کیا حکومت نے پٹرول فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے مہنگا کیا ہے؟

حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکدم بارہ روپے اضافے کے بعد وزارت خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم کی ایک ٹویٹ اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں موصوف فرماتے ہیں کہ پٹرول مہنگا ہونے سے ملک میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ تاہم مزمل اسلم نے وضاحت کی ہے کہ یہ ٹویٹ ان کے اکاؤنٹ سے نہیں کی گئی اور کسی دل جلے نے ان کا نام استعمال کیا ہے۔
عوام پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد حکومت کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعائیں رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا صارفین بھی ٹوئٹر پر اپنا غصہ نکال رہے ہیں۔ وزارت خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 159 روپے 86 پیسے ہوگئی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت 9 روپے 53 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 154 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 10 روپے آٹھ پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اور اب نئی قیمت 126 روپے 56 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ لائٹ ڈیزل 9 روپے 43 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا ہے، لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 123 روپے 97 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق ملک بھر میں ہو چکا ہے جس کا اثر روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل میڈیا میں ایسی خبریں بھی دیکھنے میں آئی تھیں جن کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی سمری کو مسترد کر دیا تھا تاہم پھر اچانک پیٹرولیم مصنوعات میں واضح اضافہ کر دیا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر کہنا تھا کہ اس وقت جو حالات ہیں ان میں ظاہر ہے اس کے علاوہ اور کیا چارہ ہوگا کہ آپ پیٹرول کی قیمت بڑھائیں گے۔ عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 93 اعشاریہ 28 ڈالر ہو چکی ہے۔
کیا کابینہ میں توسیع سے عمران اپنی حکومت بچا پائیں گے؟
تاہم رات گئے حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تو اپنا ردعمل دینے کے لیے عوام نے سوشل میڈیا کا رخ کر لیا۔ اپنے تبصروں اور پوسٹس میں عوام نے طنز کم اور غصہ زیادہ ظاہر کیا۔ ٹوئٹر صارف احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ پیٹرول کی قیمت دیکھ کر گاڑیاں بھی بے ہوش ہونے لگ گئی ہیں، انٹرنیٹ صارف راشد الطاف نے تحریر کیا کہ پیٹرول کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، ایک مرتبہ پھر تمام اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا، نیا پاکستانی عوام کے لیے وبال جان بن گیا ہے۔
ایک ٹوئٹر صارف فیصل نے تحریر کیا کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے آلودگی میں کمی آئے گی، عمران خان ماہر ماحولیات ہیں اور ہمیشہ آگے کا سوچتے ہیں۔ انھوں نے لکھا کہ وزارت خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے بھی اپنی ایک ٹویٹ میں یہی موقف اختیار کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بنیادی مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنا ہے کیونکہ پٹرول جتنا مہنگا ہو گا، لوگ اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو اتنا ہی کم چلائیں گے اور جب ٹریفک کم چلے گی تو فضائی آلودگی میں بھی کمی ہو جائے گی۔
اسی دوران معروف کالم نگار اور صحافی توفیق بٹ نے بھی پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر وزیروں اور مشیروں کے لئے شرمندگی سے بچنے کی ایک تجویز دی یے۔ انکی انوکھی تجویز کے مطابق حکومتی وزرا اور مشیر یہ موقف اختیار کرسکتے ہیں کہ نوجوانوں کی آوارگی میں ایک بڑا کردار سستے پٹرول کا بھی تھا۔
30 روپے کا پٹرول ڈلوا کر سارے شہر کو آلودہ کرتے تھے لوگوں پر آوازیں کستے تھے۔ لڑکیوں کو چھیڑتے تھے۔ چنانچہ اس بیہودہ اور سنگین صورتحال میں ایک مرد مجاہد اُٹھا اور ان بدچلن نوجوانوں کو سدھارنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے پٹرول کی قیمت وہاں تک پہنچا دی کہ یہ بدقماش چھوکرے گھر سے نکلنے کا اب سوچ بھی نہیں سکتے۔۔۔۔
