نئے اٹارنی جنرل پر چیف جسٹس اور حکومت کا پنگا پڑ گیا

وفاقی حکومت اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کے تعلقات دوبارہ کشیدگی کا شکار ہو گئے ہیں جس کی بنیادی وجہ نئے اٹارنی جنرل فار پاکستان کی تقرری ہے۔ بظاہر چیف جسٹس بندیال کو یہ تقرری پسند نہیں آئی لہذا وہ اب تک اپنے عہدے پر متحرک نہیں ہو پائے اور اب یہ اطلاع بھی آ رہی ہے کہ شاید وہ عہدے کا چارج سنبھالنے سے پہلے ہی فارغ کر دیے جائیں۔ یاد رہے کے پچھلے ماہ صدر عارف علوی کی جانب سے 37ویں پرنسپل لا آفیسر کے طور پر نامزدگی کی منظوری کے بعد لاہور سے تعلق رکھنے والے نوجوان وکیل منصور عثمان اعوان کو پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا تھا۔ منصور اعوان کا نام تب منظرعام پر نمایاں ہوا تھا جب انہوں نے ایک صدارتی ریفرنس کے دوران سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرتے ہوئے آئین سے انحراف سے متعلق آرٹیکل 63اے کی تشریح کی تھی۔
منصور اعوان کی تقرری ان کے پیشرو اشتر اوصاف علی کی خراب صحت کے سبب عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد کی گئی تھی۔ تاہم ان کی جانب سے عہدے کا چارج نہ سنبھالنے کے بعد اب سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پچھلے اٹارنی جنرل کے استعفے اور نئے کی تعیناتی کا نوٹس لے لیا۔ قاضی فائز عیسیٰ نے وفاقی سیکریٹری قانون کو ریکارڈ سمیت 17 جنوری کو طلب کر لیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اٹارنی جنرل آفس سے مقدمات میں درست معاونت نہیں مل رہی، ہمیں بتائیں کہ نیا اٹارنی جنرل کون ہے اور کہاں ہے؟

ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی نے بتایا کہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف ہیں اور بیمار ہیں، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اشتر اوصاف تو مستعفی ہوچکے ہیں اور ان کا استعفیٰ منظور بھی ہو چکا ہے، نیا اٹارنی جنرل کون ہے، جواب میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے حیران کن جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے معلوم نہیں ہے۔ اس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن کو روسٹرم پر بلایا اور پوچھا کہ نیا اٹارنی جنرل کون ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی اٹارنی جنرل سے متعلق لا علمی کا اظہار کیا۔ اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ملک اٹارنی جنرل کے بغیر کیسے چل رہا ہے، آپ کو نئے اٹارنی جنرل کا نام معلوم نہیں ہے۔ عدالت نے 17 جنوری کو سیکریٹری قانون کو اٹارنی جنرل کے استعفیٰ اور نئے اٹارنی جنرل کی تعیناتی کے ریکارڈ کے ساتھ طلب کر لیا۔

واضح رہے کہ اشتر اوصاف نے 12 اکتوبر کو اٹارنی جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا اور مستعفی ہونے کی وجہ اپنی خرابی صحت کو قرار دیا تھا۔ بعدازاں 24 دسمبر کو صدر عارف علوی نے لاہور سے تعلق رکھنے والے نوجوان وکیل منصور عثمان اعوان کو پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل مقرر کر دیا تھا۔ ایوان صدر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر عارف علوی نے اشتر اوصاف کا استعفیٰ منظور کرنے کے بعد منصور اعوان کی بطور اٹارنی جنرل پاکستان تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم صدر کی جانب سے منظوری کے بعد کئی روز گزر جانے کے کئی بعد بھی منصور اعوان کی بطور اٹارنی جنرل پاکستان تعیناتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں کیا گیا۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نوجوان وکیل منصور اعوان کی بطور نئے اٹارنی جنرل تعیناتی پر خوش نہیں ہیں اور حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ پنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ یاد رہے کہ سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے چیف جسٹس آف پاکستان کی خواہش پر تین جونیئر ججز کو سپریم کورٹ کا جج بنانیکی حمایت کی تھی جس کے بعد وہ شدید تنقید کی زد میں آگئے تھے۔ اس واقعے کے کچھ ہی دنوں بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ لہذا چیف جسٹس عمر عطا بندیال اشتر اوصاف علی کی فراغت پر خوش نہیں ہیں جنہوں نے اپنی مرضی کے ججز لگانے میں ان کی مدد کی تھی۔

خیال رہے کہ اٹارنی جنرل فار پاکستان کا تقرر آئین کے آرٹیکل 100 اور شق 1 کے تحت کیا جاتا جو یہ کہتا ہے کہ صدر ایسے شخص کو اس عہدے پر تعینات کرے گا جو کہ سپریم کورٹ کا جج بننے کا اہل ہو۔ آئین کے تحت صدر وزیراعظم کے مشورے پر عمل کرنے کا پابند ہے۔ منصور عثمان اعوان کا نام ایک عرصے سے زیر گردش ہے کیونکہ وہ کافی عرصے سے وزیر اعظم شہباز شریف کو قانونی امور پر مشورے دے رہے ہیں۔ قبل ازیں، انہوں نے سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک درخواست دائر کی تھی جس میں یہ ڈکلیئریشن طلب کیا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62(1ایف) کو سیاست دانوں کے خلاف استعمال کرنا صرف زیر بحث انتخابات پر لاگو ہوتا ہے اور اس پر دائمی یا تاحیات پابندی نہیں ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ درخواست سپریم کورٹ میں مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف اور پی ٹی آئی کے سابق رہنما جہانگیر خان ترین کی مستقل نااہلی کو چیلنج کرتے ہوئے انہیں بچانے کے لیے دائر کی گئی ہے البتہ یہ پٹیشن ابھی تک زیر التوا ہے۔ یاد رہےکہ منصور اعوان نے ہارورڈ لا اسکول سے 2005 میں ماسٹر آف لاز کیا اور قائدانہ صلاحیتوں کے لیے ڈین ایوارڈ حاصل کیا، انہوں نے 05-2004 میں ہارورڈ گریجویٹ کونسل کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے 2002 میں پنجاب یونیورسٹی لا کالج لاہور سے بیچلر آف لاز (ایل ایل بی) کیا تھا اور فقہ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر جسٹس ایم جان میموریل گولڈ میڈل اور فوجداری قانون میں پہلی پوزیشن لینے پر پرائز حاصل کیا تھا۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ منصور اعوان اپنے عہدے کا چارج سنبھالتے ہیں یا حکومت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو خوش کرنے کی خاطر ان کی قربانی دے دیتی ہے۔

کراچی کی بہنیں کورین بینڈ سے ملنے گھر سے بھاگیں

Back to top button