پاکستان میں فوج کی حمایت یافتہ ٹیکنوکریٹ حکومت کی پیش گوئی

عمران خان کی تحریک انصاف اور شہباز شریف حکومت کے مابین بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے بعد اب اسلام اباد میں یہ افواہیں گرم ہیں کہ موجودہ سیٹ اپ کا چند ماہ میں خاتمہ ہو جائے گا جس کے بعد ایک ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ وجود میں ائے گا جو ملکی معاملات چلائے گا۔

معروف انٹرنیشنل کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ Fitch کی تازہ ترین رپورٹ میں بھی یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ شہباز شریف حکومت ڈیڑھ برس سے زیادہ نہیں چلے گی جس کے بعد ایک ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ تشکیل پائے گا۔ تاہم فچ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا یے کہ عدالتوں سے شنوائی کے باوجود عمران خان کے ابھی جیل سے باہر آنے کا امکان نہیں۔ رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی حکومت اگلے 18 ماہ تک بھی برسر اقتدار رہے گی اور آئی ایم ایف کے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی۔ اسکے بعد رپورٹ کہتی یے کہ اگر کسی صورت میں حکومت چلی بھی جاتی ہے تو متبادل کے طور پر نئے انتخابات کے بجائے زیادہ امکان فوج کی حمایت یافتہ ٹیکنوکریٹس حکومت کے ہیں۔

تاہم یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ ایک کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کی ان پیش گوئیوں کی بنیاد کیا ہے اور اس کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا ماضی میں بھی عالمی ادارے ایسے کسی ملک کے سیاسی حالات پر تبصرے کرتے رہے ہیں؟ بی بی سی نے اس حوالے سے مختلف ماہرین سے بات کی ہے۔ عارف حبیب لمیٹڈ میں ہیڈ آف ریسرچ اور معاشی امور کی تجزیہ کار ثنا توفیق کے مطابق معاشی درجہ بندی کرنے والے اداروں کا ایک میکنزم ہوتا ہے۔ ’وہ معاشی کے علاوہ سیاسی پہلو بھی دیکھتے ہیں اور سیاسی جماعتوں اور انکے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کرتے ہیں۔ وہ سٹیٹ بینک حکام سے لے کر دیگر اداروں کے کرتا دھرتا افراد سے بھی ملتے ہیں۔ اسکے علاوہ معیشت پر رپورٹس اور اعدادوشمار لیے جاتے ہیں۔ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی والے ہر طرح کی معلومات حاصل کرتے ہیں اور پھر ان کی بنیاد پر اپنا تجزیہ کرتے ہیں لہازا ثنا توفیق کی رائے میں فچ جیسے ادارے اپنے لحاظ سے ’فیئر‘ تجزیہ کر رہے ہوتے ہیں۔

دوسری جانب معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا ہے کہ ’سرکاری ملاقاتوں اور اعدادوشمار کے علاوہ درجہ بندی کرنے کے لیے ان اداروں کے اپنے ذرائع بھی ہوتے ہیں۔‘’یہ اس ملک کے متعلق شائع ہونے والی خبروں کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔‘ ان کے مطابق ’یہ بات پہلے دن سے کی جا رہی تھی کہ یہ حکومت 18 ماہ کے لیے آئی ہے تو ہو سکتا ہے کہ فچ نے بھی ان خبروں کے زیر اثر پانچ سال کے بجائے 18 ماہ کا ہی ذکر کیا ہے۔‘ فوج کی حمایت میں قائم ہونے والے ٹیکنوکریٹ انتظامیہ سے متعلق تبصرے پر ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا کہ فچ نے اپنے ذرائع سے یہ بات یا تجزیہ پیش کیا ہوگا۔
تاہم وزارت خزانہ کے سابق ترجمان اور ماہر معاشی امور ڈاکٹر نجیب خاقان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی وزارت خزانہ کو یہ وضاحت دینی چاہیے کہ فچ کی ٹیم اس نتیجے پر کیسے پہنچی۔‘ ان کے مطابق ایک درجہ بندی کے ادارے کی طرف سے ’کسی ملک کے اندرونی حالات پر اس طرح کا تبصرہ مناسب نہیں ہے۔‘ انکا کہنا یے کہ ’پاکستانی حکام یہ بات یقینی بنا سکتے تھے کہ اس رپورٹ کے آنے سے پہلے اس طرح کے تبصرے کے الفاظ بہتر ہو جاتے کیونکہ جب باہر کے لوگ اس طرح کا تبصرہ پڑھیں گے تو پاکستان پر ان کا اعتماد کمزور ہو گا۔‘

معاشی ماہر خرم شہزاد کی رائے میں ’پاکستان سے متعلق فچ کی رپورٹ کو مثبت نہیں کہا جا سکتا۔‘
ان کے مطابق اس رپورٹ میں جس طرح ڈیڈھ برس میں حکومت کی تبدیلی کی صورت میں فوج کی طرف سے نئی حکومت تشکیل دینے کی بات کی گئی ہے ’اس طرح درجہ بندی کے ادارے کبھی تبصرے نہیں کرتے۔ انکا کہنا تھا کہ موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل جیسے درجہ بندی کے ادارے سیاسی حالات پر ماضی میں بھی ضرور بات کرتے آئے ہیں مگر وہ ٹرینڈز اور حالات پر تبصرہ یا تجزیہ کرتے ہیں اور پھر ان کی وجوہات بھی دیتے ہیں مگر وہ کبھی حکومتوں کی تبدیلی اور کسی آنے والی ممکنہ حکومت کے خدوحال نہیں بتاتے۔ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کی سیاسی پیش گوئیوں کی کیا بنیاد ہے، اس بارے رپورٹ میں کوئی معلومات نہیں ملتی ہیں۔

لیکن ثنا توفیق کے مطابق ’جب اتنی بڑی درجہ بندی کے ادارے سیاسی پہلو پر تبصرہ کرتے ہیں تو اس کے اثرات تو ملک پر پڑتے ہیں۔‘ان کی رائے میں اس رپورٹ میں سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے معاشی خطرات کے پہلو سے بات کی گئی ہے۔ثنا کے مطابق فچ رپورٹ میں ممکنہ خطرات کا تجزیہ کیا گیا ہے ’مگر پاکستان کے لیے کیا ہوگا سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ’کس کے امکانات‘ ہیں۔

معاشی امور کے ماہر ارسلان آصف سومرو بھی ثنا توفیق کی اس بات سے متفق ہیں کہ درجہ بندی میں سیاسی تبصرے، تجزیہ اور پیش گوئیاں ضرور ہوتی ہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایجنسیاں اپنی درجہ بندی کو بہتر بھی کرتی ہیں۔ان کے مطابق ’جب عمران خان کو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا اور پھر ملک میں ایک نگران حکومت کا دور آیا تو اس وقت پاکستان کی ان عالمی اداروں کی نظر میں سیاسی درجہ بندی بہت خراب تھی مگر پھر جب انتخابات ہو گئے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہو گیا تو درجہ بندی میں بہتری دیکھنے میں آئی۔‘ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے غیر یقینی سیاسی حالات کی وجہ سے ماضی میں ڈیفالٹ تک کی پیش گوئیاں کی جا چکی ہیں مگر پھر ان اداروں نے ہی تسلیم کیا کہ وہ پیش گوئیاں درست ثابت نہیں ہوئیں۔‘ ارسلان آصف کی رائے میں ’ابھی جب پھر یہ درجہ بندی کے ادارے رپورٹ جاری کریں گے تو پھر اس رپورٹ میں وہ سیاسی درجہ بندی کو بھی بہتر کریں گے کیونکہ بظاہر پاکستان میں اس وقت حکومت مستحکم ہے اور آئی ایم ایف کے پروگرام کی روشنی میں اصلاحات نافذ کرنے کے راستے پر ہے۔‘

Back to top button