وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی بنانے کا بل سینیٹ میں پیش

حکومت نے وزیراعظم ہائوس میں یونیورسٹی بنانے کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا ہے، یہ بل قومی اسمبلی سے منظور ہوچکا جس کے مطابق اس منصوبے کا آغاز کیے جانے کے بعد اسے مکمل ہونے میں 72 ماہ لگیں گے۔

حکومت اس بل کو جلد سینیٹ سے منظور کرانے کی کوششیں کر رہی ہے تاکہ آئندہ موسم بہار کے سیشن میں داخلوں کیلئے یونیورسٹی کو کسی بھی کرائے کی عمارت میں فعال بنایا جا سکے۔

وزیراعظم آفس کی ہدایت پر ہائر ایجوکیشن کمیشن اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حکام نے جی فائیو میں سرسید میموریل سوسائٹی کی عمارت کا دورہ کیا تھا۔ ایچ ای سی اور سی ڈی اے نے بعد میں وزیر اعظم آفس کو ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ یہ عمارت یونیورسٹی بنانے کے لیے موزوں ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کرائے پر حاصل کرنے کے لیے عمارت کے انتخاب کا حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے وزیر تعلیم شفقت محمود کی جانب سے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجی بل 2022 سینیٹ میں پیش کیا۔ یونیورسٹی کے 7 سینٹرز آف ایکسیلینس ہوں گے، جن میں سے 3 وزیراعظم ہاؤس میں ہوں گے اور 4 ’کُری‘ میں بنائے جائیں گے جہاں سرکاری زمین دستیاب ہے،

بلوچستان کابینہ نے صحت کارڈ سکیم کی منظوری دیدی

منصوبے کی تکمیل کے لیے 6 سال درکار ہیں اور حکومت اس کے لیے 23 ارب روپے پہلے ہی مختص کر چکی ہے۔
یونیورسٹی کے چارٹر کی منظوری میں تین سال سے زائد تاخیر سے متعلق سوال پر وزارت تعلیم کے حکام نے بتایا کہ اس سے قبل وزارت تعلیم کا اس منصوبے سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ اس منصوبے کو وزارت سائنس و ٹیکنالوجی دیکھ رہی تھی۔

Back to top button