حکومت کا تحریک لبیک کو کالعدم جماعت قرار دینے پر غور

تحریک لبیک کی جانب سے پرتشدد احتجاج، پولیس والوں کے قتل اور سعد رضوی کے گھر سے کروڑوں روپے کی مشکوک رقم برآمد ہونے کے بعد وفاقی حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت تحریک لبیک کو کالعدم قرار دے کر پابندی لگانے کیلئے صلاح مشورہ شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کے رولز 11 بی کے تحت تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگر وفاقی حکومت ٹی ایل پی کو کالعدم جماعت قرار دینے کا حتمی فیصلہ کر لیتی ہے تو پنجاب حکومت پابندی کی سفارش پر مبنی ایک سمری وفاقی حکومت کو بھیجے گی۔
یاد رہے کہ عمران خان کی حکومت نے تحریک لبیک کی جانب سے پرتشدد مظاہروں میں 5 پولیس والوں کی شہادت کے بعد اس پر پابندی عائد کرتے ہوئے اسے ایک کالعدم جماعت قرار دے دیا تھا۔ لیکن جب اس پابندی کے خلاف ملک بھر میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تو عمران حکومت نے یوٹرن لیتے ہوئے نومبر 2021 میں تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔ لہذا دیکھنا یہ ہے کہ کیا پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کا رسک لے گی یا نہیں۔
ادھر وفاقی حکومت نے تحریک لبیک کے پرتشدد احتجاج کے دوران ایک پولیس والے کے قتل کے بعد یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ریاست کی رٹ قائم کی جائے گی اور ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی سمیت دیگر مرکزی قائدین کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت قتل کا مقدمہ چلایا جائے گا۔ ریاست نے فیصلہ کیا ہے کہ اب انتہا پسند مذہبی عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی اور قانون میں ہاتھ لینے والوں پر قانونی ہاتھ ڈالا گا۔ اسی لیے پنجاب پولیس نے تحریک لبیک کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت بڑی کارروائی کرتے ہوئے جماعت کے دفاتر، سٹورز اور رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کارروائی میں سعد رضوی کے گھر سے بھاری مقدار میں نقدی، سونا، قیمتی گھڑیاں، غیر ملکی کرنسی، اسلحہ اور حساس نوعیت کا ڈیجیٹل مواد برآمد ہوا ہے جس کی مالیت کم از کم 62 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔ پولیس حکام نے تحریک لبیک کے زیر انتظام چلنے والی مسجد رحمت اللعالمین کو بھی سیل کرتے ہوئے اس کا کنٹرول حاصل کر کیا ہے اور وہاں سے بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کیا ہے۔
تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی اور انکے بھائی کہاں ہیں؟
پولیس کے مطابق، سعد رضوی کے گھر سے 11 کروڑ 44 لاکھ روپے پاکستانی کرنسی، 6 کروڑ 34 لاکھ روپے مالیت کا سونا اور 898 گرام چاندی برآمد ہوئی ہے، اسکے علاوہ ہر طرح کی غیر ملکی کرنسی بشمول بھارتی، امریکی یورپی، سعودی، برطانوی، ہانگ کانگ، کینیڈین، یو اے ای، ملیشین، اور عراقی کرنسی شامل ہے، برآمد شدہ غیر ملکی کرنسی کی مجموعی مالیت 50 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔
اس کے علاوہ اسلحہ، لیپ ٹاپس، موبائل فونز، ہارڈ ڈرائیوز، سوشل میڈیا ڈیٹا، پارٹی لٹریچر، چندہ رجسٹر، تنظیمی مواد اور حساس ویڈیوز بھی قبضے میں لی گئیں۔ اس کارروائی میں سی ٹی ڈی، ایس پی آپریشنز، مقامی تھانے کی ٹیمیں اور مجسٹریٹ شامل تھے، جنہوں نے ضبط شدہ سامان کی نگرانی کی۔ فرانزک ٹیم کو ریکارڈ کی جانچ کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ تمام تر کارروائی حساس انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی۔ برآمد ہونے والی کرنسی اور دیگر قیمتی چیزوں کو انسدادِ دہشت گردی قوانین اور پولیس ایکٹ کے تحت ضبط کیا گیا ہے۔
پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ سعد رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کی گرفتاری کے بعد انہیں قانون کے مطابق نشانِ عبرت بنایا جائے گا تاکہ آئندہ کوئی گروہ ریاستی اداروں کے خلاف جارحیت کا ارتکاب نہ کرے۔
