ڈونلڈ ٹرمپ پرحملہ جوبائیڈن کا صدارتی الیکشن کیسے لے ڈوبا؟

آئندہ انتخابات میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیورٹ قرار دئیے جانے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے دوبارہ صدارتی امیدوار نہ بننے پر غور شروع کردیا ہے۔ صدر بائیڈن کے انتہائی قریبی افراد کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن نے دستبردار ہونے کے لیے ابھی اپنا ذہن تو نہیں بنایا تاہم بظاہر وہ اس حقیقت کو تسلیم کررہے ہیں کہ انہیں ممکنہ طور پر اس دوڑ سے دستبردار ہونا پڑے گا۔

دوسری جانب ڈیمو کریٹک امریکی صدر جو بائیڈن پر آئندہ میعاد سے دستبرداری کیلئے اپنوں کا دباؤ بھی بڑھ گیا ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی نے متبادل صدارتی امیدوار کی تلاش شروع کردی گئی ہے ، ڈیموکریٹک پارٹی کے کنونشن سے قبل صدارتی امیدوار واضح ہو جائے گا۔

جہاں ایک طرف امریکا کی انتخابی سیاست نہ صرف زوروں پر ہے بلکہ تاریخی اور انقلابی ماحول کی زد میں بھی ہے۔ ڈیموکریٹ امریکی صدر بائیڈن پر خود ان کی اپنی ڈیموکریٹک پارٹی کی لیڈر شپ کا دبائو بڑھ گیاہے کہ وہ اپنی صحت اور ضعیف العمری کے منفی اثرات کے باعث دوسری چار سالہ میعاد صدارت کی امیدواری سے دستبردار ہوجائیں۔ کرونا میں مبتلا صدر بائیڈن نے بھی مزاحمت کی حکمت عملی چھوڑ کر مشروط انداز میں اپنی پارٹی لیڈرشپ کے مطالبہ کو ماننے پر آمادگی کاظہار کردیا ہے اگلے ماہ 19؍ اگست کو شکاگو میں ہونے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے کنونشن 2024ء میں صدارتی امیدوار کی نامزدگی سے قبل ہی یہ واضح ہوجائے گا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کا اصل صدارتی امیدوار کون ہوگا۔

تاہم مبصرین کے مطابق پارٹی کنونشن سے اتنے قریبی ایام میں یہ صورتحال انتخابات کے لحاظ سے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کیلئے منفی اثرات کی حامل ہے جبکہ بائیڈن کے مخالف ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ قاتلانہ حملے سے بچنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف اپنی پارٹی میں اپنی مخالفت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں بلکہ انھوں نے بائیڈن سے پہلا مباحثہ جیتنے اور بائیڈن کی صحت اور مقبولیت کے منفی اثرات اور کمی کو اجاگر کرکے اب ری پبلکن پارٹی کے کنونشن سے متفقہ نامزدگی بھی حاصل کر لی ہے جبکہ اب وہ اپنی عوامی مقبولیت میں بھی مزید اضافہ کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

دوسری طرف امریکا کی سرفہرست ڈیموکریٹ رہنمااور سابق اسپیکر نینی پلوسی نے ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹ رہنماؤں کو آگاہ کردیا ہے کہ جوبائیڈن کو ممکنہ طور پر جلد اس بات پر تیار کرلیا جائے گا کہ وہ دوبارہ صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ سے باہر ہوجائیں۔ بائیڈن اس فیصلے پر پہنچنے کے قریب تر ہیں کہ صدارتی دوڑ سے باہر ہونا ہی بہتر ہوگا۔

امریکی میڈیا کے مطابق نینسی پلوسی ہی وہ شخصیت ہیں جو صدر بائیڈن کو اس بات پر آمادہ کررہی ہیں کہ وہ دوبارہ صدارتی الیکشن نہ لڑیں۔ نینسی پلوسی نے ڈیموکریٹ اراکین کو بتایا ہے کہ یہ وقت ہے کہ بائیڈن صدارتی دوڑ چھوڑ دیں اور بہت جلد انہیں اس بات پرراضی کرلیا جائے گا کیونکہ شدید خدشات ہیں کہ بائیڈن نومبر میں ہونے والے صدارتی الیکشن جیت نہیں سکیں گے۔

تاہم بائیڈن کی انتخابی مہم کے مشیر کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر سختی اختیار تو نہیں کرنا چاہتے مگر نہ جانے کتنی بار بتانا پڑے گا کہ جو بائیڈن واضح کرچکے ہیں کہ وہ الیکشن لڑیں گے اور انتخابی مہم آگے بڑھ رہی ہے۔

Back to top button