کپتان کی چھٹی ہو گی، اگلا وزیر اعظم اسمبلی توڑ دے گا

سینئر صحافی اور تجزیہ کار ندیم ملک نے دعوی کیا ہے کہ 25 جنوری کو ہونے والے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لانے کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہو جائے گا تا کہ ان ہاؤس تبدیلی لا کر ایک عبوری وزیراعظم منتخب کیا جائے جو ضروری الیکٹورل ریفارمز لانے کے بعد قومی اسمبلی توڑ دے اور نئے الیکشن کا راستہ ہموار کر دے۔

سماء ٹی وی پر باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ندیم ملک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد 25 جنوری کے اجلاس کے فورا بعد 30 یا 31 جنوری کو لائی جا سکتی ہے ورنہ فروری کے پہلے ہفتے میں یہ کام ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی قیادت اس وقت تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے تیاریوں میں مصروف ہے اور حتمی تاریخ کا اعلان 25 جنوری کو کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا جا رہا ہے جس کی مدد کے بغیر وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کروانا ممکن نہیں ہوگا۔

ندیم ملک نے کہا کہ اس وقت حکومت کمزور ترین وکٹ پر ہے اور اگر تحریک عدم اعتماد کے روز کوئی ایک بھی حکومتی اتحادی جماعت آگے پیچھے ہو گئی تو عمران حکومت ختم ہو جائے گی۔ ندیم ملک نے کہا کہ اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے بعد ایک عبوری وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے گا جو کہ ضروری الیکٹرول ریفارمز لانے کے بعد اسمبلیاں توڑ دے گا اور نئے انتخابات کروانے کے لیے آئین کے تحت ایک غیر جانبدار نگران حکومت تشکیل دے دی جائے گی۔

دوسری جانب با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیپلز پارٹی ٹی پی ڈی ایم اتحاد سے نکل چکی ہے تاہم مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور اگر پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے کپتان کے خلاف بالآخر تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ ہوتا ہے تو پیپلز پارٹی اس موو کا حصہ بنے گی جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کے لئے اپنی کرسی بچانا مشکل ہو جائے گا۔

ان حالات میں سیاسی تجزیہ کار اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں اگر واقعی پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی مل کر کپتان کا دھڑن تختہ کرنے کے لئے ایکا کر لیتے ہیں تو کپتان اینڈ کمپنی کے پاس اقتدار بچانے کے لیے کیا آپشنز ہیں۔ یہ سوال بھی بڑا اہم ہے کہ کہ اس کٹھن مرحلے میں کیا کپتان کو اپنی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے وغیرہ کی حمایت دستیاب ہوگی یا وہ بھی درپردہ اپوزیشن کا حصہ بن کر کپتان کو گھر بھجوانے میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ خیال رہے کہ ق لیگ اور ایم کیو ایم کئی مرتبہ تحریک انصاف حکومت کے خلاف تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں لیکن ہر بار حکومت کو بچانے میں اپنا کاندھا بھی پیش کیا ہے۔

دوسری جانب 18 جنوری کے روز مریم نواز شریف نے بھی یہ اعلان کردیا ہے کہ عمران خان کی حکومت چند ہفتوں یا مہینوں میں نہیں بلکہ دل۔نوں میں جانے والی ہے۔ ان کے اس اعلان سے بھی ندیم ملک کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ شاید عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے حوالے سے اپوزیشن نے تیار کر لیا ہے۔ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ بیرونی خطرات سے دوچار تحریک انصاف اب اندرونی محاذ پر بھی بھی تقسیم نظر آتی ہے۔

حال ہی میں منی بجٹ کی منظوری کے موقع پر وزیر دفاع اور خیبرپختونخوا میں پارٹی چیپٹر کے صدر پرویز خٹک کی جانب سے عمران خان کو بھری محفل میں چارج شیٹ کرنے اور پھر اسمبلی کے فلور پر پشاور سے منتخب رکن اسمبلی نور عالم خان کی جانب سے حکومتی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد کپتان اور ان کے قریبی ساتھی گھبرائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ وزرا کی جانب سے مسلم لیگ نون میں تقسیم سیم کے دعوے کیے جا رہے ہیں تاہم اس کے برعکس یہ واضح ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے باہمی اتحاد یا نون لیگ کے اندرونی کمزوریوں کے مقابلے میں تحریک انصاف کہیں زیادہ اندرونی اور بیرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ کے بعد کپتان اینڈ کمپنی بے یار و مددگار نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں لوہا گرم دیکھ کر چوٹ لگانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کی حکمت عملی کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے فارغ کرکے ان ہاؤس تبدیلی لائی جائے گی اور اس کے بعد چھے مہینے کے لیے عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی جو نئے عام انتخابات کا اعلان کرے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتیں کپتان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرتی ہیں تو تحریک پر ووٹنگ کے وقت ان کے پاس 172 ووٹ ہونا ضروری ہے اگر ایسے میں حکومت کو مسلم لیگ قاف یا ایم کیو ایم کی علیحدگی کا صدمہ جھیلنا پڑ گیا تو کپتان کا گھر جانا یقینی ہو گا۔

محمد حسنین کا مشکوک باولنگ ایکشن پر بائیومکینک ٹیسٹ ہوگا

تجزیہ کاروں کے خیال میں جیسے جیسے تحریک انصاف پر اقتدار بچانے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے ویسے ویسے حکومتی وزراء شدت کے ساتھ یہ دعوی کر رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان ہر صورت پانچ برس پورے کریں گے اور اپریل 2022 کے بعد حکومت کا مشکل وقت ٹل جائے گا۔

دودری جانب وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ عمران خان حکومت کہیں نہیں جا رہی اس مرتبہ بھی اپوزیشن کو شکست ہوگی۔ شیخ رشید نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز اور مریم نواز یہ چاروں شریف پاکستان کی سیاست سے مکمل طور پر آؤٹ ہو چکے ہیں اگر اپوزیشن جماعتوں نے کپتان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی کوشش کی تو ان کے اپنے 26 اراکین اسمبلی ٹوٹ جائیں گے۔

اسی طرح وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی حال ہی میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ نون کے چار سرکردہ لیڈران نے اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ ک کے درخواست کی ہے کہ نواز شریف اگر پاکستانی سیاست سے آؤٹ ہو چکے ہیں اور شریف فیملی میں سے کسی اور کو بھی اقتدار نہیں دیا جا سکتا تو کیوں نہ ہم چاروں میں سے کسی ایک کو بطور وزیراعظم قبول کیا جائے۔

اگرچہ نون لیگ کے بار بار مطالبے کے باوجود فواد چوہدری نے وزارت عظمیٰ کے خواہشمند ان چار لیگی رہنماؤں کے نام نہیں بتائے تاہم سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ وزیر اطلاعات نے ایسی بات کر کے محض ن لیگ میں اختلافات کو بڑھاوا دینے کی کوشش کی ہے اور اگر نواز شریف کو اقتدار میں نہیں بھی آنے دیا جاتا تو ان کی جگہ ان کی بیٹی مریم یا بھائی شہباز شریف ہی لیں گے۔

ناقدین یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ ایک طرف حکومت کا دعویٰ ہے کہ آج بھی اسٹیبلشمنٹ اور کپتان ایک پیج پر ہیں لیکن دوسری جانب وزیر اطلاعات یہ فرما رہے ہیں کہ نون لیگ کے چار اراکین نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سرکردہ شخصیات کے ساتھ ملاقات کرکے خود کو بطور وزیراعظم پیش کیا ہے، لہٰذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ واقعی عمران کی چھٹی کروانے پر راضی ہو چکی ہے۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع دلاتے ہیں کہ پارلیمانی تاریخ میں اب تک دو وزرائے اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لائی گئی اور دونوں ناکام رہیں۔

Back to top button