پاکستانی قوم ضیاء اور مشرف سوچ کے درمیان پنڈولم کیسے بنی؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ ہمیں ماننا پڑے گا کہ جنرل ضیاء الحق کی جہادی اور جنرل پرویز مشرف کی لبرل دونوں سوچیں غلط تھیں اور دونوں کے پیچھے اصل محرک امریکہ کی تھا۔ دونوں فوجی ڈکٹیٹرز کی جہادی اور لبرل سوچوں میں شدت تھی اور پاکستانی معاشرہ یہ دونوں سوچیں رکھنے والے لوگوں کے لیے نہیں بنا تھا۔
جاوید چوہدری اپنے سیاسی تجزیے میں یاد دلاتے ہیں کہ پاکستان کسی جنگ کے بجائے جمہوری عمل کے ذریعے بنا تھا‘ برصغیر کے مسلمان کسی حدتک جمہوریت پسند اور لبرل تھے‘ آپ اس کا اندازہ دو حقیقتوں سے لگا لیجیے‘ ہندوستان کے مسلمانوں کی اکثریت سنی العقیدہ تھی لیکن آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے صدر اسماعیلیوں کے مذہبی رہنما آغا خان سوم تھے اور یہ اس کے تاحیات صدر رہے۔ مسلم لیگ کے 80 فیصد قائدین اہل تشیع تھے اور انھوں نے سنی اکثریت کے لیے ملک بنایا اور پاکستانی سنی مسلمان آج بھی ان کی تصویریں چومتے ہیں‘ ڈاکٹر اقبال اور محمد علی جناح کے مسالک مختلف تھے لیکن اقبال نے اس کے باوجود 1937 میں خط لکھ کر جناح کو لندن سے واپس بلایا اور انھیں مسلمانوں کی قیادت کے لیے قائل کیا۔
لیکن سینئر اینکر پرسن اظہار افسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک امام مسجد کے بیٹے جنرل ضیاء الحق نے پاکستان جیسے لبرل جمہوری ملک کو جہادی سوچ میں دھکیل دیا جس نے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں‘ انکے مطابق ایک دوسری حقیقت یہ یے کہ پاکستانی لبرل اور جمہوری ہونے کے ساتھ ساتھ معتدل مسلمان بھی ہیں۔
پاکستانی جس طرح مذہبی شدت پسندی سے دور ہیں بالکل اسی طرح وہ انتہا پسندانہ لبرل ازم کے بھی خلاف ہیں۔ یہ لوگ مسجد میں فرقہ واریت پسند نہیں کرتے تھے اور کسی کو مسجد شہید بھی نہیں کرنے دیتے تھے۔ دوسری طرف جنرل مشرف جنرل ضیاء الحق کی مکمل ضد تھا‘ وہ ایکسٹریم لبرل تھا جس نے جہادی گود میں پلنے والے بچے کو ماں کی گود سے کھینچ کر کلب میں کھڑا کر دیا‘ یہ ایک اور طرح کی ایکسٹریم تھی۔ اگر ضیا اور مشرف کے آمرانہ ادوار کے درمیان تیس چالیس سال کا وقفہ ہوتا تو شاید پاکستانی معاشرہ اسے ہضم کر لیتا لیکن بدقسمتی سے یہ تبدیلی ایک نسل میں لانے کی کوشش کی گئی۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ ضیا دور میں جب ہم بچے تھے تو ملک میں جمعہ کے دن چھٹی ہوتی تھی۔ مسجدوں میں باقاعدہ نمازیوں کی حاضری لگتی تھی اور ہمیں امریکہ کی تیار شدہ اسلامیات اور مطالعہ پاکستان پڑھایا جاتا تھا‘ تعلیمی اداروں میں جمعیت جیسی مذہبی جماعتیں بھی تھیں لہذا جو طالبعلم ان کی محفلوں میں نہ جاتا اسے پھینٹا لگایا جاتا تھا۔ لیکن جب ہم جوان ہوئے تو مشرف دور میں چھٹی اتوار پر شفٹ ہو گئی‘ جہاد کے ذکر پر پابندی لگ گئی‘ پولیس داڑھی والوں کو گرفتار کر کے تھانے لے جانے لگی‘ مسجدوں پر ریاستی حملے شروع ہو گئے یہاں تک کہ لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن ہو گیا لہٰذا میری نسل کنفیوز ہو گئی‘ میں آج بھی جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کی سوچ کے درمیان پنڈولم بنا ہوا ہوں‘ میرا دل مذہبی اور دماغ لبرل ہے اور میں روز ان دونوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور ناکام ہو جاتا ہوں۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں کیا کروں، میری پرورش اور پروفیشنل گروتھ دونوں ایک ہی ملک میں مختلف سوچ کے ساتھ ہوئی اور میں دونوں کے درمیان تقسیم ہو کر رہ گیا ہوں۔ یہ تضاد صرف مجھ تک محدود نہیں‘ ہماری ریاست پاکستان، ہمارا ہمسایہ ملک افغانستان اور ان دونوں ملکوں کے مدارس بھی اس عمل سے گزر رہے ہیں‘ ہم پاکستانی ضیا دور میں افغانستان کے لیے جہاد کی فیکٹری ہوا کرتے تھے‘ پھر مشرف دور میں ہم ان کے دشمن ہو گئے‘ اسکے بعد ان کے دوست بنے اور ہم اب ایک بار پھر ان کے دشمن بن گئے ہیں‘ سوچ کی اس مسلسل شفٹنگ نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا‘ میں اگر آج اس کا تجزیہ کروں تو مجھے اس کا ذمے دار صرف ایک ملک ملتا ہے اور اس کا نام امریکا ہے۔
سینئر اینکر پرسن کہتے ہیں کہ امریکا کو ضرورت تھی تو اس نے ہم پاکستانیوں کو جہادی بنا دیا‘ اسے ضرورت پڑی تو اس نے ہمیں بدل کر لبرل بنا دیا‘ اسے تیسری مرتبہ ضرورت پڑی تو اس نے 2021 میں ہمیں ایک بار پھر ہمیں طالبان کا ہمدرد بنا دیا اور ہم افغان طالبان کو اقتدار دلوانے دوحا پہنچ گئے جہاں ان کے امریکا سے 165 مذاکرات کے ادوار یوئے‘ ان مزاکرات کے بعد ہم نے افغان طالبان کو امریکا کے حکم پر دوبارہ افغانستان کے تخت پر بٹھا دیا‘ آپ ذرا خود ٹھنڈے دماغ سے سوچیے اگر کوئی قوم 45 سال میں چار مرتبہ اپنی سوچ میں 180 درجے کی تبدیلی لاتے ہوئے پہلے جہادی بنے گی‘ پھر لبرل ہو جائے گی‘ پھر سیمی جہادی ہو گی اور آخر میں جہادیوں کے خلاف جہاد کرے گی تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ کچھ ایسا ہی نتیجہ اس وقت نکل رہا ہے۔
