محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر عمران کا یو ٹرن

 

 

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے ایک مرتبہ پھر یو ٹرن لیتے ہوئے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں عمر ایوب خان کی جگہ نیا اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کے فیصلے سے یوٹرن لے لیا ہے۔ بانی تحریک انصاف نے دو روز پہلے ہی محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اور اعظم سواتی کو سینٹ میں نیا اپوزیشن لیڈر نامزد کیا تھا۔ تاہم 48 گھنٹوں بعد ہی اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے عمران نے پارٹی قیادت کو پیغام دیا ہے کہ عمر ایوب خان اور شبلی فراز کی بطور اراکین پارلیمنٹ نا اہلی کے خلاف دائر کردہ درخواستوں کے عدالتی فیصلے آنے تک نئے اپوزیشن لیڈرز کی نامزدگی کے لیے کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔

 

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کے فیصلے کی پارٹی میں سخت مخالفت ہوئی تھی جس کے بعد عمران اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ایک سیٹ والے اچکزئی کو 80 سیٹیں رکھنے والی تحریک انصاف کا اپوزیشن لیڈر نامزد کرنا پوری پارٹی کی توہین ہو گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کر کے عمران نے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت پر عدم اعتماد کر دیا ہے۔

 

یہ اعتراض بھی کیا جا رہا تھا کہ عمران خان نے جس محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اسے وہ کرپٹ قرار دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ عمران خان نے محمود اچکزئی پر یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ انہوں نے اپنے 8 رشتہ داروں کو دھاندلی سے اسمبلی تک پہنچایا کے الزام عائد کیے تھے۔

 

ناقدین کا کہنا تھا کہ خان صاحب ماضی میں بطور وزیراعظم اچکزئی کو چادر اوڑھنے پر جوکر قرار دے کر ان کی نقلیں اتارتے رہے ہیں، چنانچہ بانی تحریک انصاف اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے فیصلے سے یو ٹرن لینے پر مجبور ہو گئے۔

 

دوسری جانب عمران خان نے سینیٹ میں اعظم سواتی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا ہے۔ اب بظاہر انہوں نے یہ فیصلہ بھی واپس لے لیا ہے کیونکہ اعظم سواتی کی نامزدگی پر بھی سخت تنقید کی جا رہی تھی۔ یاد رہے کہ سواتی امریکہ میں ایک بڑے مالی فراڈ میں پہلے مطلوب اور پھر مفرور ہونے کے بعد پاکستان بھاگ آئے تھے۔ سواتی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ صرف اور صرف پیسے کے زور پر خان کے قریب ہوئے۔ انکی ججز کے ایک گیسٹ ہاؤس میں سیکس کرتے ہوئے برہنہ ویڈیو بھی سامنے آ چکی ہے۔ ویڈیو کے مارکیٹ ہونے کے بعد سواتی نے ایک پریس کانفرنس میں روتے ہوئے یہ دعوی کیا تھا کہ ویڈیو میں نظر انے والی خاتون ان کی شریک حیات ہے، تاہم وہ اس سوال کا جواب نہیں دے پائے تھے کہ اس عمر میں گھر والی کے ساتھ کے ساتھ سیکس کرنے کے لیے انہیں ججز گیسٹ ہاؤس میں جانے کی کیا سوجھی جب کہ وہ ارب پتی ہیں اور کسی بھی فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہر سکتے تھے۔

 

اعظم سواتی نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ خفیہ ایجنسیوں نے  ان کی سیکس کرتی ویڈیو انکی بیٹی کو بھی واٹس ایپ کر دی تھی۔ تاہم پارٹی قیادت کے مطابق بانی نے سواتی کی تقرری میرٹ پر کی ہے اور اس فیصلے کا ان کی مالی حیثیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

 

یاد رہے کہ عمران خان نے قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈرز کی نامزدگیاں تب کیں جب عمر ایوب خان اور شبلی فراز کو 9 مئی کے حملوں میں انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزا ملنے کے بعد اپوزیشن لیڈر کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ لیکن اب عمران خان نے وقتی طور پر یہ فیصلے واپس لے لیے ہیں۔

Back to top button