40 برس کی عمر کے دوران انسان میں کونسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں؟

انسان کی عمر جیسے جیسے بڑھتی اور میچور ہوتی ہے، اس کی عادات اور روزمرہ معمولات میں اسی حساب سے تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، زہن سازی، سوچ کا عمل بھی اسی طرح تبدیل ہوتا رہتا ہے، ہرعمر کے مختلف مراحل اورخصوصیات ہوتی ہیں اس لیے بڑھتی عمر کے ساتھ عادات میں تبدیلی ایک فطری امر ہے۔اس حوالے سے عربی میگزین ’سیدتی‘ میں ان طریقوں کو بیان کیا گیا ہے جن پر عمل کرتے ہوئے صحت مندانہ بڑھاپے سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے، دماغ اعصابی خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ خلیات ایک دوسرے کے ساتھ نیورو ٹرانسمیٹر کے طور پر رابطہ رکھتے ہیں اور ان کا عمل اور ردعمل بھی مخصوص ہوتا ہے۔دماغ کی ساخت میں مختلف تبدیلیاں ذہنی یا نفسیاتی تبدیلیوں سے قبل واقع ہوتی ہیں جو عمر کے ساتھ ساتھ وقوع پذیر ہوتی ہیں۔اعصابی خلیات کی بتدریج موت یا سکڑنے کے نتیجے میں دماغ کا سائز اوراس کا وزن 40 برس کی عمر کے بعد کم ہونے لگتا ہے۔ یہ کمی 40 برس کی عمر کا ہونے کے ہر 10 برس بعد پانچ فیصد کے تناسب سے واقع ہوتی ہے۔ اومیگا تھری سے بھرپور غذا دماغ کی حالت کو بہتر رکھنے میں کافی معاون ثابت ہوتی ہے جس سے ان خلیات کی اصلاح بھی ہوتی ہے جو عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ مردہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔دماغ کے حسیاتی خلیات فوری طور سے ہمیں ردعمل دیتے ہیں جو ان تک پہنچتے ہیں یعنی صوتی، بصری یا لمس کے اثرات فوری طور پر مخصوص خلیات کے ذریعے دماغ کے اس حصے تک پہنچتے ہیں جو انہیں شناخت کرنے کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔کسی بھی عمل پر دماغ کی جانب سے ردعمل بھی فوری طور پر ہوتا ہے جسے ’پروسیسنگ سپیڈ‘ کہا جاتا ہے، یہ ردعمل فطری طور پر عمر کے بڑھنے کے ساتھ کم ہونے لگتا ہے تاہم اس عمل کوبرقرار رکھنے کے لیے خصوصی سپلیمنٹس جن میں لیوٹین اور زیکسینتھین شامل ہیں، لی جا سکتی ہیں جس سے اس ردعمل کی رفتار یعنی ’پروسیسنگ سپیڈ‘ کی کمی کو دور کیا جا سکتا ہے۔دماغ کے مختلف حصوں میں حافظے یعنی میموری کی مختلف اقسام موجود ہیں جن میں سب سے نمایاں ’ہیپوکیمہس‘ ہے۔ اس حصے کے خلیے عمر کے ساتھ ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں جس سے یادداشت میں کمی واقع ہونے لگتی ہے تاہم یہ ایک قدرتی عمل ہے مگر بعض اوقات یہ کمی ’الزائمر‘ کی بیماری کا سبب بھی بن سکتی ہے، دماغ کی صحت کا گہرا تعلق نیند سے ہے، نیند کی کمی کی علامات صرف دن میں ہی سونے تک محدود نہیں بلکہ ان میں ذہنی دباؤ یا یاداشت کی کمزوری اور ارتکاز کی کمی بھی شامل ہے۔ اس صورت میں زنک کا استعمال پُرسکون نیند کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔علاوہ ازیں اس صورت حال میں کسی ماہر معالج سے بھی رابطہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔درمیانی عمر کے مردوں پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ انہیں ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی کمی کی وجہ سے ڈپریشن اور تھکان کے علاوہ حافظے کی کمزوری بھی ہو سکتی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیسٹوسٹیرون کی کمی دور کرنے کے لیے کسی ماہر سے رجوع کیا جانا ضروری ہے۔اس حوالے سے ماہرین کی جانب سے بعض نکات بیان کیے گئے ہیں جن پر 40 برس کی عمر میں پہنچنے کے بعد عمل کرنے سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، صحت مندانہ خوراک کی عادت کو اپنائیں جو 40 برس کے بعد زیادہ ضروری ہوجاتی ہے، جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے ورزش کی عادت کو اپنایا جائے کیونکہ صحت مند دماغ کے لیے صحت مند جسم کا ہونا ضروری ہے۔جسم میں خون کے بہاؤ اوردماغ کو مناسب مقدار میں آکسیجن کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ’کارڈیو‘ مشقیں ضرور کریں جو اعصابی خلیات کی تشکیل اور دماغ کے سائز کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

Back to top button