حکومت کا تحریک لبیک سے دوبارہ چھیڑ خانی کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر تحریک لبیک سے چھیڑ خانی کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت فرانس میں اپنا سفیر مقرر کرنے جارہی ہے۔ خیال رہے کہ توہین آمیز خاکوں کے معاملے پر گزشتہ سال تحریک لبیک پاکستان نے فرانس سے سفارتی تعلقات کے خاتمے، فرانس سے اپنا سفیر واپس بلانے اور اسلام آباد میں موجود فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے مطالبات منوانے کے لئے پر تشدد مظاہرے کیے تھے جس کے بعد لبیک پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

تاہم بعد میں تحریک لبیک کی جانب سے حکومت مخالف لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا جس کے نتیجے میں عمران خان نے گھٹنے ٹیک دئیے اور لبیک کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد علامہ خادم حسین رضوی کی جماعت پر عائد پابندی ختم کر دی گئی تھی۔ تب حکومت کا یہ موقف تھا کہ پاکستان میں فرانس کا کوئی سفیر ہی موجود ہی نہیں تو بے دخل کیسے کیا جائے۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس وقت فرانس میں بھی پاکستان کا کوئی سفیر موجود نہیں۔

لیکن 14 فروری کے روز ایک فرانسیسی اخبار کے ساتھ انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان فرانس کے لیے اپنا سفیر مقرر کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہم پہرس میں سفیر مقرر کرنے کے مرحلے میں ہیں کیونکہ فرانس ہمارے لیے نہایت ہی اہم ملک ہے خاص کر برآمدات کے حوالے سے۔‘

پنجاب کابینہ میں 4 سے 5 مزید وزرا شامل کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان اپنے تقریباً آدھے ایکسپورٹ یورپی ممالک کو کر رہا ہے۔ فرانس پاکستان کے لیے نہایت اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اس موقع پر یہ بیان تحریک لبیک سے چھیڑ خانی کے مترادف ہے اور اگر حکومت نے اس حوالے سے کوئی عملی اقدام اٹھایا تو لبیک والے ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکل سکتے ہیں.

لہذا حکومت مخالف سیاسی طوفان میں اور بھی زیادہ تیزی آ سکتی ہے۔ تحریک لبیک کی مرکزی قیادت کا یہ موقف ہے کہ حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت نہ تو پاکستان فرانس میں اپنا سفیر مقرر کرے گا اور نہ ہی پاکستان میں فرانس کا سفیر مقرر کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو تحریک لبّیک دوبارہ سڑکوں پر نکل آئے گی۔

یاد رہے کہ کپتان حکومت نے نومبر 2021 میں ہونے والے ایک معاہدے کے بعد تحریک لبیک کے گرفتار کارکنوں کو رہا کر دیا تھا جبکہ اس تنظیم کا نام کالعدم تنظیموں سے نکال دیا گیا تھا جس کے بعد ٹی ایل پی نے وزیرآباد میں جاری دھرنا ختم کر کے واپس لاہور کا رخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکشن میں کہا گیا تھا کہ علامہ سعد رضوی کا نام ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی کی سفارش پر فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا تھا کیونکہ وہ اس تنظیم کے سربراہ ہیں.

جسے کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ کیونکہ سات نومبر کو تحریک لبیک کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے اس لیے تنظیم کے سربراہ کا نام بھی فورتھ شیڈول سے خارج کر دیا گیا ہے۔ تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے سے متعلق حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے جماعت کو قومی دھارے میں لانے میں مدد ملے گی۔

Back to top button