بندوقیں اور گلاب

تحریر: حماد غزنوی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
ڈاکٹر جیفری مگی پہلے سفید فام (کاکیشین) تھے جو اس دورہ امریکا میں ہمارے ہتھے چڑھے۔ ڈاکٹر صاحب ٹیکساس کے ایک معروف موٹی ویشنل سپیکر ہیں جن کے کلائنٹس میں امریکی حکومت کے ادارے اور بلین ڈالر کمپنیاں شامل ہیں۔ جس طرح کے موٹی ویشنل سپیکر ہمارے ہاں ہوتے ہیں، ڈاکٹر صاحب ان سے مختلف لگے۔ وہ معقول آدمی تھے۔ شوقِ گفتار متوازن اور ذوقِ سماعت فزوں تھا۔ امریکا کے بارے میں ہمارے تاثرات جاننے کے لیے ڈاکٹر مگی نے بہت سے سوال کئے۔ ہمارے جوابات کا خلاصہ کچھ یوں تھا۔
سیاسی اور معاشرتی اعتبار سے امریکا کے تضادات دل چسپ ہیں۔ امریکی ڈیکلریشن آف انڈی پینڈنس کہتا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں۔ امریکا کی آئینی جمہوریت کا تسلسل 1789ء سے آج تک قائم ہے، انسانی حقوق کا تحفظ امریکی آئین کا سنہرا حصہ سمجھا جاتا ہے، ہر جمہوری ملک سیاسی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے ضمن میں اسے مشعلِ راہ گردانتا ہے۔ ان سب خوش نما باتوں کے بعد امریکی معاشرت اور سیاست کی بنیاد انتہائی مضبوطی سے رنگ و نسل پر رکھ دی گئی، سفید فام حاکمیت اور سیاہ فاموں کی غلامی امریکی ریاست کا مرکزی نکتہ قرار پایا۔ غلامی کا یہ سلسلہ 12نسلوں تک چلتا رہا۔
پچھلی صدی کی چھٹی دہائی میں سول آزادیوں کی تحریک کے بعد قانونی طور پر غلامی کا خاتمہ ہوا۔ لیکن قانونی اور آئینی غلامی کے چار سو سال امریکا کے ڈی این اے سے نکالنا آج تک ممکن نہیں ہو سکا۔ اس ایک نکتے سے امریکا کی موجودہ سیاسی صورتِ حال کو بھی اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ ماضی کے ’’آقا‘‘ اب بھی اپنے ’’غلاموں‘‘ کی برابری تسلیم کرنے پر کسی صورت آمادہ نہیں ہیں۔ جب باراک اوباما امریکا کے پہلے سیاہ فام صدر بنے تو سفید فام اکثریت کا اضطراب دوچند ہو گیا تھا اور امریکی دانشوروں نے سفید فام ردِ عمل کی پیش گوئی کر دی تھی۔ اس وقت امریکا کی سیاست ایک محور پر گھوم رہی ہے، اور وہ محور ہے سال 2045ء، جب امریکی محکمۂ مردم شماری کے مطابق تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک میں سفید فام آبادی اقلیت میں تبدیل ہو جائے گی۔ صدر ٹرمپ ’’کاز‘‘ نہیں ’’ایفیکٹ‘‘ ہیں۔ تارکینِ وطن، اسقاطِ حمل، گن کنٹرول کی نسبت سے ری پبلکن پارٹی اور ٹرمپ کی تمام پالیسیاں اسی پس منظر میں دیکھی جائیں گی۔‘‘
یہ ہماری تقریر کا خلاصہ ہے جو ہم نے سفید فام ڈاکٹر جیفری مگی کے سامنے ایک ایرانی ریستوران میں ظہرانے کے دوران فرمائی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے ہماری اکثر باتوں سے اتفاق کیا بلکہ ان میں کچھ اضافہ بھی فرمایا۔ کہنے لگے یہ درست ہے کہ اسقاطِ حمل پر پابندی کا مقصد سفید فام آبادی بڑھانا ہے جو مسلسل گھٹ رہی ہے، گوروں میں شرح پیدائش نسبتاً بہت کم ہے، جب کہ سیاہ فام، مسلمان، اور ہسپانوی نسل کے لوگوں کی تولیدی صلاحیت سے تو خرگوش بھی شرماتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 18 سال سے کم عمر بچوں میں تو سفید فام برسوں سے اقلیت میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ کے انتخاب ہارنے پر جنوری 2021 ء میں کیپٹل ہل پر سفید فام یلغار کے حوالے سے ہم نے ان سے پوچھا کہ امریکا کی سفید فام آبادی کو اگر جمہوریت اور ”whiteness“ میں سے ایک چیز چننی پڑ جائے تو وہ کس کا انتخاب کریں گے؟ ڈاکٹر صاحب نے کوئی واضع جواب تو نہیں دیا لیکن صورتِ حال کو تشویش ناک قرار دیا۔ ’’کیا امریکا میں سول وار کا خطرہ ہے،‘‘ ہم نے ڈاکٹر صاحب سے آخری سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ سول وار تو بھاری لفظ ہے مگر رنگ دار لوگوں اور سفید فام افراد کے درمیان تصادم کے واقعات بڑھ سکتے ہیں۔ پھر خود ہی بتانے لگے کہ دنیا بھر میں سویلینز کے پاس جو کُل اسلحہ ہے اس میں سے آدھا امریکی عوام کے پاس ہے، امریکا کی آبادی قریباً 35 کروڑ ہے اور ان کے پاس ہتھیاروں کی تعداد 50کروڑ کے نزدیک ہے۔ اور اسلحہ مالکان میں سفید فاموں کی واضع اکثریت ہے۔ اس مقام پر ہمارے میزبان طاہر بھٹی صاحب نے حکم جاری فرمایا کہ گفتگو کا موضوع بدل دیا جائے، سو بدل دیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج ہوا کرتے تھے عارف اقبال بھٹی، جنہیں ایک مذہبی انتہا پسند نے اسلئے قتل کر دیا تھا کہ انہوں نے ’’توہین‘‘ کے ایک مقدمے میں دو عیسائی ملزمان کو بری کر دیا تھا۔ طاہر بھٹی صاحب ان کے بھتیجے ہیں جو اس واقعے کے بعد خاندان سمیت امریکا منتقل ہو گئے تھے۔
ہیوسٹن میں ہمارا آخری دن تھا جب ہمیں خوش خبری ملی کہ ہمارے مرغوب شاعر احمد مشتاق صاحب نے ملاقات کی ہامی بھر لی ہے۔ مرزا عنایت اشرف گورگانی المعروف عیش بھائی ’’بیچ‘‘ کے آدمی تھے، عیش بھائی نے پہلے احمد مشتاق صاحب کو ان کے گھر سے لیا پھر ہمیں۔ مشتاق صاحب اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے، عباس تابش صاحب اور ہم پیچھے بیٹھ گئے۔ مشتاق صاحب نے پہلا جملہ کہا کہ میں تو گاڑی سے اتر کر آپ سے ملنا چاہتا تھا۔ ہم حیران ہوئے، ہمیں تو بتایا گیا تھا وہ زرا کڑوے آدمی ہیں۔ پھر کہنے لگے حماد صاحب میں نے آپ کو فیض فیسٹیول کی ویڈیو میں سنا تھا، آپ کی غزل اچھی تھی۔ ہمیں کانوں پر اعتبار نہ آیا، ہمیں تو بتایا گیا تھا وہ سال بھر میں ایک آدھ شعر پر ہی داد دیتے ہیں۔ ہمارے بزرگوں کو امرتسر سے جانتے تھے۔ امرتسر اور لاہور کی نسبت سے ہمارا قارورہ مل گیا، وہ گھنٹوں ہم سے ان شہروں اور اپنے پرانے دوستوں کی باتیں کرتے رہے، ناصر کاظمی، انتظار حسین، شہزاد احمد، مظفر علی سید اور بہت سے۔ کہنے لگے آج بھی مجھے امرتسر ’’پہنچنے‘‘ میں ایک لمحہ لگتا ہے، آج بھی اگر میں امرتسر ریلوے اسٹیشن پر اتروں تو اپنے گھر جا سکتا ہوں۔ (گو 14سال کی عمر میں لاہور آ گئے تھے) ہم نے ان کو ان کا شعر سنایا:
اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے
اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے
شعر سن کر احمد مشتاق صاحب نے آنکھیں موند لیں۔
