برطرفی کے خطرے سے دوچار فائز عیسیٰ چیف جسٹس کیسے بنے؟

ماضی قریب میں برطرفی کے خطرے کا سامنا کرنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس تعیناتی  قدرت کا کرشمہ لگتی ہے کیونکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے بطور چیف جسٹس حلف وہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی لیں گے جنہوں نے کچھ عرصہ قبل ان کیخلاف بے بنیاد الزامات پر مبنی صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھجوایا تھا اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اہلیہ سمیت کئی پیشیاں بھگتنا پڑی تھیں۔

واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کی منظوری تین ماہ قبل صدر عارف علوی نے 21 جون 2023 کو دی تھی۔ ام کی تعیناتی کا اطلاق 17 ستمبر 2023 کو موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ سے ہوگا اور اسی دن جسٹس قاضی فائز عیسٰی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی 17 ستمبر 2023 سے اکتوبر 2024 تک پاکستان کے انتیسویں چیف جسٹس ہوں گے۔

خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس تو 19 جون 2020 کو خارج کر دیا تھا لیکن بعد میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ایک کیوریٹو ریویو یعنی نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔ پی ٹی آئی حکومت کی رخصتی اور پی ڈی ایم حکومت آنے کے بعد وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے یہ درخواست واپس لینے کی استدعا کی تھی۔رواں برس اپریل میں ان چیمبر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا تاہم بعد ازاں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست واپس لینے کی بنا پر خارج کر دی تھی۔۔ صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران ایک وقت ایسا بھی تھا جب یہ محسوس ہوتا تھا کہ شاید جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا بطور جج سپریم کورٹ سفر یہیں پر ختم ہو جائے گا لیکن وہ نا صرف اس صدارتی ریفرنس کا کامیابی سے دفاع کر پائے بلکہ اب شکایت ککندہ صدر مملکت ان سے بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ حلف لینے والے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پیشی کے دوران یہ اعتراف کیا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف ریفرنس کہیں اور سے آیا تھا حالانکہ اس سے قبل وہ اس بات کا اعتراف بھی کر چکے ہیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف ریفرنس دائر کرنا ان کی غلطی تھی۔لیکن سابق وزیر اعظم کی اس غلطی نے مستقبل کے چیف جسٹس کو بہت اذیت میں مبتلا کیا اور وہ اپنے خلاف ریفرنس کی سماعتوں کے دوران کئی بار جذباتی ہوئے اور ان کی اہلیہ بھی آبدیدہ ہوئیں۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی عمران خان حکومت کے دوران اپنے میڈیا ٹرائل کی وجہ سے بھی بہت تکلیف میں مبتلا رہے اور ایک موقعے پر انہوں نے اس کا اظہار بھی کیا۔

خیال رہے کہ ماضی میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے بطور جج کئی فیصلوں پر تنازعات بھی سامنے آتے رہے ہیں ایسا ہی ایک فیصلہ انہوں نے اکتوبر 2018 میں نیب کی حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس دوبارہ کھولنے سے متعلق اپیل مسترد کر کے دیا تھا۔ نیب سپریم کورٹ کے بینچ جس کی سربراہی جسٹس قاضی فائز عیسٰی کر رہے تھے سے اپیل کر رہا تھا کہ 18 سال پرانا نیب ریفرنس دوبارہ سے کھولنے کی اجازت دی جائے۔ جس پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ نیب کے پاس یہ ریفرنس دوبارہ سے کھولنے کے لیے کوئی مضبوط جواز نہیں اور اپیل مسترد کر دی تھی۔ اس ایشو پر کچھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان کو سوشل میڈیا پر ٹرول کیا گیا۔

تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے فیض آباد پل پر دیے گئے دھرنے کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے پر بھی کچھ عناصر کی جانب سے تنازعہ کھڑا کیا گیا۔ فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سیکیورٹی ایجنسیوں کے کردار پر تنقید کی تھی اور میڈیا پر لگائی گئی پابندیوں کو بھی اظہار رائے کی آزادیوں کے خلاف قرار دیا تھا۔

فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے 3 ماہ بعد جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا جس میں الزام لگایا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اپنی اہلیہ کے نام جائیدادیں اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیں۔ صدارتی ریفرنس توجون 2020 میں ختم ہو گیا اور اپریل 2022 میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے اعتراف کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ک خلاف ریفرنس بھیجنا ان کی غلطی تھی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سینیئر پیونی جج، جسٹس قاضی فائز عیسٰی  کے آباوٗ اجداد کا تعلق افغانستان کے شہر قندھار سے ہے۔ ان کے دادا قاضی جلال الدین انیسویں صدی کے اواخر میں قندھار سے ہجرت کر کے کوئٹہ میں آباد ہوئے۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے والد قاضی محمد عیسٰی تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن اور آل انڈیا مسلم لیگ بلوچستان چیپٹر کے صدر تھے۔ معروف سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی ان کے فرسٹ کزن ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی 30 جنوری 1985 کو بطور وکیل بلوچستان ہائی کورٹ جبکہ 21 مارچ 1998 کو بطور وکیل سپریم کورٹ آف پاکستان انرول ہوئے۔ بطور جج تعیاتی سے قبل انہوں نے 27 سال ملک کی تمام ہائی کورٹس اور فیڈرل شریعت کورٹ میں وکالت کی اور مختلف اوقات میں بطور عدالتی معاون ذمے داریاں بھی ادا کیں۔ انہوں نے بین الاقوامی مقدمات میں بطور ثالث بھی کام کیا۔

ہائی کورٹ کا جج بننے سے قبل وہ باقاعدگی سے انگریزی اخبارات میں آرٹیکلز بھی لکھا کرتے اور دلچسپ بات یہ کہ انہوں نے ماس میڈیا لاز اینڈ ریگولیشنز ان پاکستان کے نام سے ایک کتاب بھی تصنیف کر رکھی ہے۔ 2018 میں فیض آباد دھرنا کیس میں انہوں نے ٹیلی وژن چینلوں کی بندش کا نوٹس بھی لیا تھا۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی اسلامی تعلیمات سے خاص لگاؤ رکھتے ہیں اور اپنے عدالتی فیصلوں میں اکثر قرآنی آیات اور احادیث کا ذکر کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی 13 اپریل سے سماعت کرنے والے بینچوں کا حصہ نہیں کیونکہ  پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر سپریم کورٹ کے حکم امتناع کے بعد انہوں نے تحریری طور پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ چیف جسٹس، جسٹس عمر عطاء بندیال اس مقدمے کا فیصلہ دیں بصورت دیگر تمام بینچوں کی تشکیل غیر قانونی ہو گی۔اس وجہ سے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اس سال اپریل سے خود کو چیمبر ورک تک محدود کر لیا اور کسی بینچ میں شمولیت یا سربراہی نہیں کی۔ فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے معاملے پر جب جسٹس بندیال نے 9 رکنی بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو شامل کیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جائے بصورت دیگر وہ اس بینچ کی قانونی

کیا نواز شریف کی واپسی کے بعد عمران کو بھی ریلیف ملے گا؟

حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے۔

Back to top button