کراچی کی بہنیں کورین بینڈ سے ملنے گھر سے بھاگیں

کراچی سے لاپتہ ہونے والی کورین بینڈ کی مداح دو سہیلیوں کو لاہور سے بازیاب کروانے والی پولیس ٹیم نے یہ انکشاف کیا ہے کہ وہ ایک کورین میوزیکل بینڈ ’’بی ٹی ایس‘‘ کی مداح ہیں اور اُسی سے ملنے کے لیے کراچی سے لاہور پہنچی تھیں جہاں سے وہ کوریا جانے کا ارادہ رکھتی تھیں۔
ان سہیلیوں کی گمشدگی کا واقعہ کراچی کے علاقے کورنگی میں 7 جنوری کو پیش آیا تھا، ان لڑکیوں میں سے ایک کے والد نے مقامی پولیس سٹیشن میں اپنی بیٹی کی گمشدگی کا مقدمہ بھی درج کروایا تھا۔ پولیس کے مطابق دونوں لڑکیاں ایک مقامی سرکاری سکول میں پڑھتی ہیں اور دوست ہیں، پولیس کے مطابق دونوں لڑکیاں خاموشی سے منصوبہ بنانے کے بعد اپنے گھر والوں سے چھپ کر لاہور کے لیے روانہ ہوئیں۔ ایف آئی آر کے مطابق ایک لڑکی کے والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی اپنی سہیلی کے ہمراہ گھر میں کام کر رہی تھی۔ اسی دوران وہ کسی کام کے لیے گھر کی چھت پر گئے مگر جب واپس نیچے آئے تو دونوں لڑکیاں گھر میں موجود نہیں تھیں۔
والد کے مطابق کافی دیر گزر جانے پر اُنھیں تشویش شروع ہوگئی لیکن اسی دوران دوسری لڑکی کے والد بھی اپنی بیٹی کو لینے آ گئے، ایف آئی آر کے مطابق دونوں والدین نے مل کر بچیوں کو علاقے میں تلاش کیا مگر کوئی سراغ نہ ملنے پر مقدمہ درج کروایا۔ تاہم اب پولیس نے بتایا ہے کہ دونوں لڑکیوں کو تلاش کر لیا گیا ہے اور اُنھیں لاہور سے کراچی لانے کی تیاری کی جا رہی ہے، ضلع کورنگی کے ایس ایس پی انویسٹی گیشن ابریز علی عباسی نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا ہے کہ دونوں لڑکیوں کی عمر 13 سے 14 کے سال کے درمیان ہے جنھوں نے 7 جنوری 2023 کو اپنا گھر چھوڑا تھا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ تفتیشی اہلکاروں نے لڑکیوں کے گھر کا معائنہ کیا جہاں سے شواہد اکٹھے کیے گئے، اُنھوں نے بتایا کہ سب سے پہلے جو شواہد ملے وہ ایک ڈائری اور ان کے زیرِ استعمال موبائل فونز تھے۔ ایک لڑکی اپنے والد اور ایک اپنی پھوپھی کا موبائل استعمال کر رہی تھی۔ پولیس نے موبائل فونز کو فرانزک تجزیے کے لیے بھجوایا جبکہ ڈائری کا تجزیہ کیا گیا تو پتا لگا کہ اس میں ٹرین کے اوقات اور ٹکٹوں کی قیمتیں لکھی ہیں۔
پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا کہ لڑکیاں ایک ساتھ کہیں جانے کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔ ایس ایس پی عباسی نے بتایا کہ ایک لڑکی نے اپنے ایک کزن کو بھی ساتھ لے جانا چاہا مگر پولیس کی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ان کا کزن اپنے گھر پر ہی موجود تھا، اس کے انٹرویو سے پتا چلا کہ دونوں لڑکیاں ’بی ٹی ایس‘ نامی کورین میوزیکل بینڈ کو بہت پسند کرتی تھیں اور خواہش رکھتی تھیں کہ ان سے کوریا جا کر ملیں اور اُن کے ساتھ کام کریں۔ اُن کے مطابق اُنھیں یہاں سے اندازہ ہوا کہ ڈائری میں موجود ٹرینوں کی تفصیلات اسی مقصد کے لیے لکھی گئی تھیں۔پولیس نے یہ سراغ ملنے کے فوراً بعد امیگریشن، ریلوے حکام اور ریلوے پولیس سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو مطلع کر دیا۔ اس دوران پتہ چلا کہ لاہور میں ریلوے پولیس نے دونوں کم عمر لڑکیوں کو شک پڑنے پر پہلے ہی گرفتار کرلیا تھا۔ دونوں سہیلیوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے مردانہ ٹریک سوٹ پہن رکھے تھے اور چہرے چھپا رکھے تھے۔
ایس ایس پی عباسی نے بتایا کہ تفتیشی افسر کو اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ لاہور جا کر لڑکیوں کو بازیاب کروائیں، چنانچہ بہت جلد لڑکیوں کو ان کے خاندان سے واپس ملوا دیا جائے گا، اپنے ویڈیو پیغام میں اُنھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کے سکرین ٹائم یعنی موبائل یا کمپیوٹر دیکھنے میں گزارے گئے وقت کی نگرانی کیا کریں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
