چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیسز کی سماعت نہ کریں: عمران خان

عمران خان نے سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی اپیلوں کے معاملے پر اپنا تحریری جواب جمع کروادیا،جواب میں عمران خان نے لکھا کہ یہ میری ذات کا نہیں بلکہ ملک کا معاملہ ہے۔عمران خان اپنے جواب میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے استدعا کی ہے کہ وہ ان کے خلاف کیسز کی سماعت نہ کریں۔
سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے تحریری جواب میں عمران خان نے حکومت کی اپیلیں خارج کرنے کی استدعا کردی۔ عمران خان نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی شخص کی کرپشن بچانے کےلیے قوانین میں ترامیم کرنا عوامی مفاد میں نہیں،کرپشن معیشت کےلیے تباہ کن ہے اور اس کے منفی اثرات ہوتے ہیں،مجھ سے دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم کافائدہ آپ کوبھی ہوگا لیکن میرا مؤقف واضح ہے یہ میری ذات کا نہیں بلکہ ملک کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا ہےکہ ماضی کے فیصلون کو مدنظر رکھتے ہوئے اور انصاف کےتقاضے پورے کرنے کےلیے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیسز پر سماعت نہ کریں۔
صدر زرداری کا پروفیسر وارث میر کی خدمات کا اعتراف
تحریری جواب میں عمران خان نے مزید کہا کہ اسی طرح دبئی لیکس پر کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں جس میں مختلف پبلک آفس ہولڈرز اور ان لوگوں کی آف شور جائیدادوں کا انکشاف ہواجنہیں سرکاری خزانےسےادائیگی کی جاتی ہے،وزیر داخلہ محسن نقوی کو یہ ظاہر کرنا چاہیے کہ انہوں نےدبئی میں جائیداد خریدنے کےلیے رقم کیسے کمائی اور کن ذرائع سے بیرون ملک بھیجی۔عمران خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی آئین کےمطابق کرنی چاہیے،نیب اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے توترامیم اسےروکنے کی حد تک ہونی چاہیے،اختیارات کاغلط استعمال کرنے کی مثال میرے خلاف نیب کا توشہ خانہ کیس ہے۔
