افغان طالبان پاکستان کی بات سننے کو کیوں تیار نہیں؟

معروف اینکر پرسن اور صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ کابل میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے وہ افغان طالبان جن کے لیے پاکستان نے برسوں اپنے دوست ممالک کو ناراض کیا، اب پاکستان کی بات بھی سننے کو تیار نہیں کیونکہ وہ پاکستان پر اعتماد نہیں کرتے۔
واشنگٹن پوسٹ کے لئے تحریر کردہ اپنے تازہ مضمون میں حامد میر کہتے ہیں کہ گزشتہ اگست میں جب افغان طالبان نے پھر سے کابل میں اقتدار پر قبضہ کیا تو پاکستانیوں نے جشن منایا۔ بہت سے دوسرے لوگوں کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے بھی واضح طور پر طالبان کی فتح کو اپنے ملک کی کامیابی سمجھنا چاہا۔ کئی برس سے سیاسی مبصرین اسلام آباد پر طالبان کی خفیہ حمایت کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ایک اہم اتحادی کے طور پر اپنے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے ہمیشہ ایسے الزامات کو مسترد کرتا رہا۔
تاہم کابل میں اقتدار پر طالبان نے قبضہ کر لیا تو عمران خان نے اپنے بیانات اور تقاریر میں افغان طالبان کی کھلے عام حمایت کرتے ہوئے دراصل ان ناقدین کی موثر طریقے سے تصدیق کر دی جو پاکستان پر دوغلی پالیسی کا الزام لگاتے رہے تھے۔ حالانکہ کابل پر بزور طاقت قبضے سے طالبان نے اس معاہدے کی واضح خلاف ورزی کی جو انہوں نے دوحہ، قطر میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا تھا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ عمران حکومت کو واضح طور پر توقع تھی کہ اسلام آباد کی حمایت کے بدلے افغان طالبان کم از کم دو اقدامات کریں گے / اول یہ کہ پاکستان کے اندر پاکستانی فوج کے خلاف لڑنے والے افغانستان میں مقیم باغی عناصر کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کریں گے اور دوسرے یہ کہ افغان طالبان حکومت سنبھالنے کے بعد پاکستان سے تاریخی سرحدی تنازع کو حل کرنے کی طرف قدم بڑھائیں گے۔
لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان نے ابھی تک یہ دونوں توقعات پوری نہیں کیں جس کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان نے ابھی تک کابل میں طالبان حکومت کو سفارتی سطح پر تسلیم کرنے کی پیشکش نہیں کی۔
حامد میر کے بقول اس ضمن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ تحریک دراصل افغان طالبان ہی کی ایک شاخ ہے جس نے پاکستانی افواج کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ افغان طالبان ان پاکستانی طالبان کی حمایت ختم کر دیں۔ کابل پر قبضے کے بعد پاکستانی حکام نے ہتھیار ڈالنے اور پاکستانی آئین کی پاسداری کرنے پر تحریک طالبان پاکستان کے لیے عام معافی کا اعلان تک کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
نومبر 2021 میں تحریک طالبان پاکستان نے خفیہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی اور ایک ماہ کے لئے جنگ بندی کا اعلان کیا۔ حامد میر کہتے ہیں کہ جب اسلام آباد نے اس گروہ کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور شروع کیا تو میں نے لکھا تھا کہ پاکستانی ریاست ساتویں بار کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت کی کوشش کر رہی ہے۔ اس ٹولے کے ساتھ اسلام آباد کے پچھلے چھ معاہدے بے سود رہے تھے۔
تحریک طالبان پاکستان نے اس بات چیت میں شرائط کی ایک مشکل فہرست پیش کی جس میں سینکڑوں جنگجو قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ یہ واضح نہیں کہ پاکستانی حکومت نے اس مطالبے پر کسی کو رہا کیا یا نہیں۔ تحریک طالبان پاکستان نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ کسی تیسرے ملک میں ایک سیاسی دفتر کھولنا چاہتی ہے.
جو پاکستان میں کالعدم تنظیم کے لیے ایک قسم کی پہچان ہو گی۔ سب سے پیچیدہ مسئلہ یہ تھا کہ تحریک طالبان کے مذاکرات کاروں نے پاکستان میں اسلامی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا جس کا واضح مطلب تھا کہ وہ پاکستان کے موجودہ جمہوری اصولوں پر مبنی آئین کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں، تحریک طالبان کے اس مطالبے کو تسلیم کرنا گویا ریاست پاکستان کے خاتمے کا اعلان ہوتا۔ یہ عملی طور پر ریاست سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ تھا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ 10 دسمبر 2021 کو تحریک طالبان مے اپنی جنگ بندی ختم کر دی اور پاکستانی افواج کے خلاف دوبارہ حملے شروع کر دیے۔ پاکستانی فوج نے افغانستان میں ٹی ٹی پی رہنماؤں کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ ٹی ٹی پی نے اسلام آباد میں پولیس پر حملہ کر کے جوابی کارروائی کی۔ اس طرح پاکستانی طالبان پیغام دے رہے تھے کہ وہ پاکستانی شہروں میں گوریلا جنگ چھیڑنے کے لیے تیار ہیں۔
مختلف سیکورٹی مسائل پر سخت دباؤ کا شکار پاکستانی حکومت نے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ افغان طالبان نے پاکستان کی جانب سے مداخلت پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
کیا کابینہ میں توسیع سے عمران اپنی حکومت بچا پائیں گے؟
اب اگلا سوال یہ ہے کہ پاک۔ افغان سرحدی تنازع کا کیا ہو گا؟ بقول حامد میر نئی افغان حکومت نے دونوں ممالک کی باہمی سرحد کے حوالے سے اسلام آباد کے تحفظات کو تسلیم کرنے کے لیے کسی قسم کی آمادگی ظاہر نہیں کی۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ افغان طالبان نے واضح طور پر دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ سرحد کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ڈیورنڈ لائن کے نام سے موسوم یہ سرحد برطانوی سلطنت نے نوآبادیاتی دنوں میں کھینچی تھی اور اس سے پشتون نسلی گروہ موثر طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ طالبان سپاہیوں نے پاکستانی فوجیوں کو سرحد پر باڑ لگانے سے روکنے کی کوشش بھی کی ہے۔ مزید براں افغان طالبان نے سرحد پر پاکستانی فوجیوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے 30 اضافی چوکیاں بنانے کا اعلان کیا ہے۔
مختصر یہ کہ افغان طالبان اب خود کو ایسے عظیم آزادی پسند جنگجوؤں کی طرح پیش کر رہے ہیں جنہوں نے کسی بیرونی مدد کے بغیر غیر ملکی قبضے کی بیڑیاں توڑ ڈالی ہیں۔ افغان طالبان نے حالیہ برسوں میں پاکستان کی جانب سے خاموش اور درپردہ حمایت کا اقرار کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اگر پاکستانی قیادت افغان طالبان سے شکر گزاری کے جذبات کی امید کر رہی تھی تو اب تک اس کی کوئی توقع پوری نہیں ہوئی۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغان طالبان پاکستان پر اعتماد نہیں کرتے۔ دونوں ماضی میں ایک دوسرے کے ساتھ ڈبل گیم کھیل چکے ہیں۔ اب طالبان بھارت اور ایران کے ساتھ روابط استوار کر رہے ہیں۔ یہ طالبان کی طرف سے اپنی نئی ریاست کے لیے باضابطہ سفارتی شناخت کی کوشش ہے۔
طالبان کی شدید خواہش ہے کہ دوسرے ممالک غیر ملکی بینکوں میں رکھے گئے افغان فنڈز کو غیر منجمد کر دیں لیکن طالبان اس کے جواب میں عالمی برادری کی شرائط کو پورا کرنے پر بھی تیار نہیں ہیں۔ افغان طالبان کو حال ہی میں بین الاقوامی برادری کے ساتھ خیر سگالی کے حصول کا ایک سنہری موقع ملا تھا جب طالبان نمائندوں نے گزشتہ ماہ اوسلو میں مغربی حکام سے تین دن تک ملاقات کی۔ لیکن طالبان نے یہ موقع بھی ضائع کر دیا۔
ان ملاقاتوں میں طالبان نے کچھ ایسی افغان خواتین کارکنوں کی گمشدگی میں ملوث ہونے کی تردید کی جن کے خاندان اس معاملے میں طالبان پر شواہد کی مدد سے الزام لگاتے ہیں۔ کابل میں طالبان حکومت کو مغرب کے ساتھ معمول کے تعلقات کی اس وقت تک امید نہیں رکھنی چاہیے جب تک وہ اپنے طور طریقے تبدیل نہیں کرتے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اب افغان طالبان پاکستان سمیت کسی کی نہیں سن رہے حالانکہ پاکستان نے برسوں طالبان کی چشم پوشی کر کے کئی دوست ممالک کو ناراض کیا تھا۔ پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسلام آباد کب تک حقیقت کو نظر انداز کرتا رہے گا۔
