خاندانی بغاوت نے نواز شریف کی سیاست کو کیسے ختم کیا؟

تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم بننے اور اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں سے نبرد آزما ہونے والے نواز شریف خاندانی کشمکش میں قربان کئے جانے کے بعد اب مری کی خوبصورتی میں اضافے اور لاہور کی تاریخی عمارتوں کی بحالی تک محدود ہو چکے ہیں۔
معروف صحافی ماجد نظامی بی سی اردو کے لیے اپنی تحریر میں بتاتے ہیں کہ جب مغل شہنشاہ شاہ جہاں کو انکے بیٹے اورنگ زیب عالمگیر نے آگرہ قلعہ میں قید کر دیا تو شاہ جہاں نے فرمائش کی انہیں کچھ طالب علم مہیا کئے جائیں تاکہ وہ انہیں قرآن پاک پڑھا سکیں اور قید کا وقت بہتر گزر جائے۔ اس پر اورنگ زیب نے جواب دیا کہ قید میں بھی ابا حضور کی حکمرانی کی خواہش نہیں گئی اور اب بھی چاہتے ہیں کہ کوئی تو ہو جس پر اپنا حکم چلا سکیں۔ یہ حکایت تو چند سو سال پرانی ہے لیکن تین مرتبہ وزیراعظم اور دو مرتبہ وزیر اعلی پنجاب رہنے والے نواز شیریف جب لاہور شہر کے قدیمی تاریخی ورثے کی بحالی کے حوالے سے اجلاسوں کی صدارت کرتے نظر آتے ہیں تو بے اختیار شاہ جہاں سے منسوب حکایت یاد آتی ہے۔ یاد رہے کہ شاہ جہاں نے برصغیر کو تاج محل آگرہ اور لال قلعہ دہلی جیسے شاہکار دئیے تھے جب کہ نواز شریف پاکستان میں موٹر ویز کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔
ماجد نظامی کہتے ہیں کہ اس خطے میں مغل درباروں میں مختلف شہزادوں اور شہزادیوں کے اثر ورسوخ، طاقت کے حصول کیلئے منصوبہ بندی اور مفادات کی کشمکش کے کئی اور واقعات بھی تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ انگریز دور اور اسکے بعد برصغیر کی تقسیم کے بعد نظام تو تبدیل ہو گئے لیکن اس کھیل کے طریقہ کار اور کھلاڑیوں کی ذہنیت میں تبدیلی نہ آسکی۔ اسی تناظر میں الیکشن 2024 کے تحت بننے والے نئے انتظام میں نواز شریف کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال کر باہر کر دیا گیا۔ تاہم اسکے عوض انکے فوج نواز بھائی اور بیٹی نئے نظام میں اسلام آباد اور لاہور کے حاکم بن گئے۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ جب مسلم لیگ نون الیکشن 2024 میں اکثریتی پارٹی بن گئی تھی تو نواز شریف وزیراعظم کیوں نہ بن پائے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ماضی میں جب بھی نواز شریف وزیراعظم بن کر اقتدار میں آئے انہوں نے کسی نہ کسی جرنیل کو ضرور ناراض کیا۔ اسلئے اس مرتبہ خاندان کی جانب سے ہی یہ فیصلہ کیا گیا کہ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے شخص کو اب آرام کرنا چاہیے۔ نواز شریف جب بھی قومی اسمبلی پہنچے تو وزارتِ عظمیٰ کی کرسی انکی منتظر رہی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس مرتبہ وہ اسمبلی میں اس حال میں پہنچے کہ انکی جیت پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا تھا اور ایوان میں موجود ہونے کے باوجود انکی جماعت نے انہیں وزیراعظم کے منصب پر فائز نہ کیا۔ دل کی تسلی کیلئے انہیں قائد، رہنما، سرپرست تو کہا جاتا ہے لیکن بے بسی کا عالم یہ ہے کہ وہ کسی مقدمے میں نااہل بھی نہیں، رکن اسمبلی بھی ہیں، انکی جماعت کی اکثریت بھی ہے لیکن وہ وزیراعظم پاکستان نہیں ہیں۔
ماجد نظامی کہتے ہیں کہ تاریخ میں جب بھی اقتدار کی جنگ، خفیہ منصوبہ بندیوں اور سرکار دربارکے گٹھ جوڑ کا تذکرہ آتا ہے تو انہیں محلاتی سازشوں کا نام دیا جاتا ہے ۔ اقتدار کے اس کھیل میں طاقت کے حصول کیلئے راستہ بنانا سبکی خواہش ہوتی ہے لیکن منزل پانے کیلئے ترتیب دی جانے والی حکمت عملی میں کون کس کی قربانی دیتا ہے، یہ اہم شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستانی سیاست میں ایک مرتبہ پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے، جب بینظیر بھٹو نے اپنی والدہ نصرت بھٹو کو مادر ِجمہوریت کے عہدے پر فائز کیا لیکن پارٹی قیادت اور حکومتی بندوبست سے دورکر دیا۔ طاقت کے ایوانوں میں ہونیوالے اقتدار کے اس کھیل میں کئی مرتبہ خون کے رشتے ہی سب سے کمزور نکلتے ہیں۔ نصرت بھٹو اپنی بیٹی بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں وفاقی وزیر بھی رہیں لیکن بعد ازاں اپنے بیٹے مرتضی بھٹو کی حمایت کی وجہ سے انہیں اپنی پارٹی نے ہی آئسولیٹ کر دیا تھا۔
نواز شریف کو بھی آج کل کچھ ایسے ہی حالات کا سامنا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نواز شریف کے صاحبزادوں حسین نواز اور حسن نواز کو سیاست میں آنے کی خواہش نہیں۔ وگرنہ مریم نواز کو بھی پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلئے بے نظیر بھٹو کی طرح کوششیں کرنا پڑتیں۔ جب محلاتی سازشوں کی وجہ سے کسی بادشاہ کو اسکےاپنے ہی اہل خانہ معزول کرتے ہیں تو اسے Bloodless coup "بلڈ لیس کو” کا خوبصورت نام دیکر بغاوت کی حساسیت کو کم کیا جاتا ہے۔ معزولی کے بعد بادشاہ اقتدار سے محروم تو ہو جاتا ہے لیکن اسکی عزت و تکریم میں کمی نہیں کی جاتی۔ معزول بادشاہ اپنی بقیہ عمر سماجی خدمت اور دیگر بے ضرر مشاغل میں گزار دیتے ہیں۔
لیکن ماجد نظامی کے مطابق اہم سوال یہ ہے کہ کیا تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کا سیاسی مستقبل یہی ہو گا کہ وہ لاہور اور مری کی خوبصورتی میں اضافے اور تاریخی عمارتوں کی بحالی کے اجلاسوں میں شرکت کیا کریں گے۔ بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے کہ ہر دور میں اسٹیبلشمنٹ کے طاقتوروں سے نبرد آزما ہونے والے نواز شریف ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کرنے کے بعد خاندانی بغاوت کے نتیجے میں قربان کئے جا چکے ہیں۔
