فلم ’’جان جاں‘‘ میں مارکٹائی سینز دیکھنے کی ضرورت کیوں نہیں پڑتی؟

فلم کی کہانی اچھی ہوتو شائقین کو مارکٹائی دیگر سسپنس سے بھرپور سینز دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی، فلموں میں یہ تمام غیرضروری چیزیں صرف عوام کو سیٹ سے چپکا کر بٹھانے کے لیے ڈالی جاتی ہیں، اردو نیوز کے مصنف خاور جمال کہتے ہیں کہ سچی بات کروں تو نیٹ فلیکس کی فلم ’جان جاں‘ دیکھ کر مجھے میتھ (حساب) کے ٹیچرز سے بہت زیادہ ڈر لگنے لگا ہے۔ میرا ویسے بھی حساب کتاب ذرا کمزور ہے اور اگر کسی ایسے بندے سے واسطہ پڑ جائے جو منطق میں بھی استاد ہو تو سمجھیں آپ گئے کام سے۔اس فلم کی کہانی جاپان کے معروف ناول نگار کیگو ہیگاشینو کے مشہور ناول The Devotion of Suspect X پر مبنی ہے جو انہوں نے 2005 میں لکھا تھا۔ ہیگاشینو کی تجسس سے بھرپور کہانیاں اکثر نفسیاتی اور فلسفیانہ موضوعات سے جڑی نظر آتی ہیں، اس ناول پر ان کو متعدد اعزازات بھی مل چکے ہیں۔ناول میں بیان کی گئی کہانی میں چار مرکزی کردار ہیں لیکن اس فلم کے مرکزی کردار تین ہیں۔ مایا ڈیسوزا کا کردار کرینہ کپور جبکہ میتھ ٹیچر نارین اور انسپکٹر کرن کے کردار بالترتیب جے دیپ اہلاوٹ اور وجے ورما نے بخوبی ادا کیے ہیں۔فلم کی شوٹنگ پہاڑوں اور حسین قدرتی نظاروں سے گھرے کلیمپونگ کے خوب صورت قصبے میں کی گئی ہے جو بنگال اور نیپال کی سرحد پر واقع ہے۔ خاور جمال کہتے ہیں کہ فلم میں سب سے مضبوط کردار مجھے میتھ ٹیچر نارین کا لگا۔ جے دیپ اہلاوٹ نے جو سیزن ’پاتال لوک‘ سے کافی زیادہ مشہور ہو گئے تھے، اس کردار کو شاندار طریقے سے ادا کیا ہے۔ کرینہ کپور نے بہت عرصے بعد اپنے کمفرٹ زون سے نکل کر ایسا کردار ادا کیا ہے جو پہلے ان کے فلموں میں نظر نہیں آتا۔اس فلم کے ہدایت کار سوجوئے گھوش ہیں جن کو سسپنس اور تھرلر فلمیں بنانا پسند ہیں۔ وہ اس سے پہلے ’کہانی‘ اور ’بدلہ‘ جیسی فلمیں بنا چکے ہیں جن میں بالترتیب ودیا بالن اور امیتابھ بچن کام کر چکے ہیں۔ اس فلم کا سکرین پلے بھی انہوں نے ہی لکھا ہے، جاپان اور کوریا میں اس ناول پر 2008 اور 2012 میں فلمیں بن چکی ہیں جن کو کافی پسند کیا گیا تھا تاہم بالی ووڈ میں اس ناول کو پہلی بار فلم کا روپ دیا گیا ہے۔21 ستمبر کو نیٹ فلیکس پر یہ فلم ریلیز کی گئی ہے، آئی ایم ڈی بی پر اس کی ریٹنگ 10 میں سے 7.4 ہے جبکہ 91 فیصد ناظرین نے پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔فلم کا پلاٹ اور کہانی مضبوط ہے اور اداکاری کے لحاظ سے بھی فلم بہترین ہے۔اگر آپ نے بہت زیادہ سسپنس اور مسڑی ناول پڑھ رکھے ہیں اور ایسی فلمیں بھی دیکھ رکھی ہیں تو یہ مت سمجھیں کہ یہ فلم دیکھنا بے کار جائے گا کیوںکہ میتھ ٹیچر نارین کا کہنا ہے کہ ہر مسئلے کے دو حل ہوتے ہیں، ایک بالکل سامنے نظر آنے والا حل ہوتا ہے، اور وہی سچ ہوتا ہے جو اگر آپ نہ دیکھ پائیں تو پھر آپ اس حل کو قبول کر لیتے ہیں جو کوئی دوسرا آپ کو بتا دے۔
