ایران امریکا کشیدگی، کیا مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ چھڑنے والی ہے؟

ایران اور امریکا کے درمیان ایک بار پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو نئی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تہران نے واضح پیغام دیا ہے کہ اب صرف سفارتی مذاکرات پر انحصار کی پالیسی ختم ہو چکی ہے اور کسی بھی نئی امریکی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جبکہ واشنگٹن بھی اپنے سخت مؤقف پر قائم ہے۔ ایسے میں ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر دونوں ممالک نے تحمل اور سفارت کاری کا راستہ اختیار نہ کیا تو موجودہ بحران محدود فوجی کارروائیوں سے نکل کر ایک وسیع علاقائی تنازع میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں، سمندری تجارت اور خطے کے امن پر گہرے مرتب ہوں گے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی گزشتہ کئی ماہ سے مختلف مراحل سے گزرتی رہی ہے، تاہم حالیہ ہفتوں میں اس میں ایک مرتبہ پھر نمایاں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔ تہران نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکا نے مزید فوجی کارروائی یا جارحیت کی تو ایران اس کا فوری اور بھرپور جواب دے گا۔ دوسری جانب امریکا بھی اپنے اسٹریٹجک مؤقف پر قائم ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
سفارتی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ خطے میں مختلف اتحادی ممالک، مسلح گروہ اور عالمی طاقتیں پہلے ہی ایک پیچیدہ تزویراتی ماحول کا حصہ ہیں۔
سابق سفارت کار مسعود خالد کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ کشیدگی انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کے بقول اگر دونوں ممالک نے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے اور ایک وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی غلط اندازے، محدود فوجی کارروائی یا غیر متوقع ردعمل کے نتیجے میں ایسا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جسے روکنا مشکل ہوگا۔ اگرچہ تمام بڑے فریق مکمل جنگ سے بچنے کی کوشش کریں گے، تاہم مسلسل حملوں، جوابی کارروائیوں اور سیاسی دباؤ کے باعث تنازع کے پھیلنے کے امکانات موجود ہیں۔
مسعود خالد کے مطابق خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی رابطوں، مذاکرات اور اعتماد سازی کی کوششوں کو ترجیح دینا ہوگی۔ ان کے مطابق آنے والے دنوں میں اصل سوال یہی ہوگا کہ آیا واشنگٹن اور تہران تصادم کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا پھر سفارت کاری کی طرف واپس آتے ہیں۔
اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اسسٹنٹ ریسرچ ایسوسی ایٹ فیضان ریاض کا کہنا ہے کہ ایران کا حالیہ اعلان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران اب سفارت کاری کے ساتھ ساتھ طاقت کے ذریعے بھی اپنے مؤقف کو منوانے کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ان کے مطابق اگرچہ فوری طور پر مکمل جنگ کے امکانات محدود ہیں، لیکن کسی بھی غلط اندازے یا معمولی واقعے کے بڑے تصادم میں تبدیل ہونے کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔فیضان ریاض کے مطابق ایران ممکنہ طور پر اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام، عراق، شام، لبنان اور یمن میں موجود اتحادی گروہوں، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں بحری راستوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کو بطور دباؤ استعمال کر سکتا ہے، جبکہ امریکا محدود جوابی کارروائی اور کشیدگی کو قابو میں رکھنے کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔ان کے مطابق موجودہ بحران کے اثرات اب صرف خلیجی خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی معیشت بھی اس سے متاثر ہونا شروع ہو گئی ہے۔ عالمی توانائی منڈیاں، تیل کی قیمتیں، بحری تجارت، مال برداری کے اخراجات اور مہنگائی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جبکہ چین، روس اور یورپی ممالک سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خطہ کسی بڑی جنگ سے محفوظ رہ سکے۔فیضان ریاض کے مطابق اگر امریکا نے ایرانی قیادت یا جوہری تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنایا تو ایران اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے امریکی مفادات، اسرائیل اور خلیجی ریاستوں پر حملوں کا دائرہ وسیع کر سکتا ہے، جس سے پورا خطہ ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔
سابق سفیر آصف درانی بھی اس خدشے سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے پھیلاؤ کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی متعدد حساس تنازعات اور سکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے، اس لیے اگر موجودہ کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مختلف علاقائی ممالک، اتحادی گروہوں اور اہم تزویراتی مراکز تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔آصف درانی کا کہنا ہے کہ جنگ مختلف شکلیں اختیار کر سکتی ہے، جن میں محدود فوجی کارروائیاں، پراکسی جنگ، بحری محاذ آرائی یا وسیع علاقائی تصادم شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ بحران کا سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ کسی بھی فریق کی غلط حکمت عملی یا غیر متوقع ردعمل کشیدگی کو تیزی سے بڑھا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق فی الحال نہ امریکا اور نہ ہی ایران ایک طویل اور براہ راست جنگ کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک اس کے سیاسی، عسکری اور معاشی نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں۔ تاہم محدود فوجی کارروائیاں، پراکسی حملے، سمندری راستوں پر دباؤ اور سفارتی کشیدگی آئندہ بھی جاری رہنے کا امکان موجود ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی اور علاقائی طاقتوں کی سفارتی کوششیں، پس پردہ مذاکرات اور تیسرے فریق کی ثالثی ہی اس بات کا تعین کریں گی کہ ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ بحران محدود رہتا ہے یا مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی اور وسیع جنگ کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
