کیا جسٹس فائز سے لڑائی منصور شاہ کو مہنگی پڑنے والی ہے؟

پاکستان میں عدلیہ اور انتظامیہ کی لڑائی تو پچھلے 75 برس سے جاری تھی لیکن یہ شاید پہلا موقع ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ان میں سے ایک دھڑا جسٹس منصور علی شاہ کی زیر قیادت کھل کر تحریک انصاف کے ساتھ کھڑا ہے جبکہ دوسرا دھڑا چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کا ہے جن پر حکومت نواز ہونے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی سیاست میں حالیہ چند مہینوں کے دوران کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جنھیں دیکھ کر سیاسی و قانونی مبصرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ بظاہر ملک کے بڑے ادارے بشمول پارلیمان اور سپریم کورٹ نہ صرف ایک عدم استحکام کی کیفیت کی جانب بڑھ رہے ہیں بلکہ مبینہ طور پر اندرونی تقسیم کا بھی شکار ہیں۔ ایک طرف پارلیمان میں عدلیہ اور اسکے حالیہ فیصلوں سے متعلق تنقیدی تقاریر جاری ہیں اور آئینی ترامیم منظور کروانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنے ہی ادارے سے سوالات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے پر سپریم کورٹ کے اکثریتی بینچ کا پریس ریلیز نما وضاحتی بیان ادارے کی ویب سائٹ پر کیسے جاری ہو گیا؟
یاد رہے کہ رواں ماہ سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینج نے مخصوص نشستوں کے کیس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور تحریک انصاف کی درخواستوں کا جواب دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ایک دھمکی امیز خط لکھا تھا۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ 12 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کرانے والے امیدوار آزاد نہیں بلکہ تحریک انصاف کے ہیں لہذا کمیشن فوری طور پر ان کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کا اعلان کرے۔
اداروں کے درمیان جاری رسہ کشی سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے حوالے کیے گئے فیصلے کے بعد شدت اختیار کر گئی ہے۔
پنجاب، سندھ اور قومی اسمبلیوں کے سپیکر صاحبان نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر درخواست کر چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو نہ دی جائیں۔ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشتستوں کے حوالے سے اپنے فیصلے کے ذریعے ’خود الجھایا ہے۔‘ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مخصوص نشستوں کے تفصیلی بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے ’مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو نہیں دی جا سکتی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس پر ایک اور قانونی معاملہ چلے گا۔‘
اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ن لیگ کے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ا یے کہ تفصیلی فیصلے کے ذریعے ’ایک ایسی پارٹی کو ریلیف دیا گیا جو نہ مخصوص نشستوں کا تقاضہ لے کر الیکشن کمیشن گئی، نہ سپریم کورٹ گئی اور نہ ہی کسی ہائی کورٹ۔ ‘ وہ کہتے ہیں کہ اس کیس میں فریق سُنی اتحاد کونسل تھی اور الیکشن کمیشن اور پشاور ہائی کورٹ پہلے ہی قرار دے چکے ہیں کہ سُنی اتحاد کونسل کو یہ مخصوص نشستیں نہیں مل سکتیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ ’اس فیصلے کے خلاف نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی نظرِ ثانی کی اپیلیں عدالت کے سامنے زیرِ التوا ہیں، لیکن سپریم کورٹ کے مخصوص ججز کہہ رہے ہیں کہ ہمارے فیصلے پر فوری عمل کریں۔ ن لیگ اس معاملے کو بھی پارلیمنٹ میں لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ عرفان صدیقی کے مطابق ’پارلیمنٹ اس معاملے کو دیکھے گی، ہم یہ نہیں کر سکتے کہ صرف ایک بات اس لیے مان لیں کہ آٹھ ججوں نے کہا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اب یہ معاملہ پارلیمنٹ دیکھے گی کہ کہیں یہ آئین و قانون کے منافی تو نہیں اور پھر فیصلہ کرے گی۔‘
دوسری جانب الیکشن کمیشن کا مؤقف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے پارٹی انتخابات کا معاملہ ابھی تک الیکشن کمیشن میں زیرِ التوا ہے تو ایسے حالات میں کیسے مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دی جائیں؟ آئینی و قانونی ماہرین سمجھتے ہیں کہ حجوں کو یہ تاثر رد کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کا جھکاؤ کسی سیاسی جماعت کی طرف ہے۔
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ریٹائرڈ) فیصل عرب مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے پر سپریم کورٹ سے جاری وضاحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میں نے اپنے 15 سالہ کیریئر میں ایسا واقعہ نہیں دیکھا جس میں عدالت نے اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کرنے سے پہلے وضاحتی بیان جاری کیا ہو۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ججز کی جانب سے یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ اُن کا جھکاؤ کسی سیاسی جماعت کی طرف ہے بلکہ انھیں اپنے فیصلوں سے بولنا چاہیے۔‘
ماہرِ قانون بیرسٹر صلاح الدین کہتے ہیں کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے باوجود بھی سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کو واپس نہیں لیا جا سکتا۔ انھوں نے لہا کہ ااگر سپریم کورٹ نے کسی قانون کی تشریح کی ہو، تو پارلیمنٹ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس قانون میں ترمیم کر سکے۔ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ سپریم کورٹ کو آئین کی تشریح کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن تشریح کرتے وقت عدالتِ عظمیٰ کو ٹھوس وجوہات دینی ہوں گی کہ کس طرح پارلیمنٹ سے منظور کیا گیا قانون آئین کے خلاف ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے آٹھ ججوں کو مخصوص نشستوں سے متعلق وضاحتی بیان جاری کرنے کے بجائے تفصیلی فیصلہ ہی جاری کرنا چاہیے تھا جسے آنے میں ڈھائی ماہ کا وقت لگ گیا۔
پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ ’ملک میں اداروں کے درمیان برتری کی ایک جنگ جاری ہے اور جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’ہر ادارہ آئین میں موجود لچک کو اپنے حق میں کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو وہ دن دور نہیں جب ملک کا آئین ہی ٹوٹ جائے گا۔‘ انکا کہنا یے کہ جب تمام ادارے اپنی بقا کی جنگ لڑتے لڑتے دوسرے اداروں کے حقوق سلب کر لیتے ہیں تو ایسے حالات میں جمہوریت ایک ثانوی چیز بن جاتی ہے۔ ان کے خیال میں سپریم کورٹ میں ’اندرونی جنگ زوروں پر ہے جہاں سب سے سینیئر جج ملک کا چیف جسٹس بننا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف موجود چیف جسٹس ایکسٹینشن چاہتے ہیں، ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ جیت کس کی ہوتی ہے اور ہار کس کی؟
