نیتن یاہو حکومت پر امریکی تنقید روکنے کے لیے سفارتی رپورٹس میں ردوبدل کا انکشاف

نیویارک ٹائمز کی تحقیقاتی رپورٹ میں امریکی سفارت خانے کے اعلیٰ مشیر پر رپورٹس روکنے اور تاخیر سے جاری کرنے کے الزامات، فلسطینی نژاد امریکی شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق معلومات دبانے کا بھی دعویٰ

واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کے مشیرِ اعلیٰ ڈیوڈ ملسٹین نے اسرائیلی حکومت کو واشنگٹن کی تنقید سے بچانے کے لیے امریکی سفارت خانے کی سفارتی رپورٹس کو مبینہ طور پر روکا، ان کی اشاعت میں تاخیر کی اور ان میں تبدیلیاں کیں۔

رپورٹ کے مطابق ڈیوڈ ملسٹین نے اپریل 2025 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو فائدہ پہنچانے کے لیے متعدد اہم معاملات پر سفارتی رپورٹس میں مداخلت کی۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملسٹین کے اقدامات سے اسرائیلی بستیوں کے منصوبوں، قابضین کے تشدد اور غزہ کی تعمیرِ نو سے متعلق امریکی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس کے ارکان 9 فلسطینی نژاد امریکی شہریوں کی اسرائیلی فورسز اور قابضین کے ہاتھوں ہلاکتوں پر جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تاہم، دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈیوڈ ملسٹین نے اس معاملے پر امریکی سفارت خانے کی رپورٹ بھی روک دی تاکہ قانون ساز مزید تحقیقات نہ کرسکیں۔

Back to top button