جسٹس بندیال نظام عدل پر کلنک کا ٹیکہ کیسے ثابت ہوئے؟

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی سرباہی کرتے ہوئے آئین کی پامالی کرتے ہوئے ایسے ایسے احکامات صادر فرمائے جن کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی جبکہ مستقبل میں یہی فیصلے تاریخ میں جسٹس بندیال کے چہرے پرکلنک کا ٹیکا ثابت ہونگے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ایک وجہ شہرت معروف تین رکنی ہم خیال بینچ بنانا بھی ہے۔ وہ بینچ جس نے ہر سیاسی کیس سنا اور اسی وجہ سے مختلف سیاسی جماعتوں کو اس بینچ پر شدید تخفظات رہے۔ چاہے ججز کی آڈیو لیک کا معاملہ ہو یا اہل خانہ کی آڈیو لیک، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کسی سوشل میڈیا مہم پر کان نہ دھرے۔ اور تمام اہم سیاسی و غیر سیاسی کیسز اپنی سربراہی میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ کے سامنے ہی مقرر کرتے رہے۔فروری 2022 میں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد مارچ میں عدم اعتماد، پنجاب اور خیبر پختونخوا انتخابات کا معاملہ، منحرف اراکین کا معاملہ، 63 اے کی تشریح اور حکومت تبدیلی کے باعث ’آدھی رات کو‘ عدالت کھولنے جیسے معاملات ان کے منتظر تھے۔

سابق سپیکر قاسم سوری کی رولنگ کالعدم قرار دے کر عدم اعتماد ووٹنگ اور اس کے نتیجے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت ختم ہونے اور پی ڈی ایم حکومت آنے کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال تحریک انصاف سوشل میڈیا ٹرولز کے نشانے پہ رہے۔لیکن بعد ازاں 63 اے کی تشریح اور سابق وزیراعظم عمران خان کو کمرہ عدالت میں دیکھ کر ’گڈ ٹو سی یو‘ کہنے پر وہ دیگر جماعتوں کے نشانے پر آ گئے۔

عدالت عظمیٰ کی کارروائیوں کی کوریج کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں ججز کے درمیان ’تقسیم‘ واضح نظر آئی۔سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں جس میں ازخود نوٹسز کی بھرمار تھی، فل کورٹ کے فیصلے میں خال ہی اختلافی نوٹ ہوتے تھے۔ لیکن جسٹس عمر عطا بندیال کے تین رکنی بینچ کے علاوہ دیگر ججز سے سوچ کا اختلاف ہی رہا اور وہ اختلاف لارجر بینچز اور دیگر ججوں کے تواتر سے آنے والے اختلافی نوٹس میں واضح تھا۔

اس کے علاوہ ججز تقرری کے معاملے پر ہائی کورٹ کے جونیئیر ججز کو سینیئر ججوں پر فوقیت دینے جسیےمعاملات پر بھی نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس عمر عطا بندیال میں اختلافات رہے۔ سپریم کورٹ میں اسی تقسیم اور اختلافات کی وجہ سے ہی جسٹس عمر عطاء بندیال نے تنقید ،سچائیوں اور حقائق سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے روائتی الوداعی ریفرنس نہ لینے کا فیصلہ کیا۔

قانونی ماہرین چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور کو عدلیہ کی تاریخ کا تاریک ترین دور قرار دیتے ہیں۔عدالتی امور کے صحافی حسنات ملک نے کہا کہ ’چیف جسٹس عمر عطا بندیال متنازع تو رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہددی اور ثاقب نثار نے زیادہ متنازع کام کیے ہیں۔‘حسنات ملک نے مزید کہا کہ ’چیف جسٹس بندیال نے ججوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا نہیں کی، ادارے کے اندر تقسیم رہی، سینیئر ججوں کو بینچ میں ساتھ نہ بٹھانا، فل کورٹ نہ بنانا، ہائی پروفائل کیسز میں صرف اپنا ہم خیال بینچ بنانا، یہ سب کر کے انہوں اپنے ساتھ ساتھ ادارے کا بھی نقصان کیا ہے۔ ججوں کی تعیناتی کے معاملے پر فیورٹ ازم رہا، جونئیر ہم خیال ججوں کی تعیناتی کی گئی جس پر اٹارنی جنرل اور دیگر ججوں کے رائے مخالف تھی۔انہوں نے پانچ جج تعینات کرنے تھے مگر چار کر سکے کیونکہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں رائے مختلف تھی۔حسنات ملک نے یہ بھی کہا کہ ‘جسٹس عمر عطا بندیال میں برداشت کمال ہے ہر قسم کی مخالف کیمپین برداشت کی، کبھی کسی وکیل سے بدتمیزی نہیں کی۔ یہ ان کو کریڈٹ جاتا ہے اس کے علاوہ انہوں نے حکومت کے انتظامی امور میں مداخلت نہیں کی جیسے افتخار محمد چوہدری کرتے تھے۔‘

سینیئر عدالتی صحافی ناصر اقبال نے کہا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ چیف جسٹس بندیال اپنے ساتھ بہت اچھی یادیں لے کر جا رہے ہیں۔’ان کے زمانے میں سپریم کورٹ میں تقسیم شروع ہوئی، ججز کی گروہ بندی ہوئی، لیکن پھر بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ تاریخ کے سب سے متنازع چیف جسٹس تھے۔ ثاقب نثار سے تو وہ قدرے بہتر ہی رہے ہیں۔ ثاقب نثار تو ہائپر ایکٹیو ہو گئے تھے۔ لیکن جسٹس بندیال نے اتنے زیادہ از خود نوٹس لے کر حکومتی معاملات پر مداخلت نہیں کی۔‘انہوں نے کہا کہ ’عمر عطا بندیال نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا فیصلہ کرتے ہوئے اس میں ترمیم ہی کر دی۔ اس سے ایسا مطلب نکالا جس کی آئین میں گنجائش نہیں تھی۔ 90 دن میں انتخابات کا معاملہ بھی تھا لیکن اگر دیکھا جائے تو چیف جسٹس بندیال میں برداشت بہت تھی۔ ہمیشہ ہنس کر بات کو ٹالا کبھی وکلا کے ساتھ عدالت میں تلخ کلامی نہیں ہوئی۔ لیکن عدالت میں ججز اور بینچ کی گروہ بندی سے منفی تاثر ابھرا ہے۔‘

سینیئر سپریم کورٹ وکیل شاہ خاور کے مطابق عمر عطا بندیال بحثیت انسان شائستہ اور تمیزدار انسان ہیں لیکن ان کے دور میں بہت سے ایسے آئینی معاملات سامنے آئے جن کا سیاست کے ساتھ تعلق تھا۔’سیاسی معاملات کے کیسز میں جب سپریم کورٹ فیصلہ دیتی ہے تو جس جماعت کے حق میں ہوتا ہے وہ بہت تعریف کرتے ہیں لیکن جس کے مخالف فیصلہ ہوتا ہے وہ پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ جیسے قاسم سوری کی رولنگ کو کالعدم قرار دیا تو پی ٹی آئی کے کارکنان نے ان کو تضحیک کا نشانہ بنایا تھا۔‘شاہ خاور نے کہا کہ جسٹس عمر عطا بندیال کو ہر سیاسی کیس میں مخصوص ججوں کا بینچ نہیں بنانا چاہیے تھا بلکہ فل کورٹ کی جانب جانا چاہیے تھا تاکہ اجتماعی سوچ سامنے آتی۔ اس لیے تاریخ میں ان کو بھی ’متنازع چیف جسٹس‘ سمجھا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں ججوں اور سپریم کورٹ کے ادارے میں جو تقسیم ہوئی ہے وہ پہلے کسی چیف جسٹس کے دور میں نہیں رہی۔ ’ثاقب نثار بہت متنازع تھے لیکن ان کے دور میں ایسی تقسیم نہیں تھی۔ سیاسی تقسیم کا

اداکارہ یشما گل کو شوہر ڈھونڈنا مہنگا کیسے پڑا؟

عدلیہ پر اثر ہوا ہے۔‘

Back to top button