدہ بھی یقیناً پاکستان پیپلز پارٹی کو ملتا۔ ایک خوشحال سندھ اور ایک پرامن کراچی بلاول بھٹو زرداری کیلئے وزیراعظم ہاؤس کی راہ ہموار کر سکتا تھا، کیونکہ عوام آخرکار نعروں سے زیادہ کارکردگی کو یاد رکھتے ہیں۔یہ سب شاید ایک تصور اور ایک سیاسی خواب ہے، لیکن بڑے خواب ہی بڑی تبدیلیوں کو جنم دیتے ہیں۔ کاش آصفہ بھٹو زرداری وزیراعلیٰ سندھ ہوتیںتاکہ کراچی کی ماؤں کی آنکھوں میں خوف نہ ہوتا، پانی کیلئے قطاروں میں کھڑے لوگوں کی پریشانی ختم ہو جاتی، نوجوانوں کے چہروں پر امید لوٹ آتی اور یہ شہر، جو پورے پاکستان کی معیشت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے، خود بھی امن، ترقی اور خوشحالی کی نئی مثال بن جاتا۔

 

Back to top button