کیا کابینہ میں توسیع سے عمران اپنی حکومت بچا پائیں گے؟

وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے اور اپنی حکومت بچانے کے لیے پی ٹی آئی کے ناراض دھڑے اور اتحادیوں کو اقتدار میں مزید شئیر دینے کا فیصلہ تو کیا ہے لیکن سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ کپتان لیٹ ہو چکے ہیں اور شاید اب یہ حربہ کارگر ثابت نہ ہو۔

اپوزیشن کے حکومت کا تختہ الٹنے کے منصوبوں کے دوران حکمران اتحاد کو برقرار رکھنے کی کوشش میں عمران خان نے اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کو شامل کرکے وفاقی اور پنجاب کابینہ میں تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے پی ٹی آئی کے کچھ مرکزی رہنماؤں سے بھی کہا ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے خطرے سے بہتر طریقے سے نمٹنے کے لیے پارٹی کی تنظیم نو اور اسے مضبوط بنانے پر توجہ دیں اور ناراض ساتھیوں کو رام کرنے کے لئے جو بھی دینا پڑے دے دیا جائے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گل نے پہکے ہی یہ انکشاف کر دیا یے کہ وزیراعظم جلد وفاقی اور پنجاب کابینہ میں تبدیلیاں کرنے جا رہے ہیں۔ فواد کے مطابق ‘وزیراعظم دو ہفتوں کے اندر وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیاں کریں گے۔’ شنید یے کہ عمران خان دفاع، منصوبہ بندی، تعلیم، توانائی اور سمندر پار پاکستانیوں کی وزارتوں میں 5 وزرائے مملکت کا تقرر کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ اتحادی جماعتوں اور ناراض اراکین کو اپنے ساتھ لگایا جا سکے اور اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام بنائی جاسکے۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نے وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر توانائی حماد اظہر اور وزیر تعلیم شفقت محمود سے کہا ہے کہ وہ پارٹی معاملات کو سنبھالیں اور پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم نے حال ہی میں کابخنہ اراکین کی پرفارمنس کا ایک آڈٹ کرایا تھا جس کے بعد 10 وزارتوں کی فہرست جاری کی گئی تھی جنہوں نے دوسروں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

جن وزرا کی وزارتیں اس فہرست میں شامل نہیں تھیں وہ ناخوش ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ انہیں ‘بہترین کارکردگی دکھانے کے باوجود’ نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم کا خیال ہے کہ نئے وزرائے مملکت ان 5 وزارتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد کریں گے۔

حکومت کا تحریک لبیک سے دوبارہ چھیڑ خانی کا فیصلہ

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عمران اپنی کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے دو بڑی اتحادی جماعتوں، متحدہ قومی موومنٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں کو بھی حصہ دیں گے، جنہیں مزید ایک ایک وزارت ملنے کا امکان ہے۔ دونوں جماعتیں وزیراعظم سے مطالبہ کرتی آرہی ہیں کہ انہیں کم از کم ایک اور وفاقی وزارت دی جائے اور اب وہ بارگیننگ پوزیشن میں بھی آ چکی ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم نے جہانگیر ترین گروپ کے ناراض اراکین کو بھی رام کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہوسکتا ہے کی وفاق کے علاوہ پنجاب کی کابینہ میں بھی توسیع کی جائے۔ اسی دوران تحریکِ انصاف کا پنجاب اسمبلی میں ایک نیا گروپ سامنے آ گیا ہے جس کی تعداد 15 ہے۔ سپرمیسی آف پارلیمنٹ کے نام پر بننے والے گروپ نے اپنا ایک اجلاس بھی منعقد کیا ہے اور اپنی ہی حکومت کے بلدیاتی بل پر تحفظات کا اظہار کر دیا یے، 15 ارکان پر مشتمل ارکان ہنجاب اسمبلی کے گروپ میں آزاد ارکان بھی شامل ہیں۔

سپرمیسی آف پارلیمنٹ کے نام سے بننے والے گروپ نے مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی سے بھی رابطوں کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ اگلی سیاسی سٹاف کا حصہ بنا جا سکے۔ ترجمان سپرمیسی آف پارلیمنٹ غنضفر عباس شاہ نے کہا ہے کہ وہ ابھی تحریک انصاف کے ساتھ ہیں، لیکن سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں گے اور جہانگیر ترین گروپ سے اتحاد کے بارے میں بھی سوچیں گے۔

دوسری جانب جہانگیر ترین گروپ نے بھی لاہور میں عون چودھری کی رہائش گاہ پر اپنا اجلاس منعقد کیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ سیاسی صورتحال کو باریک بینی سے دیکھا جائے گا اور وقت آنے پر فیصلہ کیا جائے گا۔ ترین گروپ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اکثریتی ممبران نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر اپوزیشن وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاتی ہے تو ترین گروپ کو کھل کر اس کا ساتھ دینا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے تک گروپ نے اپنے سیاسی کارڈز خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترین گروپ کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے پر ہم اپوزیشن کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ترین گروپ کےارکان کی رائے تھی کہ انتخابی حلقوں میں پی ٹی آئی کی پوزیشن بہت کمزور ہے، اس وجہ سے لوکل باڈی الیکشن میں مضبوط شخصیات اس جماعت کا ٹکٹ لینا پسند نہیں کریں گی۔

ارکان کا موقف تھا کہ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، اس لئے پی ٹی آئی ممبران کو حلقوں میں سخت عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ترین گروپ نے فیصلہ کیا ہے کہ اجلاس ہوتے رہیں گے۔ گروپ کا فیصلہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے رابطوں کی حوصلہ شکنی نہیں کی جائے گی۔ گروپ نے مختلف سیاسی آپشنز کی تجاویز سامنے آنے پر جہانگیر ترین کو حتمی فیصلے کا اختیار دے دیا ہے۔

یاد رہے کہ عمران حکومت اعتماد کا ووٹ لینے اور بجٹ اجلاسوں میں بندے پورے کرنے کے حوالے سے ہمیشہ سے ہی مشکلات کا شکار رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار یہ بھی یاد دہانی کروا رہے ہیں کہ اس سے قبل صرف ایک بار ہی پاکستان میں تحریکِ عدم اعتماد آئی ہے اور وہ بینظیر بھٹو حکومت کے خلاف تھی لیکن اسٹیبلشمنٹ کی تمام تر کوششوں کے باوجود یہ تحریک کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس بہت سی ایسی ترغیبیں اور لالچیں ہوتی ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے اراکین کو روک سکتی ہیں۔

البتہ جو حقیقت وہ فراموش کر رہے ہیں وہ بینظیر بھٹو کی اپنی جماعت پر مکمل سیاسی گرفت ہے۔ بینظیر بھٹو اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے نہیں، اس کی بھرپور مخالفت کے باوجود اقتدار میں آئی تھیں۔نان کے اراکین کہیں سے توڑ کر نہیں لا کر دیے گئے تھے بلکہ انہوں نے بھرپور سیاسی جدوجہد کی تھی اور ہر مشکل وقت میں پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے تھے۔ دوسری جانب تحریک انصاف میں اس وقت ایک واضح دراڑ موجود ہے جس کی وجہ سے عمران خان کی پوزیشن انتہائی کمزور ہے۔

Back to top button