عمران نیازی کے سرنڈر نے ریاست کی رٹ کیسے تباہ کی؟

عمران خان حکومت کی جانب سے تحریک لبیک پر دہشت گردی کا الزام لگا کر پابندی لگائے جانے کے بعد اس سے مذاکرات اور پھر اسکے مطالبات تسلیم کرنے کے دوغلے عمل نے ریاستی رٹ خاک میں ملا دی ہے۔ بنیادی مسئلہ ہی یہ ہے کہ جب ریاست اپنی رٹ قائم نہیں کرتی تو تشدد پسند گروہ طاقتور ہو جاتے ہیں اور ریاست کو ماننے کو بجائے اپنی منوانے پر تل جاتے ہیں اور ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ 2016 میں اپنے قیام کے بعد سے تحریک لبیک کی پرتشدد کارروائیوں کے جتنے بھی واقعات ہوئے، ان کے ذمہ داروں سے کوئی باز پرس نہیں کی گئی بلکہ خفیہ ایجنسیوں کے ایما پر کیے گے امن معاہدوں کے بعد یا تو مقدمات کا اندراج ہی نہیں کیا گیا یا مقدمات ختم کر دیے گئے۔ اس غلط حکومتی پالیسی سے تشدد کے ذریعے ریاست کو جھکنے پر مجبور کرنے والے عناصر کے حوصلے بڑھتے چلے گئے۔
’وہ قانون کو ہاتھ میں لے رہے تھے۔ اُنھوں نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کر دیا تھا۔ وہ قومی سلامتی اور خارجہ تعلقات کے لیے خطرہ بن چکے تھے۔۔‘ محض ایک ہفتہ قبل یعنی 14 اپریل کو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے تحریک لبیک کے حوالے سے اس نوعیت کی فرد جرم سُنائی اور اعلان کیا کہ حکومت پاکستان نے اس تنظیم پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہاں پریس کانفرنس میں موجود ایک صحافی نے یہ اعلان سُنا اور سوال کیا کہ ’آپ نے اس مذہبی گروہ کے بارے میں آج جو کچھ کہا، کیا اسے ذہن میں رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ماضی میں آپ نے اور حکمراں جماعت تحریک انصاف نے اس جماعت کی جو حمایت کی تھی، وہ غلط تھی؟‘ یہ سوال سُن کر وفاقی وزیر داخلہ نے سمندہمہونے کی بجائے جو گول مول اس کا اپنا ایک تناظر ہے لیکن یہ ایک ایسا سوال تھا جو پاکستان کے حالات سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی شخص کو ماضی کے ایک ایسے ہی واقعے کی یاد دلا دیتا ہے جس کی ان واقعات سے گہری مماثلت ہے اور جو متواتر اس وقت رونما ہو رہے تھے جب سے یہ تحریک لبیک وجود میں آئی ہے۔
2017 میں خادم حسین رضوی صاحب کی قیادت میں تحریک لبیک نے جب راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے پُل فیض آباد پر دھرنا دیا تھا تو عمران خان نے کہا تھا کہ اُن کا دل یہ چاہتا ہے کہ وہ خود دھرنے میں جا کر شریک ہوں۔ اسی طرح اس وقت حزب اختلاف کے رُکن قومی اسمبلی اور موجودہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ حکومت تحریک لبیک کے مطالبات تسلیم کر لے ورنہ اُس کی لوٹی ہوئی دولت اس کے کسی کام نہ آئے گی اور عوام اس فرسودہ نظام کو آگ لگا دیں گے۔
تحریک لبیک نے وجود میں آنے کے بعد جب سڑکوں پر آ کر دھرنوں، جلاؤ گھیراؤ اور تشدد کی سیاست شروع کی تو اس رجحان کے بارے میں شروع سے ہی تشویش پیدا ہو گئی تھی کیونکہ اس جماعت نے روز اول سے ہی تشدد کا راستہ اختیار کیا، ریاست کی حاکمیت کو چیلنج کیا اور اس حاکمیت کو یقینی بنانے والے اداروں یعنی پولیس کے اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے کئی افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں زخمی۔ اسی طرح سرکاری اور نجی املاک کو بھی بے انتہا دیدہ دلیری سے نقصان پہنچایا گیا۔ تحریک لبیک کی طرف سے تشدد کی یہ مذموم روایت اس پر پابندی کے اعلان اور اس کے بعد تک جاری رہی اور بلآخر حکومت نے کالعدم قرار دی گئی تنظیم سے مذاکرات کرنے کے بعد اسکا یہ مطالبات تسلیم کر لیا کہ قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کو ملک سے بے دخل کرنے کی قرارداد بحث کیلئے پیش کی جائے۔ 20 اپریل کے روز یہ قرارداد پیش کرنے سے ایک روز پہلے عمران خان 19 اپریل کو قوم سے ایک خطاب میں بتا چکے تھے کہ ایسی قرارداد پیش کرنا کیوں ممکن نہیں ہے۔ تاہم ان کی حکومت نے اگلے ہی روز یہ قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کروا دی جس کے بعد تحریک لبیک نے اپنا احتجاجی دھرنا ختم کر دیا۔
لیکن اس سے پہلے احتجاج کے دوران جارح مظاہرین نے جس دیدہ دلیری اور بے رحمی سے ریاست کی رٹ کے سب سے بڑے مظہر یعنی پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا، وہ عبرت کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔ مظاہرین کے تشدد سے بچنے کے لیے پولیس کے اہلکار جس بے بسی سے کوئی گوشہِ عافیت تلاش کرتے دیکھے گئے، وہ بجائے خود ریاست کے سامنے ایک سوالیہ نشان ہے۔ حکومت اور تحریک لبیک کے مابین امن معاہدہ ہونے کے بعد پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل نے ایک احتجاجی مراسلہ بھی لکھا ہے اور سوال کیا ہے کہ کیا آٹھ پولیس والوں کے قتل کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے ان کو رہا کر دیا جائے گا۔ شاید اسی احتجاجی مراسلہ کے بعد حکومت نے سنگین مقدمات میں ملوث ٹی ایل پی کارکنان کو رہا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
لیکن پھر بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ تحریک لبیک کو یہ حوصلہ کیسے ملا کہ وہ ریاست کو چیلنج کرے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اپنے قیام کے بعد سال بھر پہلے تک اس مذہبی گروہ کی طرف سے پرتشدد کارروائیوں کے جتنے جرائم بھی ہوئے، ان کے ذمہ داروں سے کوئی باز پرس نہیں کی گئی بلکہ کچھ ایسے معاہدوں کے تحت جن کی قانونی حیثیت کے بارے میں مسلسل سوال اٹھتے رہے ہیں، مقدمات کا یا تو اندراج ہی نہیں کیا گیا یا یہ مقدمات ختم کر دیے گئے۔ اس طرح تشدد کے ذریعے ریاست کو جھکنے پر مجبور کرنے والے گروہ کے حوصلے بڑھتے چلے گئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تحریک لبیک کے جھنڈے تلے کی جانے والی تشدد کی کارروائیوں ہی کی طرح 1953 میں مجلس احرار کے زیر اہتمام چلائی جانے والی تحریک کا مزاج اور اس تحریک کی جانب سرکاری انتظامیہ کا رویہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ موجودہ دور میں تحریک لبیک کے بانی راہنما علامہ خادم حسین رضوی کی تقریروں کا بڑا شہرہ ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ مجمعے کو بیک وقت رُلا اور ہنسا دینے پر قادر تھے۔ اس معاملے میں مجلس احرار تحریک لبیک پر فوقیت رکھتی تھی کیونکہ اس جماعت میں شعلہ بیاں مقرروں ایک بھاری تعداد موجود تھی جو بیک وقت ملک کے مختلف حصوں میں منعقد کیے جانے والے جلسوں سے خطاب کر کے رائے عامہ کو اپنا ہم نوا بنانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
پنجاب میں مجلس احرار کی 1953 کی احتجاجی تحریک اور فسادات بارے تحقیقاتی رپورٹ میں اس زمانے میں ملک کے مختلف حصوں، خاص طور پر پنجاب کے مختلف اہم شہروں میں کیے جانے والے جلسوں کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان سے بڑے پیمانے پر کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس رپورٹ پر ایک نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 2021 اور 1953 کے حالات اور واقعات میں کوئی زیادہ فرق نہیں تھا اور وجہ بھی ایک ہی تھی یعنی ریاستی رٹ کا نہ ہونا۔
1953 کے فسادات کی رپورٹ میں کوئٹہ میں مسلح افواج کے ایک میجر کے قتل کا واقعہ بھی درج ہے جس کے بارے میں بتایا گیا کہ اس کی گاڑی ایک جلسہ گاہ کے قریب خراب ہو گئی اور اہل جلسہ نے اس پر حملہ کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا کیونکہ انھیں شبہ تھا کہ ان کا تعلق کسی اقلیتی فرقے سے ہے۔ تشدد کی تبلیغ کرنے والی تقریروں کی وجہ سے اس زمانے میں عام مسلمانوں کی ذہنی کیفیت کیسی ہو چکی تھی، رپورٹ ایک واقعہ بیان کر کے اسے پردہ اٹھاتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں کسی مقام پر کسی شخص نے کسی دوسرے شخص کو اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک فرد پر تشدد کرنے سے روکا تو اس نے کہا: ’مجھے مت روکو، میں ایک کافر کو قتل کر رہا ہوں۔‘ ان واقعات کے دوران مختلف عبادت گاہوں، گھروں اور کاروباری مقامات کو بڑی دیدہ دلیری سے جلا دیا گیا لیکن ان کے خلاف بھی موجودہ دور کی طرح قانون حرکت میں نہ آیا۔ رپورٹ میں اس قسم کے کئی واقعات بیان کیے گئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ریاستی رِٹ نہ ہونے کی وجہ سے فسادات ملک بھر میں پھیل گے اور ناحق مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا خون ہوتا رہا۔ لہازا اب بھی وقت ہے کہ حکومت ریاست کی رٹ بحال کرے اور ان بے لگام شدت پسند مذہبی گروہوں کو قانون کے دائرے میں لے کر آئے۔
