کیا بینظیر مخالف سازشی فوجی بچ جائیں گے؟

 27 سال قبل سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی حکومت گرانے کی سازش میں ملوث فوجی افسران اپنے دامن سے بغاوت کا داغ دھونے کے لئے سپریم کورٹ سے انصاف مانگ رہے ہیں تاہم 15 فروری کو کیس کا فیصلہ محفوظ کئے جانے سے یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ تین عشروں پرانے سازش کیس کا فیصلہ جلد یا بدیر ہو ہی جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ معاملہ گذشتہ چھ سال سے زیادہ عرصے سے سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے جبکہ اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ میں بھی یہ کیس کافی عرصے تک زیر التوا رہا، تاہم لاہور ہائی کورٹ نے فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف ان اپیلوں کو مسترد کر دیا تھا۔ اس مقدمے کی عدالتی کارروائی پر نظر رکھنے والے وکیل لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق تب کے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن نے ایک سال تک ان اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کیے رکھا اور بعد ازاں یہ معاملہ تب کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منظور ملک کو بھجوا دیا تھا تاکہ ان کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔ بقول انعام الرحیم اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے دوبارہ یہ معاملہ جسٹس اعجاز الاحسن کو بھیج دیا تھا جنھوں نے ان درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن اس وقت سپریم کورٹ کے جج ہیں۔

27 سال گزرنے کے بعد 15 فروری 2022 کو بڑی پیشرفت یہ سامنے آئی ہے کہ سپریم کورٹ نے فوج کے دو سابق افسران کی سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں فوجی عدالت سے سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ جن فوجی افسران کی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کیا گیا ہے ان میں کرنل ریٹائرڈ عنایت اللہ اور کرنل ریٹائرڈ آزاد منہاس کی اپیلیں شامل ہیں۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ 25 سال قبل اسی مقدمے میں میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی اور برگیڈئیر مستنصر باللہ کی اپیلیں مسترد کر چکی ہے۔ فوجی عدالت نے میجر جنرل ظہیر الااسلام کو سات سال قید جبکہ برگیڈئیر مستنصر باللہ کو 14 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

یاد رہے کہ عسکری اداروں نے میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی اور برگیڈئیر مستنصر بلا سمیت 38 فوجی افسران کو 26 ستمبر سنہ 1995 کو حراست میں لیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ نہ صرف 30 ستمبر کو راولپنڈی میں ہونے والی کور کمانڈرز میٹنگ پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے بلکہ اس وقت کی وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور کابینہ کے ارکان سمیت اس وقت کے آرمی چیف جنرل عبد الوحید کاکڑ اور فوجی افسران کو قتل کر کے میجر جنرل ظہیر الااسلام عباسی کو امیر المومنین بننا چاہتے تھے۔

15 فروری 2022 کو چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔ ملزم کرنل ریٹائرڈ آزاد منہاس نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف بدنیتی پر مبنی کورٹ مارشل کیا گیا اور غیر متعلقہ افسران سے انکوائری اور کورٹ مارشل کی کارروائی کرائی گئی۔

انھوں نے کہا کہ کورٹ مارشل کے دوران ان پر سازش کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ ملزم کرنل ریٹائرڈ عنایت اللہ نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ من پسند افراد کو ترقی دینے کے لیے انھیں راستے سے ہٹانے کی غرض سے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ جس وقت ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اس وقت وہ ملک کے مفاد کے لیے اہم اور حساس ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔

عمران کی آستینوں میں کونسے سانپ چھپے بیٹھے ہیں؟

بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کیوں نہیں کیا گیا۔ بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زمانہ امن میں تو فیلڈ جنرل کوٹ مارشل کی گنجائش نہیں ہوتی۔بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں پانچ رکنی عدالت ہوتی ہے اور وہاں ملزمان کو زیادہ تحفظ حاصل ہوتا ہے۔درخواست گزاروں نے اپنے دلائل کے دوران عدالت سے استدعا کی کہ فوجی عدالت کا فیصلہ نہ صرف کالعدم قرار دیا جائے بلکہ ریٹائرمنٹ کی مراعات دینے کا بھی حکم صادر کیا جائے۔

دوسری جانب ایڈشنل اٹارنی جنرل نے ان درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ کورٹ مارشل کے خلاف اپیلیں 13 سال کی تاخیر سے دائر کی گئیں۔ انھوں نے کہا کہ درخواست گزاروں کو اس وقت کی منتخب حکومت کے خلاف کی جانے والی سازش کا علم تھا لیکن انھوں نے اپنے حکام کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا۔

ایڈشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ڈسپلن فورس سے تعلق رکھنے والے افسران کا حساس معلومات کو چھپانا بھی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس فوجداری قانون کے تحت اپیلیں دائر کی گئیں وہ آرمی ایکٹ میں شامل ہی نہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ملزمان کو سزائیں آرمی ایکٹ کے مطابق دی گئیں اور مجاز فورم سے اپیلیں خارج ہوئیں جبکہ اس وقت کے آرمی چیف نے سزاؤں کی توثیق کی تھی۔درخواست گزار کرنل ریٹائرڈ عنایت اللہ نے کہا کہ سرکاری وکیل غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں جس پر بینچ میں موجود جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکیل کا کام تو دلائل دینا ہوتا ہے۔ آپ بھی اپنی درخواست پر دلائل دیں۔

درخواست گزار کرنل ریٹائرڈ عنایت اللہ نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی حکومت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے حکومت کو برطرف کیا تھا تو انھوں نے اسی قانون کے تحت ہی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر سپریم کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں ایسا ہوتا تھا جب ملک کی ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے سب سیکشن تین اور پانچ کے تحت فوجی عدالت کی طرف سے دیے گئے فیلصوں کو نہیں سنتی تھیں لیکن اب آئین میں 10 اے کا اضافہ کیا گیا ہے جو کہ فیئر ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ کرنل آزاد منہاس کا کہنا تھا کہ فوجی عدالت کے فیصلے میں کہیں بھی ان کی جائیداد ضبط کرنے کا ذکر نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ان کی جائیدادیں ضبط کرلی گئیں۔ عدالت نے درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ مناسب وقت پر ان درخواستوں پر فیصلہ سنائے گی۔

Back to top button