کیا پرا جیکٹ عمران کا اختتامی مرحلہ آن پہنچا ہے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار وجاہت مسعود نے کہا ہےکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے دوسری جمہوری قوتوں سے متعدد اختلافات کے باوجود کم از کم دو مواقع پر سازش کے منجدھار میں ہچکولے کھاتی جمہوریت کو زبردست تقویت پہنچائی ہے۔ اگست 2014 میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹ کے اندر برسراقتدار جماعت (مسلم لیگ نواز) کا ہاتھ پکڑا اور حالیہ ہفتوں میں آئینی اور سیاسی بحران میں اتحادی حکومت کا مضبوطی سے ساتھ دے کر ملک کو گہری سازش سے بچایا ہے ہمارے ہاں جس پروجیکٹ عمران کی بنیاد رکھی گئی تھی یہ آزمائش اب اختتامی مرحلے میں ہے . عالمی یوم صحافت کے حوالے سے لکھے گئے اپنے ایک کالم میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ بے شک ہمارے ہاں حکومتی اشارے پر سجدہ تعظیمی کرنے والے صحافیوں کی بھی کمی نہیں رہی لیکن کسی شعبے یا پیشے کی قامت اس کے بہترین نمونوں سے متعین ہوتی ہے، ضرر رساں جڑی بوٹیوں سے نہیں۔
صحافی سیاسی عمل کی حرکیات سے گہرے تعلق کے باوجود کسی سیاسی جماعت کا ترجمان نہیں ہوتا۔ صحافی کا منصب مختلف سیاسی جماعتوں کے نکتہ نگاہ کا جائزہ لے کر اپنی دیانت دارانہ رائے پیش کرنا ہے۔جمہوری عمل کی اکائی سیاسی کارکن ہے۔ قومی سمت کے بارے میں وسیع تر اتفاق رائے رکھنے والے سیاسی کارکن ایک تنظیمی ڈھانچے میں شامل ہو کر سیاسی جماعتیں تشکیل دیتے ہیں۔ گویا سیاسی جماعتیں ایک طرف قوم میں موجود مختلف نکتہ ہائے نظر کی نمائندگی کرتی ہیں تو دوسری طرف ملکی سیاسی عمل میں باقاعدہ فریق کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سیاسی جماعت انتخابی عمل میں حصہ لے کر کامیابی کی صورت میں پارلیمانی پارٹی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ پارلیمانی جماعت کے ارکان پر داخلی نظم و ضبط کے علاوہ پارلیمنٹ میں سیاسی وابستگی کے ضمن میں قواعد و ضوابط بھی لاگو ہوتے ہیں۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں ہمارے ہاں پروجیکٹ عمران کی بنیاد رکھی گئی تو ’کاسہ لیسان ازلی‘ ، کاروباری جتھوں اور تفرقہ فروشوں کے علاوہ تابع فرمان صحافیوں کی صف بندی بھی عمل میں آئی۔ جس نے بیعت سے انکار کیا، وہ ’لفافہ صحافی‘ اور ’پانچویں نسل کی ہائبرڈ وار فیئر‘ کے طوق کا مستحق ٹھہرا۔ یہ آزمائش اب اختتامی مرحلے میں ہے۔ سازش کے تار و پود ہر آنے والے دن کے ساتھ بے نقاب ہو رہے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاری کے نام پر دوائے دل بیچنے والے دکان بڑھا چکے۔ کمرہ انصاف کی سرگوشیاں آڈیو لیکس کی صورت میں گلی کوچوں تک پہنچ چکی ہیں۔ اب وقت ہے کہ غیر سیاسی سازش اور سیاسی عمل میں فرق بیان کیا جائے۔ سیاست دان کے گریبان سے کیچڑکے دھبے صاف کرکے حقیقی وطن دوستی کے خد و خال بیان کئےجائیں۔ سیاسی جماعت انتخابی عمل میں حصہ لے کر کامیابی کی صورت میں پارلیمانی پارٹی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ پارلیمانی جماعت کے ارکان پر داخلی نظم و ضبط کے علاوہ پارلیمنٹ میں سیاسی وابستگی کے ضمن میں قواعد و ضوابط بھی لاگو ہوتے ہیں وجاہت مسعود کا کہنا ہے کہ ۔
حالیہ برسوں میں ہمارے ہاں پروجیکٹ عمران کی بنیاد رکھی گئی تو ازلی کاسہ لیسوں ، کاروباری جتھوں اور تفرقہ فروشوں کے علاوہ تابع فرمان صحافیوں کی صف بندی بھی عمل میں آئی۔ جس نے بیعت سے انکار کیا، وہ ’لفافہ صحافی‘ اور ’پانچویں نسل کی ہائبرڈ وار ‘ کے طوق کا مستحق ٹھہرا۔ یہ آزمائش اب اختتامی مرحلے میں ہے۔ سازش کے تار و پود ہر آنے والے دن کے ساتھ بے نقاب ہو رہے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاری کے نام پر دوائے دل بیچنے والے دکان بڑھا چکے۔ کمرہ انصاف کی سرگوشیاں آڈیو لیکس کی صورت میں گلی کوچوں تک پہنچ چکی ہیں۔ اب وقت ہے کہ غیر سیاسی سازش اور سیاسی عمل میں فرق بیان کیا جائے۔ سیاست دان کے گریبان سے کیچڑکے دھبے صاف کرکے حقیقی وطن دوستی کے خد و خال بیان کئےجائیں۔ جمہوری قوتوں کے درمیان مئی2006میں میثاق جمہوریت کے عنوان سے وسیع تر مفاہمت کا جو عمل شروع ہوا تھا، وہ اٹھارہویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے ہوتا ہوا موجودہ اتحادی حکومت تک آ پہنچا ہے۔
سیاسی جماعتیں غلطیوں سے مبرا نہیں ہوتیں۔ گزشتہ پندرہ برس میں بہت سے اتار چڑھائو آئے، نیاز مند آج پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی بصیرت کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہے۔ اس جماعت نے دوسری جمہوری قوتوں سے متعدد اختلافات کے باوجود کم از کم دو مواقع پر سازش کے منجدھار میں ہچکولے کھاتی جمہوریت کو زبردست تقویت پہنچائی ہے۔ اگست 2014 میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹ کے اندر برسراقتدار جماعت (مسلم لیگ نواز) کا ہاتھ نہ پکڑتی تو ڈی چوک میں برپا طوفان تباہی مچا دیتا۔ حالیہ ہفتوں میں آئینی اور سیاسی بحران کے نکتہ عروج پر پیپلز پارٹی نے پارلیمنٹ میں اتحادی حکومت کا مضبوطی سے ساتھ دے کر ملک کو ایک ایسی سازش سے بچایا ہے جس کی جڑیں آئینی اور ریاستی اداروں میں دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس عمل میں اتحادی حکومت کی دیگر سیاسی جماعتوں کو داد نہ دینا بھی نا انصافی ہو گی۔ آخر میں وجاہت مسعود لکھتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل ایسی ہی جمہوری مفاہمت اور دستور پسندی سے وابستہ ہے۔ اس کے بغیر معاشی ترقی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ صحافی کسی جماعتی وابستگی سے بے نیاز ہو کر قومی جمہوری قوتوں کو سلام پیش کرتا ہے۔
