کیا نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اعلامیہ عمران خان کے خلاف چارج شیٹ ہے؟

آٹھ اپریل کو جاری کردہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے چھوٹے سے اعلامئےمیں اگلے چھ مہینے کا پاکستان واضح نظر آرہا ہے .چودہ مئی کو پنجاب الیکشن نہیں ہورہا، سکیورٹی کمیٹی اعلامیے میں سکیورٹی اداروں کے خلاف فارن سپانسرڈ پراپیگنڈا کی جو مذمت کی گئی ہے وہ سیدھا سیدھا تحریک انصاف کی طرف اشارہ ہے اس کے علاوہ عمران خان کی تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں نرم روئیے کی پالیسی کو بھی مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے. ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے گزشتہ روز جاری ہونے والے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اعلامیے کے حوالے سے ملکی صورت حال پر اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوۓ کیا. انہوں نے کہا کہ اعلامیے کا ایک ایک لفظ بہت سوچ سمجھ کر لکھا گیا ہے ، چھوٹے سے اعلامیے میں اگلے چھ مہینے کا پاکستان واضح نظر آرہا ہے. اس بیا ن میں تین چیزیں واضح ہیں، ایک تو کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف ہمارے آپریشنز جاری رہیں گے، اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور پاکستان آرمی دہشتگردوں کیخلاف جنگ میں مصروف ہے وہ دستیاب نہیں ہے . دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ نیشنل سکیورٹی کے ذمے دار اداروں کے خلاف فارن سپانسرڈ پراپیگنڈا کی شدید مذمت کی گئی ہے آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے ، تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہےاور رانا ثنا الله سے پوچھنے کی ضرورت بھی نہیں ہے کہ یہ کس کی طرف اشارہ ہے یہ سیدھا سیدھا پی ٹی آئی کی طرف اشارہ ہے ، تیسری اہم بات یہ ہے کہ اعلامئے میں یہ کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان کے ساتھ جو مذاکرات کی پالیسی تھی اور جو ان کے لوگوں کو رہا کیا گیا ان کے ساتھ جو نرم پالیسی اختیار کی گئی اس کا ہمیں بہت نقصان ہوا ہے . یہ کس کی پالیسی تھی ؟ یہ عمران خان کی پالیسی تھی . اب عمران خان یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ تو جنرل باجوہ کی پالیسی تھی . ایسی بات نہیں ہے . عمران خان جب اقتدار میں نہیں آئے تھے اس وقت بھی وہ یہ کہتے تھے کہ میں پشاور میں ٹی ٹی پی کو دفتر کھول کر دینے کے لئے تیار ہوں اور پھر مذاکرات کے بھی وہ حامی تھے یہ علیحدہ بحث ہے کہ ان کی یہ پالیسی ٹھیک تھی یا نہیں . لیکن نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اعلامیے میں عمران خان ، جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کی طالبان کے حوالے سے پالیسی کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے … حامد میر نے کہا کہ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ چودہ مئی کو الیکشن نہیں ہورہا، جسٹس اطہر من اللہ کا جو نوٹ ہے اس میں ایک جھلک نظر آرہی ہے کہ کبھی سیاستدان ہمارے پاس آتے ہیں کہ ہم نے اسمبلی سے استعفیٰ دیا ہوا ہے ہمارا استعفیٰ قبول کروادیں، پھر وہی سیاستدان آتے ہیں کہ ہم نے اسمبلی میں واپس جانا ہے ہمیں واپس بھجوادیں آئین پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوتا تو کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، یہ ہے پاکستان کا اصل المیہ۔ اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر حامد میر نے لکھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ سامنے آنےکے بعد مسلح افواج اور عدلیہ کے آمنے سامنے آنے کا کوئی خدشہ نہیں قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں ریاستی اداروں کے خلاف بیرونی سپانسرڈ پراپیگنڈے کی شدید مذمت کی گئی اعلامیے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ کون کر رہا ہے لیکن اعلامیے کے الفاظ پر غورکریں اور کچھ سطور کو ایک دوسرے سے ملا کر پڑھیں تو بہت کچھ سمجھ آ جاتا ہے . یاد رہے کہ وزیراعظم محمد شہبازشریف کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کا 41واں اجلاس جمعہ کو وزیراعظم ہائوس میں ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا ،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ، سروسز چیفس اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس نے جامع قومی سلامتی پر زور دیا جس میں عوام کے ریلیف کو مرکزی حیثیت قرار دیا گیا اور فورم کو بتایا گیا کہ حکومت اس ضمن میں اقدامات کررہی ہے۔کمیٹی نے دہشت گردی کی حالیہ لہرکو دہشت گردقرار دی جانے والی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ نرم گوشہ اور عدم سوچ و بچار پر مبنی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا جو کہ عوامی توقعات اور خواہشات کے بالکل منافی ہے جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بلا رکاوٹ واپس آنے کی نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ ٹی ٹی پی کے خطرناک دہشت گردوں کو اعتمادسازی کے نام پر جیلوں سے رہا بھی کردیاگیا، واپس آنے والے اِن خطرناک دہشت گردوں اور افغانستان میں بڑی تعداد میں موجود مختلف دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے مدد ملنے کے نتیجے میں ملک میں امن واستحکام منتشر ہوا جو بے شمار قربانیوں اور مسلسل کاوشوں کا ثمر تھا۔ پاکستان سے ہر طرح اور ہر قسم کی دہشت گردی کے ناسُور کے خاتمے کے لئے ایک مجموعی، ہمہ جہت اور جامع آپریشن میں سیاسی، سفارتی سکیورٹی، معاشی اور سماجی سطح پرکوششیں بھی شامل ہوں گی۔ اجلاس میں مقتدر انٹیلی جنس ایجنسی کے کامیاب آپریشن کوسراہا گیا جس میں انہوں نے انتہائی مطلوب دہشت گرد گلزار امام عرف شمبے کو گرفتارکیا جو دہشت گرد بلوچ نیشنل آرمی اور ’براس‘ کا بانی اور ایک عرصے سے مختلف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔ کمیٹی نے ملک دشمنوں کے مذموم عزائم ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ شہداءکی عظیم قربانیوں اور مسلسل کاوشوں سے حاصل ہونے والے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کو یقینی بنایا جائے گا۔ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے مربوط کوششوں کے تناظر میں ایک اعلیٰ سطح کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جودو ہفتوں میں اس پر عملدرآمد اور اس کی حدود و قیود سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔

خیبر میں فرنٹئیر کور کی گاڑی پر بارودی سرنگ دھماکا، ایک اہلکار شہید،3زخمی

Back to top button