اب حکومت نے نواز شریف کی کون سی ویڈیو وائرل کی ہے؟

سابق وزیراعظم نواز شریف کے بڑے بیٹے حسین نواز نے کہا ہے کہ ان کی والد کی لندن کے قریب ایک فیکٹری کے دورے کی ویڈیو چار سے پانچ ماہ پرانی ہے جسے اب خاص مقصد کے تحت وائرل کیا جا رہا یے۔

جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے حسین نواز نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ اس ویڈیو کو اب کیوں سامنے لایا گیا؟حسین نواز کا کہنا تھا کہ میں خود نواز شریف کو دو گھنٹے کے لیے اُنکے ایک جاننے والے کے گھر ماحول کی تبدیلی کے لیے لیکر گیا تھا، وہ شخص انہیں اپنی فیکٹری میں لے گیا جہاں کی ویڈیو وائرل کی جا .رہی ہے اور یہ چورن بیچا جا رہا ہے کہ میاں صاحب تو بھلے چنگے ہیں.

انہوں نے استفسار کیا کہ نواز شریف کا کسی فیکٹری میں جانا کیا کوئی گناہ ہے؟ انہون نے کہا کہ اس معاملے کا ان کے پاکستان آنے سے کیا تعلق ہے؟حسین نواز نے یہ بھی کہا کہ لندن میں کرونا ایس او پیز کی وجہ سے فیکٹریوں میں ملازمین کم ہوتے ہیں، ایسا ہی ماحول لندن کے قریب واقع فیکٹری میں بھی تھا جہاں نواز شریف گے تھے لہذا اس معاملے کو بلاوجہ ایشو بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔

حسین نواز دراصل شاہزیب خانزادہ کے اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ نواز شریف کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ کے مطابق وہ سفر کرنے کے قابل نہیں ہے کیونکہ ان کی صحت اجازت نہیں دیتی، لیکن انکے۔لندن سے باہر سفر کی یہ ویڈیو عوام کے سامنے موجود ہے، نواز شریف لندن سے چار سو کلومیٹر دور سفر کر کے ایک فیکٹری میں جاتے ہیں.

میر شکیل الرحمن کی بریت کو چیلنج کرنے کیلئے مسودہ تیار

لہذا سوال یہ یے کہ جب وہ اتنا لمبا سفر کر سکتے ہیں تو پاکستان واپس کیوں نہیں آسکتے؟ حسین نواز نے شاہزیب کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایک ایسی حکومت ہے جو اپنی نالائقی سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے حقائق کو مختلف رنگ دے کر پیش کررہی ہے، آپ جس ویڈیو کی بات کر رہے ہیں، یہ کوئی آج کل کی نہیں یے بلکہ چار سے پانچ ماہ پرانی ہے۔

حسین نواز نے کہا کہ کیا کسی نے جاننے کی کوشش کی کہ نواز شریف کی پاکستان میں دعران قید طبیعت کیوں بگڑی تھی؟ اُن کا کہنا تھا کہ لندن پہنچ کر نواز شریف کی طبیعت کچھ بہتر ہونے میں مہینوں لگے تھے، حکومت نے نواز شریف کی طبیعت کا پتہ کرنے لندن میں کسی سے رابطہ نہیں کیا۔

حسین نواز نے کہا کہ سابق وزیراعظم کا علاج معالجہ چل رہا ہے، ابھی برطانیہ میں کرونا بہت زیادہ ہے، ابھی انکا علاج ہونا باقی ہے، ابھی انکا علاج مکمل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا علاج تب ختم ہوگا جب ڈاکٹرز سمجھیں گے، جس ڈاکٹر نے انکی صحت اور حالت بارے اپنی رائے بھیجی ہے اس کی بہت اچھی ساکھ ہے، اس ڈاکٹر کی رائے کے بعد اب کوئی میڈیکل رپورٹ بھیجنے کی ضرورت نہیں۔

Back to top button