ارشاد بھٹی نے کپتان کی فخریہ پرفارمنس کا جنازہ نکال دیا

فوجی اسٹیبلشمنٹ اور اسکے سلیکٹڈ وزیراعظم عمران خان سے قربت کا دعوی کرنے والے یوتھیے کالم نگار ارشاد بھٹی نے بھی کپتان اور اس کی حکومت کی اب تک کی فخریہ پرفارمنس سے گھبرا کر اس کا بری طرح رگڑا نکال دیا ہے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ارشاد بھٹی نے عمران خان کے اس بیان کا پوسٹ مارٹم کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی حکومت کی ڈھائی برس کی کارکردگی پر فخر کا اظہار کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ وہ اسی تندہی سے عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔ ارشاد بھٹی اپنے کپتان عمران خان سے پوچھتے ہیں کہ کیا انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ شوگر سکینڈل میں اربوں روپے کی لوٹ مار کرنے والے جہانگیر ترین کو این آر او دینے جا رہے ہیں؟ یا کیا انہیں اس بات پر فخر ہے کہ انہوں نے ترین گروپ سے بلیک میل ہو کر ایف آئی اے شوگر انکوائری کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر رضوان کو انکے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ شوگر انکوائری کمیشن کے سربراہ رضوان کے ہٹائے جانے کی جو وجوہات سامنے آئی ہیں ان میں پہلی وجہ یہ یے کہ وہ چار حکومتی ارکان کی شوگر ملوں کیخلاف ایف آئی آر دینا چاہتے تھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان پر ترین کیخلاف درج ایف آئی آر پر نظر ثانی کرنے کا دباؤ تھا، اور جب رضوان نے دونوں باتیں ماننے سے انکار کردیا تو انہیں انخے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
ارشاد بھٹی عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کاش وہ یہ فیصلہ کرنے سے پہلے دوبارہ سے جہانگیر ترین کے متعلق سپریم کورٹ کا نااہلی والا فیصلہ پڑھ لیتے، ایس سی پی کی انسائیڈر ٹریڈنگ پر ججمنٹ پڑھ لیتے اور ایک نظر ترین کے مبینہ فراڈ، مبینہ منی لانڈرنگ اور مبینہ شوگر گھپلوں پر مار لیتے۔ بھٹی صاحب کہتے ہیں، کپتان جی، جہانگیر ترین کے معاملے پر نو این آر او، نو یوٹرن پلیز، کپتان جی، یہ آپ نے ہی کہا تھا کہ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ حکومت چھوڑیں کیا میری جان بھی چلی جائے تو میں چوروں اور ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑوں گا۔ کپتان جی، یہ بھی آپ نے ہی کہا تھا کہ میں نے ﷲ پاک سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ یا ﷲ مجھے ایک موقع دینا تو میں اہنا ملک لوٹنے والے کسی لٹیرے کو نہیں چھوڑوں گا۔ ارشاد بھٹی وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کپتان جی! اب اپنی باتوں پر کھڑے رہنا اور جہانگیر ترین کو این آر او نہ دے دینا۔
اسکے بعد ارشاد بھٹی وزیراعظم عمران خان کے اس دعوے پر ان کی کلاس لیتے ہیں کہ انہیں اپنی حکومت کے ڈھائی سالہ کارکردگی پر فخر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پانچ سالہ دور حکومت میں سے اڑھائی سال سے زیادہ وقت گزر گیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران نے بطور وزیراعظم ایسا کونسا کام کیا ہے جس وجہ سے انہیں اپنی کارکردگی پر فخر ہے۔ ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ 22 سال اپوزیشن کرنے کے بعد عمران اقتدار میں آئے تو ان کا ہوم ورک صفر تھا، اسے رہنے دیں، رائٹ پیپل فار رائٹ جاب بھی رہنے دیں، عمران یہ بھی نہ کر سکے، لیکن عمران کو اپنی کارکردگی پر فخر ہے، بھٹی صاحب سوال کرتے ہیں کہ کیا عمران خان کو اپنے یوٹرنوں پر فخر ہے، کیا انہیں اپنی بیڈ گورننس اور بیڈ پر فارمنس پر فخر ہے، کیا انہیں مسلسل بڑھتی مہنگائی پر فخر ہے، کیا انہیں تاریخی بے روزگاری پر فخر ہے، کیا انہیں مسلسل ترقی کرتی غربت پر فخر ہے، کیا انکو منفی گروتھ ریٹ پر فخر ہے، کیا انکو زراعت اور صنعت سمیت 16 میں سے 12 شعبوں کی بدحالی پر فخر ہے، کیا انہیں پولیس اور پٹوار ریفارمز نہ کرنے پر فخر ہے، کیا انکو آئی ایم ایف کے پاس جانے پر فخر ہے، کیا انہیں ریکارڈ توڑ قرضے پر قرضہ لینے پر فخرہے، کیا انہیں 90 دنوں میں کرپشن ختم نہ کرنے پر فخر ہے، کیا انہیں ایک کروڑ نوکریاں نہ دینے پر فخر ہے، کیا انکو 50 لاکھ گھر نہ بنا سکنے پر فخر ہے، کیا انہیں جنوبی پنجاب کا نیا صوبہ نہ بنا سکنے پر فخر ہے، کیا انہیں مفت تعلیم، مفت صحت کی سہولیات نہ دے سکنے پر فخر ہے؟
ارشاد بھٹی مزید پوچھتے ہیں کہ کیا عمران خان کو ایم کیو ایم، جے ڈی اے، قاف لیگ، آزاد ممبران اور الیکٹیبلز سے اتحاد کر کے ایک نکمی اور نالائق حکومت بنانے پر فخر ہے، کیا انہیں انرجی سیکٹر، آٹا، گندم اور چینی پر غلط بریفنگز، غلط فیصلوں پر فخرہے، کیا انہیں بھانت بھانت کے پروٹوکول لینے پر فخر ہے، کیا انہیں 20 وزیروں اور مشیروں کی بجائے 50 وزیر اور مشیر رکھنے پر فخر ہے، کیا انہیں وزیراعظم ہاؤس، ایوان صدر، گورنر ہاؤسسز نہ گرانے اور یونیورسٹی نہ بنانے پر فخر ہے، کیا انہیں دو سو ارب ڈالر باہر سے نہ لانے پر فخر ہے، کیا انہیں 8 ہزار ارب ٹیکس اکٹھا نہ کر سکنے پر فخر ہے، کیا انہیں آئے روز وزیروں، مشیروں، اور بیوروکریٹوں کو تبدیل کرنے پر فخر ہے، کیا انہیں اڑھائی کروڑ بچوں کو اسکول نہ بھجوا سکنے پر فخر ہے، کیا انہیں کراچی پیکیج ٹھس ہوجانے پر فخر ہے؟
ارشاد بھٹی عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں اگر تو قائد محترم آپ کو اپنی اس کارکردگی پر فخرہے تو یقین کریں کہ ہمیں بھی آپ پر فخر ہے۔
