آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 1 ارب ڈالر قرض کی منظوری دیدی

آئی ایم ایف نے توسیعی فنڈ سہولت کے تحت پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر قرض کی منظوری دیدی۔واشنگٹن سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس جائزے کے مکمل ہونے سے پاکستان کو 75 کروڑ ایس ڈی آر (تقریباً ایک ارب ڈالر) ملیں گے جس کے بعد حالیہ آئی ایم ایف پروگرام سے اب تک ملنے والا قرض 2 ہزار 144 ملین ایس ڈی آر یعنی 3 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا، جو ملک کے کوٹے کے 106 فیصد کے برابر ہوگا۔

پاکستان نے 4 ارب 26 کروڑ 80 لاکھ ایس ڈی آر یعنی 6 ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ جولائی 2019 میں 39 ماہ پر محیظ ای ایف ایف انتظامات کیے تھے۔پروگرام کا مقصد پاکستان کی معیشت میں مدد کرنے اور کرونا کی وبا کے درمیان زندگیوں اور روزگار معاش کو بچانے، معاشی اور قرضوں کی پائیداری، سٹرکچرل اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے تاکہ مضبوط، روزگار سے بھرپور اور دیرپا ترقی کی بنیادیں ڈالی جائیں۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں شوکت ترین نے کہا کہ میں خوشی کے ساتھ اعلان کر رہا ہوں کہ آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کے لیے اپنے پروگرام کی چھٹی قسط کی منظوری دے دی ہے۔وزیرخزانہ کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ٹوئٹ میں کہا کہ ‘الحمدللّٰہ آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کا چھٹا نظرثانی بورڈ مکمل کر لیا ہے، پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط کے اجرا کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلے سے معیشت کے استحکام اور اصلاحات کے عمل میں مدد ملے گی۔

روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر سستا ہو گیا

یاد رہے کہ شوکت ترین نے یکم نومبر 2021 کو پاکستان سنگل ونڈو لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ کی بحالی کے معاملات طے ہوگئے ہیں۔جس پر آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کی درخواست پر چھٹا جائزہ مکمل کرنے کا عمل مؤخر کردیا تھا۔

پاکستان کو 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر نظرثانی کے لیے آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس 12 جنوری کو شیڈول تھا، جسے پاکستان کی درخواست پر پیشگی اقدامات کے اطلاق کا وقت دینے کے لیے ری شیڈول کرکے 28 جنوری کیا گیا تھا۔

Back to top button