جنرل ریٹائیرڈ ندیم انجم کو نیشنل سیکیورٹی ایڈوائیزر لگانے کا امکان

تین برس تک پاکستان آرمی کی طاقتور ترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ رہنے والے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم 29 ستمبر 2024 کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تاریخ کا حصہ بننے نہیں جا رہے، اب یہ اطلاعات ہیں کہ انہیں شہباز شریف حکومت نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کے عہدے پر تعینات کرنے جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں معید یوسف کو امریکہ سے بلا کر اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا، لیکن عمران حکومت کے خاتمے کے بعد سے یہ عہدہ خالی پڑا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ندیم انجم کو نیشنل سیکیورٹر ایڈوائزر کی ذمہ داری ملتی ہے تو اس میں بنیادی کردار نواز شریف اور مریم نواز کا ہو گا۔
لیفٹینینٹ جنرل ندیم انجم کے سبکدوش ہونے کے بعد ان کی جگہ لیفٹینینٹ جنرل عاصم ملک نے 30 ستمبر کو عہدہ سنبھال لیا ہے۔ تین برس تک ڈی جی آئی ایس آئی رہنے والے ندیم انجم کو 20 نومبر 2021 کو اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں تب کیا آرمی چیف جنرل قمر باجوا اور وزیر اعظم عمران خان کے مابین اختلافات پیدا ہو گئے تھے جو پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے پر منتج ہوئے۔ ندیم انجم نے گذشتہ برس ستمبر میں سبکدوش ہونا تھا لیکن 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر یوتھیوں کے حملوں کے باعث انکے عہدے کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی تھی۔
گذشتہ تین سال کو پاکستان میں سیاسی اتار چڑھاؤ کے عرصہ کے طور دیکھا جاتا ہے، جس دوران ملک میں عام انتخابات جیسے بڑے سیاسی عمل کے علاوہ بڑی بڑی سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی وزیراعظم کے ماتحت ہوتا ہے اور اس عہدے کے لیے انتخاب بھی ملک کے چیف ایگزیکٹیو یعنی وزیر اعظم کو ہی کرنا ہوتا ہے۔ ندیم انجم کی ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر تعیناتی کے وقت ہی عمران خان حکومت نے اعلامیہ جاری کرنے کے معاملے کو طول دے دیا تھا۔ تاہم اگلے برس ملکی تاریخ کی پہلی کامیاب تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں وزیراعظم عمران خان اپنے منصب سے اتار دیے گئے۔ پھر مرکز میں تیرہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت بنی، جب کہ رواں برس فروری کے عام انتخابات کے نتیجے میں اسی اتحاد کی حکومت دوبارہ بنی البتہ اس میں فضل الرحمٰن کی جعمیت علمائے اسلام جماعت شامل نہیں ہے۔ عام انتخابات کے بعد سے وہ حکومت کے بڑے ناقد کے طور پر بھی سامنے آئے ہیں اور دوبارہ شفاف انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ مولانا کی جماعت کے تمام امیدواروں کو تحریک انصاف کے امیدواروں کے ہاتھوں شکست ہوئی، لیکن وہ پھر بھی انتخابات میں دھاندلی کا الزام اتحادی جماعتوں پر عائد کرتے ہوئے اس عمران خان کے ساتھ کھڑے ہو چکے ہیں جو ماضی میں انہیں فضلو اور مولانا ڈیزل کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور حکومت جانے کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے فوجی قیادت اور انٹیلجنس ایجنسی کے سربراہ پر عمران کے قتل کی سازش جیسے الزامات بھی لگائے گئے اور تنقید بھی کی گئی لیکن انہیں پھر بھی ایک برس کی توسیع مل گئی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بہت سے آئی ایس آئی کے سربراہ آئے اور گئے لیکن ان میں چار ادوار ہمیشہ یاد رکھیں جائیں گے۔ ایک احمد شجاع پاشا کا دور، جس میں ایبٹ آباد کا آپریشن ہوا تھا اور سینئیر صحافی سلیم شہزاد کا قتل ہوا۔ دوسرا لیفٹینینٹ جنرل ظہیر الاسلام کا دور تھا جس میں 2014 کا عمرانی دھرنا ہوا اور سینئیر صحافی حامد میر کو گولیاں ماری گئیں، تیسرا لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید کا دور تھا جس میں 2018 کے دھاندلی سے بھرپور انتخابات ہوئے اور چوتھا دور لیفیٹینینٹ جنرل ندیم انجم کا تھا جس میں 2024 کے عام انتخابات ہوئے، 9 مئی کے حملے ہوئے اور عمران خان گرفتار ہوئے۔
لیفٹینینٹ جنرل ندیم انجم کے تین سال کا عرصہ چیلنجز سے بھرپور رہا اور انہیں جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا وہ حکومت کی تبدیلی کا تھا، جس کی بعد ازاں انہوں نے وضاحت بھی دی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ تحریک انصاف نے حکومت کی تبدیلی کے بعد فوج اور انٹیلجنس ادارے کے سربراہ کے خلاف بہت شدید پروپیگنڈا کیا تھا۔ ان حالات واقعات کے تناظر میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئی ایس آئی کے کسی سربراہ کو ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ سامنے آ کر پریس کانفرنس کرنا پڑی تھی۔ اس پریس کانفرنس میں یہ اعتراف بھی کیا گیا کہ پراجیکٹ عمران خان آئی ایس آئی کا منصوبہ تھا، جس پر انہیں اب ندامت ہے۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے اقتدار میں آئے تھے اور پھر بعد میں جس ادارے کی مدد سے اقتدار حاصل کیا انہی کے خلاف ہو گئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بیرونی طور پر دیکھا جائے تو ان تین سالوں میں جو ایک بڑا چیلنج تھا وہ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد مغربی سرحد پر سکیورٹی حالات تھے۔ مغربی سرحد کی وجہ سے ملک میں سکیورٹی صورت حال دوبارہ بگڑنی شروع ہوئی، جس سے نمٹنے کی بھی حکمت عملی اختیار کی گئی۔
دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ ندیم انجم کا تین سال کا دور بمپی رہا۔ جب انہوں نے ڈی جی آئی ایس کا عہدہ سنبھالا اس وقت پاکستان کو تین چیلنجز کا سامنا تھا۔ ’ایک تو داخلی سکیورٹی کا سامنا تھا، دوسرا معاشی ایمرجنسی تھی جب کہ تیسرا سرحدوں پر بڑھتی ہوئی مشکلات تھیں۔ اس دور میں پہلی مرتبہ اس سال جنوری میں ایران نے بلوچستان میں مبینہ ’جیش العدل‘ کے ٹھکانوں کو ’میزائل اور ڈرون‘ سے نشانہ بنایا تھا۔ ایران سے ملحقہ ضلع پنجگور میں کیے جانے والے حملے میں دو بچیوں کی موت ہوئی تھی۔ اس حملے کا پاکستان نے جواب بھی دیا تھا۔ پاکستان کے لیے خصوصاً افغانستان اور ایران کے بارڈر پر چیلنجز بڑھے تھے اور ان سے نمٹنے کے لیے اہم اور اضافی اقدامات کی ضرورت تھی، جن کے باعث ادارہ عوامی سطح پر زیر بحث بھی آیا اور اس پر تنقید بھی ہوئی۔ کبھی لاپتہ افراد کے معاملے پر تنقید ہوئی تو کبھی ایک سیاسی جماعت پر کریک ڈاؤن کے حوالے سے ادارے کو زیر عتاب لایا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی کے دور کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو داخلی اور بیرونی معاملات ایک بہتر تقسیم ہو گی۔ داخلی طور پر سیاسی معاملات کی وجہ سے ڈی جی آئی ایس آئی سیاسی صورت حال میں مصروف رہے ہیں کیونکہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ان کو متنازع کرنے کی کوشش کی تھی۔ بلکہ ادارے کے اندر کے کچھ لوگ جیسے کہ لیفٹینینٹ جنرل (ر) فیض حمید نے بھی انہیں متنازع بنانے کی کوشش کی۔ ادارے کی اندر کے کچھ لوگ اور ریٹائرڈ فوجی افسران بھی مشکلات پیدا کر رہے تھے۔ داخلی سطح پر بلوچستان کا معاملہ بھی چیلنجنگ رہا، جب کہ نو مئی کا واقعے نے بھی ادارے کے لیے مشکل صورت حال کو جنم دیا، جس میں حاضر سروس اعلی فوجی افسران اور ان کے اہل خانہ بھی ملوث نکلے تھے۔اس کے علاوہ پاکستان امریکہ تعلقات کی بحالی میں بھی ڈی جی آئی ایس آئی کی حکمت عملی کا کردار اہم رہا، جب کہ غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کارروائی اور انہیں واپس بھیجنا ایک سخت فیصلہ تھا لیکن انہوں نے اس پر بھی عمل درآمد کروایا۔
مختصر یہ کہنسبکدوش ہونے والے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل ندیم انجم نے یقیناً بہت کٹھن حالات میں کمان سنبھالی اور یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ فیک نیوز اور پروپیگنڈا کا سب سے زیادہ شکار وہ اور موجودہ آرمی چیف رہے۔ ندیم انجم کے لیے مختلف سمتوں سے محاذ کھلے تھے، جن میں اندرونی و بیرونی تمام مشکلات ترجیحی بنیادوں پر حل کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ سوشل میڈیا پر شدید ترین مہم بھی ان کے ہی خلاف چلائی گئی، جس کا انہوں نے یہ کہہ کر جواب دیا کہ میرا فوکس اس ذمہ داری پر ہے، جو پاکستان کے لوگوں کی جانب سے دی گئی ہے اور یہ ذمہ داری بہت اہم ہے اس لیے میرے پاس پروپیگنڈا پر دھیان دینے کا وقت نہیں۔
