مودی کےگھرکےباہراحتجاج پربھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی گرفتار

بھارتی پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کو وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔
راہول گاندھی گزشتہ روز بھارتی پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس تشدد کے خلاف دھرنا دیے ہوئے تھے، جہاں سے پولیس نے انہیں زبردستی ہٹا دیا۔
پولیس نے احتجاج میں شریک دیگر کانگریس رہنماؤں کو بھی وہاں سے ہٹا دیا، جو کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی کارکنوں کے خلاف کارروائی کے خلاف مظاہرہ کررہے تھے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی جب مودی حکومت کی جانب سے راہول گاندھی کو احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔
اس سے قبل بھارتی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے احتجاجی مقام پر راہول گاندھی سے ملاقات کی اور انہیں آگاہ کیاکہ ’نیٹ امتحان‘ سے متعلق معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا ان کا مطالبہ حکومت نے تسلیم کر لیا ہے۔
تاہم ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے مطابق، اس کے بعد راہول گاندھی اپنے پہلے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کی یقین دہانی کا بھی مطالبہ کر دیا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ راہول گاندھی نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر حکومت ’نیٹ امتحان‘ اور اس سے متعلق جاری تحریک کے تمام معاملات پر پارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار ہو جائے تو وہ فوری طور پر اپنا دھرنا ختم کر دیں گے۔
ان کے بقول، حکومت کی اعلیٰ قیادت سے منظوری لینے کے بعد راہول گاندھی کو یقین دہانی کرا دی گئی کہ ان کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا ہے اور حکومت پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔
