تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی اور انکے بھائی کہاں ہیں؟

تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی اور ان کے چھوٹے بھائی انس رضوی کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ایک جانب پنجاب پولیس نے کہا ہے کہ دونوں بھائی ابھی تک مفرور ہیں لیکن پولیس ان انکے قریب پہنچ گئی ہے اور انہیں جلد گرفتار کر لے گی۔ دوسری جانب تحریک لبیک والے یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ سعد رضوی اور انس رضوی پولیس کی تحویل میں ہیں اور انہیں بھی طیفی بٹ کی طرح جعلی پولیس مقابلے میں پار کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
ادھر باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے یہ طے کر لینے کے بعد کہ اب تحریک لبیک کو اپنا انتہا پسندانہ اور پرتشدد ایجنڈا آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایک ایس ایچ او کے قتل میں مطلوب سعد رضوی اور انکے بھائی انس رضوی گرفتار ہوتے ہی ایک لمبے عرصے کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلے جائیں چونکہ اس مرتبہ انہیں معافی نہیں ملے گی۔
پنجاب پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران ایک پولیس والے کو گولیاں مار کر قتل کرنے کے بعد مفرور ہونے والے رضوی برادران کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے تاکہ انکو نشانِ عبرت بنایا جا سکے۔ یاد رہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں تحریک لبیک کے مظاہرین احتجاج کے دوران پنجاب پولیس کے دو درجن سے زائد اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں لیکن ہر مرتبہ ان کی بچت اس لیے ہو جاتی تھی کہ مظاہروں کا اختتام مذاکرات کے بعد معاہدوں پر ہوتا تھا۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ تحریک لبیک کے احتجاجی مظاہرین کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کی بجائے ان کے خلاف کریک ڈاؤن کر کے دھرنا ختم کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طاقتور فیصلہ سازوں نے ریاست کی رٹ قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد تحریک لبیک کا چیپٹر ہمیشہ کے لیے بند ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق مریدکے میں تحریک لبیک کے دھرنے پر کریک ڈاؤن کے بعد ایک پولیس والے کو قتل کرنے کے بعد فرار ہو جانے والے سعد رضوی اور انس رضوی کی تلاش جاری ہے اور حکام ان کی گرفتاری کے لیے پرعزم ہیں۔ پنجاب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ خفیہ ذرائع اور ٹیکنیکل ٹریکنگ کی مدد سے دونوں رہنماؤں کا سراغ لگا لیا گیا ہے، اور ان کی گرفتاری اب کسی بھی متوقع ہے۔ رضوی برادران کو گرفتار کر کے ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی تاکہ آئندہ کوئی گروہ ریاستی اداروں کے خلاف اس نوعیت کی جارحیت کا سوچ بھی نہ سکے۔
پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ مریدکے میں درج قتل کیس میں سعد اور انس رضوی کو بطور مرکزی ملزمان نامزد کیا گیا ہے۔ کیس کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین نے پولیس پر حملہ کیا، انہوں نے آتشیں اسلحہ استعمال کیا، اور سرکاری اور ہرائیوئٹ املاک کو نقصان پہنچایا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق سعد رضوی نے اپنے پستول سے ایس ایچ او کو گولیاں ماریں جبکہ انس رضوی نے اپنی رائفل سے تین پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جو عناصر ریاستی اہلکاروں کی جان لینے کے مرتکب ہوں، انہیں نشانِ عبرت بنانا ناگزیر ہو چکا ہے اور اس مرتبہ کوئی ڈھیل نہیں دی جائے گی۔
ٹی ایل پی کی نچلی قیادت اس خدشے کا اظہار کر رہی ہے کہ دونوں بھائیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان کی جان خطرے میں ہے لیکن پارٹی کے ترجمان ابھی تک دونوں بھائیوں کی مفروری یا گرفتاری بارے کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کر رہے۔ ادھر سعد رضوی کے زخمی ہونے کی افواہوں سے پارٹی کے کارکنوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، اور وہ سوال کر رہے ہیں کہ ان کے قائدین کہاں اور کس حالت میں ہیں۔ تاہم ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے واضح کیا ہے کہ سعد رضوی اور انس رضوی ابھی تک مفرور ہیں اور دونوں میں سے کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں میں سے کوئی زخمی ہے تو پیش ہو جائے تاکہ اس کا علاج کروایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایس ایچ او کے قتل میں ملوث دونوں بھائیوں اور انکے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے اور ریاست کی رٹ چیلنج کرتے ہوئے قانون ہاتھ میں لینے والوں کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔
سعد رضوی عوام کو مشتعل کرنے کے بعد فرار ہوگئے : ڈی آئی جی آپریشنز
ادھر لاہور میں ٹی ایل پی کے مرکز مسجد رحمت العالمین کو پولیس نے مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے، اور عام شہریوں کو مسجد میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ٹی ایل پی کارکنوں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف حکومتِ نے ٹی ایل پی قائدین کے زخمی ہونے یا مرنے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کی لسٹ تیار کر لی ہے اور ان کی گرفتاریوں کے لیے چھاپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ جعلی خبریں پھیلانے میں ملوث افراد کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوں گے، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو جھوٹی سوشل میڈیا کمپین چلانے والوں کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ سوشل پلیٹ فارمز کو وارننگ دی گئی ہے کہ فیک مواد 24 گھنٹے میں ہٹایا جائے، ورنہ قانونی کارروائی کے لیے تیار رہا جائے۔ حکومت کی جانب سے عوام کو وارننگ دی گئی کہ غیر مصدقہ ویڈیوز اور کلپس شیئر کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
