عمران کی آستینوں میں کونسے سانپ چھپے بیٹھے ہیں؟

غریدہ فاروقی کے پروگرام میں وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر مراد سعید کے متعلق ذو معنی تبصرے کے الزام میں محسن بیگ کے خلاف درج کروائی گئی ایف آئی آر میں نہ صرف ریحام خان کی کتاب کا تذکرہ کیا گیا ہے بلکہ اس کے صفحہ نمبر 237 کو بھی ایف آئی آر کے ساتھ لگایا گیا ہے جس میں نہایت ہی قابل اعتراض مواد موجود ہے۔ چنانچہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ کیس بنانے والے کپتان کے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں جو ایک ایسی تحریر عدالتی ریکارڈ پر لے آئے ہیں جو عام آدمی کی نظروں سے پوشیدہ تھی۔
ایف آئی آر درج کروانے اور اس میں ریحام خان کی کتاب کا تذکرہ کرنے کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ایسا بیہودہ مشورہ دینے والے نے دراصل عمران خان اور مراد سعید سے دشمنی نکالی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی نادان دوست نے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ دشمنی کرتے ہوئے نہ صرف مراد سعید کے زریعے محسن بیگ کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی بلکہ ریحام خان کی متنازع کتاب کا صفحہ نمبر 273 بھی لف کرنے کا مشورہ دیا ہے جس کے بعد وہ تمام لوگ بھی ان اعتراضات اور الزامات سے واقف ہو جائیں گے جو اس سے قبل کچھ نہیں جانتے تھے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ اس احمقانہ حرکت سے کپتان اور مراد سعید کے لئے رسوائی کا سامان پیدا کیا گیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پرچہ درج کرواتے وقت ریحام کی کتاب کے مخصوص مندرجات کا حوالہ دینے کی کوئی تُک نہیں بنتی تھی کیونکہ محسن بیگ نے بھی غریدہ کے پروگرام میں کتاب کے مندرجات نہیں سنائے تھے بلکہ صرف اتنا ہی کہا تھا کہ غریدہ فاروقی کی کتاب پڑھ لیجئے۔
واضح رہے کہ ریحام نے اپنی کتاب میں سابق شوہر عمران خان، مراد سعید اور حمزہ عباسی پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ محسن بیگ کے خلاف درج کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق ریحام نے اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 237 پر عمران خان، مراد سعید اور حمزہ علی عباسی کے جسمانی تعلقات کا دعویٰ ہے۔ ایف آئی آر کے ساتھ لف کتاب کے صفحے میں لکھا گیا ہے کہ جب بھی حمزہ عباسی اور مراد سعید بنی گالہ آتے تو وہ عمران کیساتھ تنہائی میں ملاقاتیں کرتے۔
ریحام خان کے مطابق مجھے گھر کے ملازم اکثر بتاتے کہ آپ کی غیر موجودگی میں حمزہ علی عباسی اور مراد سعید عمران خان کو اکیلے نہیں رہنے دیتے وہ ان کیساتھ کمپنی بنائے رکھتے تھے۔ ریحام خان نے اپنی کتاب میں عمران خان، مراد سعید اور علی امین گنڈا پور کے حوالے سے بھی باتیں لکھی ہیں جو واقعی حیران کن ہیں۔
کیا کابینہ میں توسیع سے عمران اپنی حکومت بچا پائیں گے؟
ریحام خان نے لکھا ہے کہ میں نے عمران خان سے شادی کے دنوں میں دیکھا کہ کیسے وہ خوبصورت مردوں کی طرف فوری توجہ کرتے تھے، خوبصورت شخصیت اور پیسے والے مردوں سے عمران خان بہت زیادہ متاثر ہوتے تھے، وہ پرویز خٹک، ذاکر خان اور مراد سعید کی گزرے دنوں کی خوبصورتی کا تذکرہ غیر دانشمندانہ انداز میں کرتے تھے۔
جس طرح عمران ثقلین مشتاق کی بات کرتے تھے، وہ پاکستانی سپنر جس کی مسکراہٹ انتہائی خوبصورت تھی، نے مجھے بہت زیادہ ڈسٹرب کیا۔ عمران خان کی ڈیرہ اسماعیل خان سے ’ماچو ‘وزیر علی امین گنڈا پور کی پذیرائی اور ان کا کم عمر ترین ایم این اے مراد سعید کیلئے بے پناہ پیار بہت ہی حیران کن تھا۔ ایف آئی آر کے ساتھ لف ریحام کی کتاب کے صفحے کے مطابق ریحام خان نے مزید لکھا کہ شادی سے پہلے میں نے دیکھا کہ جب بھی اسلام آباد کے کسی کیفے میں مراد سعید علی امین گنڈا پور کے ساتھ داخل ہوتے تھے تو لوگ ہنسنے لگ جاتے۔
پشاور میں ہاسٹل کے نگرانوں نے ہمیں مراد سعید کی ہاسٹل لائف کے بارے میں بھی بتایا، لیکن مراد سعید اور عمران خان کا تعلق میرے لئے ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔ ریحام خان نے ناقدانہ انداز میں لکھا کہ مراد کچھ غلط کر ہی نہیں سکتا، خواہ وہ جعلی ڈگری کا معاملہ ہو یا پھر میڈیا کے ساتھ بدتمیزی، عمران خان نے اپنے میڈیا سیل کو اس لڑکے کے تحفظ کا سخت ترین حکم دے رکھا تھا۔ انہون نے لکھا کہ سوات کا خوبصورت لڑکا عمران خان کی آنکھ کا تارہ بنا ہوا تھا اور سب لوگوں نے اسے عمران کے ساتھ ہی دیکھا چاہتے تھے چاہے وہ آزادی کنٹینر ہی کیوں نہ ہو۔
ریحام خان نے مراد سعید اور علی امین گنڈا پور کی قابلیت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور لکھا کہ مراد سعید کی خوبصورتی کے علاوہ مجھے اس میں کوئی خصوصیت نظر نہیں آئی جس کی بنا پر اسے قومی اسمبلی کی سیٹ دی گئی، ریحام نے لکھا ہے کہ میرا خیال ہے کہ علی امین گنڈا پور کی واحد قابلیت بھی اس کی مردانہ وجاہت، لمبے بال اور خوفناک مونچھیں ہیں۔ یاد رہے کہ مراد سعید نے 2018 میں ریحام خان کی کتاب مارکیٹ ہونے کے بعد ان الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے بیہودی قرار دیا تھا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ریحام خان کی کتاب کا یہ صفحہ ایف عیار کا باقاعدہ حصہ بنانے سے سب کو پتہ چل جائے گا کہ کپتان کی سابق اہلیہ نے عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں پر کس قدر گھناؤنے الزامات لگائے ہیں اور بہت سے لوگ ان دعوؤں پر یقین بھی کر لیں گے جس سے کپتان اور ان کے ساتھیوں کی مزید رسوائی ہو گی۔ لہذا وزیراعظم کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے اور اپنی آستین کے سانپوں کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
