کرپٹو کرنسی کو پاکستانی روپوں میں بدلنے کا فراڈ عروج پر

 

 

 

 

پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے فروغ کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر فراڈیے بھی متحرک ہو گئے ہیں جعلسازوں نے جعلی واٹس ایپ پروفائلز، بیرون ملک نمبرز اور دھوکا دینے والے آن لائن اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو فرضی ڈیجیٹل سکیموں میں سرمایہ کاری کی جانب مائل کر کے چونا لگانا شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے تحقیقات کے دوران فراڈیوں کی جانب سے کرپٹو کرنسی والیٹ سے کرنسی کو چرا کر اسے پاکستانی روپوں میں بدل کر اپنے بنک اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

 

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کرپٹو کرنسیز کو پاکستانی کرنسی یا ڈالر اور پاؤنڈ سمیت دیگر کرنسیوں میں بدلنا ممکن ہے؟ اس تبادلے کے دوران سادہ لوح شہری فراڈیوں کا نشانہ کیسے بنتے ہیں؟ کرپٹو کرنسی کے ماہرین کے مطابق کرپٹو کرنسیاں کاغذی کرنسی میں تبدیل کرنا تکنیکی طور پر سادہ مگر قانونی اعتبار  سے حساس عمل ہے۔ عام طور پر اس کام کے 3 طریقے بہت مقبول ہیں۔ پہلا طریقہ مرکزی ایکسچینج ہے جہاں آپ ایکسچینج پر اکاؤنٹ بناتے ہیں، جہاں آپ اپنے شناختی کاغذات جمع کراتے ہیں اور اس اکاؤنٹ کے ذریعے اپنی کرپٹو کرنسی فروخت کر کے حاصل ہونے والی رقم اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیتے ہیں۔

کمرشل درآمدات کی اجازت، کیا واقعی پاکستان میں گاڑیاں سستی ہونے والی ہیں؟

کرپٹو کرنسی کو لوکل کرنسی میں تبدیل کرنے کا دوسرا طریقہ پی ٹی پی یا یا لوکل مارکیٹ کا ہے جس میں خریدار اور بیچنے والا براہِ راست ایک دوسرے سے رابطہ کر کے بینک ٹرانسفر یا دوسرے ذرائع سے لین دین کرتے ہیں جبکہ اس حوالے سے تیسرا طریقہ اوور دی کاؤنٹر یا بروکرز کا ہے یہ طریقہ عام طور پر بڑے حجم کے لین دین کے لیے استعمال ہوتا ہے اس میں جہاں صارف کو بہتر ریٹ ملتا ہے وہیں اس طریقہ کار میں نقصان کا احتمال بہت کم ہوتا ہے کیونکہ درمیان میں بروکر کی صورت میں ایک گارنٹر موجود ہوتا ہے۔

 

ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ کرپٹو کو ڈالر، یورو یا پاکستانی روپے میں تبدیل کرنا ممکن اور عام عمل ہے مگر اس کیلئے غیر قانونی یا غیر شفاف طریقہ کار اپنانے سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ماہرین کے مطابق کرپٹو کرنسی کو بین الاقوامی کرنسی یعنی ڈالر یا یورو میں تبدیل کرنے کے لیے عموماً مرکزی ایکسچینج کے طریقہ کار کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار میں پہلے آپ اپنا کرپٹو کرنسی کو ڈالر یا یورو کے بدلے فروخت کرتے ہیں۔ فروخت کے بعد حاصل شدہ رقم کو بینک لنک کے ذریعے اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کروا لیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بڑے حجم کیلئے اوور دی کاؤنٹر ڈیسک یا مستند بروکر کے ذریعے بہتر ریٹ مل سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کے بقول پاکستان میں ہر بینک یا ادارہ کرپٹو کرنسی کو براہ راست قبول نہیں کرتا اس لیے عام طور پر 2 راستے اختیار کیے جاتے ہیں۔ پہلا طریقہ کار یہ ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی کو مقامی کرپٹو ایکسچینجز یا پی ٹو پی مارکیٹ کے ذریعے بیچا جائے اور پاکستانی روپیہ براہ راست اپنے مقامی بینک اکاؤنٹ میں حاصل کیا جائے۔ دوسرا طریقہ یہ کہ کرپٹو کو پہلے ڈالر یا یورو میں نکالا جائے اور پھر قانونی طریقوں مثلاً ریمیٹنس یا پیمنٹس کے ذریعے اسے اپنے بینک اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کیا جائے۔ تاہم ماہرین کے مطابق دونوں صورتوں میں فیس، وقت، بینکس کے قواعد وضوابط یا ریگولیٹری پالیسیوں کو سامنے رکھنا پڑتا ہے، اس لیے صرف مستند، لائسنس یافتہ پلیٹ فارمز یا قابلِ اعتماد پی ٹو پی ٹریڈرز کے ساتھ کام کریں تو ہی بہتر ہے کیونکہ کرپٹو کرنسی کی کنورژن کے دوران غیرشفاف یا غیرقانونی راستے منی لانڈرنگ اور قانونی مشکلات کا سبب بن سکتے ہیں۔

 

 

Back to top button