آن لائن جوئے کے نیٹ ورک نے پورے پاکستان کو لپیٹ میں کیسے لیا؟

 

 

 

پاکستان میں آن لائن جوا اب محض ایک کھیل یا وقتی تفریح نہیں رہا بلکہ ایک ایسے عفریت میں ڈھل چکا ہے جو نوجوان نسل، معیشت اور سماجی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جہاں دنیا کے کئی ممالک اس خطرے کو سخت قوانین اور مؤثر ریگولیشن کے ذریعے قابو کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، وہیں پاکستان میں اس سنگین مسئلے کے حوالے سے آج تک کوئی جامع قانون سازی ہی نہیں کی گئی۔ نتیجہ یہ ہے کہ حکومت صرف وقتی پابندیوں اور نمائشی اعلانات کے ذریعے اس وبا کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

 

قانون سازی کی کمی اور مجرموں کو قرار واقعی سزائیں نہ ملنے کے باعث آن لائن جوا ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے جس نے پورے معاشرے کوجکڑ لیا ہے۔ ہر روز ہزاروں پاکستانی اپنی محنت کی کمائی ان غیر قانونی ایپس پر لٹا رہے ہیں، مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے چند رسمی گرفتاریاں اور کاغذی کارروائیاں کرکے سب اچھا ہونے کا تاثر دینے میں مصروف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک اس عفریت کے خلاف سخت اور مستقل قانونی اقدامات نہیں کیے جاتے، یہ ناسور پاکستان کے سماجی اور معاشی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کرتا رہے گا۔

 

ایک سروے کے مطابق 2022 میں پاکستان کی 22 فیصد آبادی آن لائن جوئے میں ملوث تھی، اور آج یہ شرح کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر صارفین ان ایپس تک رسائی کے لیے VPN استعمال کرتے ہیں، جس سے حکومتی پابندیاں بے اثر ہو جاتی ہیں۔ ناقدین کے مطابق پاکستان میں جوئے کو روکنے کے لیے  Prevention of Gambling Act 1977 قانون موجود ہے۔ تاہم یہ قانون صف صدی پرانا ہے جس کے خدوخال میں ڈیجیٹل جوئے کا دور دور تک کوئی ذکر تک موجود نہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان میں اب تک آن لائن یا ڈیجیٹل جوئے کے لیے کوئی واضح دفعات موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ سے اس پر کارروائی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے آن لائن جوئے میں ملوث افراد گرفت میں ضرور آتے ہیں تاہم قانونی ابہام اور خلا کی وجہ سے سزا سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔

 

قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان میں مروجہ قانون کے تحت جوئے میں ملوث افراد کو ایک سے تین سال قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے، جبکہ جو لوگ جوا کروانے یا اس کی سہولت دینے میں شامل ہوں ان پر بھی یہی سزائیں لاگو ہوتی ہیں۔ چونکہ آن لائن جوا زیادہ تر بیرونِ ملک رجسٹرڈ ویب سائٹس اور موبائل ایپس کے ذریعے ہوتا ہے اور صارفین وی پی این کے ذریعے ان تک رسائی حاصل کرتے ہیں، اس لیے پاکستان میں مروجہ قوانین کا عملی نفاذ پیچیدہ ہو جاتا ہے اور ملزمان سزاؤں سے بچ نکلتے ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق اس خلا کو دور کرنے کے لیے حکومت کو فوری طور پر آن لائن جوئے کے خلاف مخصوص اور جدید قوانین متعارف کرانے چاہییں تاکہ ان پلیٹ فارمز اور صارفین کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہو سکے۔قانونی ماہرین کے مطابق اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کے پاس نہ تو جدید سائبر ٹیکنالوجی موجود ہے، نہ ہی مالیاتی اداروں کے ساتھ مربوط نظام، اور نہ ہی کوئی مخصوص قانون۔ یہی خلا آن لائن جوا ایپس کو پنپنے کا موقع دیتا ہے۔

 

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق آن لائن ایپس نوجوان نسل کو جوا کھیلنے کی لت میں مبتلا کر دیتی ہیں، جو نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتی ہے بلکہ ڈیٹا چوری، بلیک میلنگ اور منی لانڈرنگ جیسے خطرات کو بھی جنم دیتی ہے۔ ایک عام نوجوان جو ان ایپس کے ذریعے جوا کھیلتا ہے، وہ اپنی تنخواہ یا جیب خرچ تو کھو ہی دیتا ہے، ساتھ ہی غیر ملکی مافیاز کے ہتھے بھی چڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے بقول آن لائن جوا پاکستان کے لیے ایک ایسا چیلنج ہے جسے نظر انداز کرنا مستقبل میں سماجی بحران کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ ریاست کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے: کیا وہ اس رجحان کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی یا ہمیشہ کی طرح صرف "کارروائیوں کے اعداد و شمار” پیش کر کے خواب خرگوش کے مزے لیتی نظر آئے گی؟

Back to top button