پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی میں اکثریت کی حمایت کھو بیٹھے

گورنر پنجاب کی جانب سے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے خلاف درخواست کا فیصلہ اگلے 48 گھنٹے میں ہونے کا امکان ہے لیکن اس دوران انکشاف ہوا ہے کہ تحریک انصاف کے کم از کم چار اراکین پنجاب اسمبلی بیرون ملک روانہ ہوچکے ہیں اور پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے،تحریک انصاف کے اراکین پنجاب اسمبلی کے بیرون ملک جانے کا انکشاف وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ خان اور عطا اللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب پرویزالٰہی کسی بھی صورت پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کر سکتے لہذا ان کا گھر جانا ٹھہر چکا ہے۔یاد رہے کہ اس سے پہلے مظفرگڑھ سے تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی خرم لغاری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ نہیں دیں گے اور اب وہ یورپ میں موجود ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے اور رکن پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری بھی متحدہ عرب امارات جا چکے ہیں۔ اسکے علاوہ پی ٹی آئی کی رکن پنجاب اسمبلی مومنہ وحید نے بھی ایک ہفتہ پہلے پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا تھا اور خود پر 5 کروڑ روپے رشوت وصول کرنے کا الزام لگانے پر فواد چوہدری کو کھری کھری سنائیں تھیں۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے کم از کم چار مزید اراکین اسمبلی یا تو بیرون ملک جا چکے ہیں یا جانے والے ہیں اور وہ پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ نہیں دیں گے۔ ایسے میں پرویز الٰہی کے لیے 186 اراکین اسمبلی کی حمایت ثابت کرنا ممکن نہیں رہا۔
دوسری جانب 11 جنوری کو جب پرویز الٰہی کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے کارروائی شروع کی تو جج صاحبان نے پہلا سوال ہی یہ کیا کہ اتنے دن گزر جانے کے باوجود وزیر اعلیٰ پنجاب نے اعتماد کا ووٹ کیوں نہیں لیا۔ اس پر پرویز الٰہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ گورنر پنجاب کا حکم نامہ غیر قانونی تھا اس لیے وہ کیس لڑیں گے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اب کیس کا فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر ہوگا۔
کیس کی کارروائی کا آغاز ہوا تو عدالت نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلیٰ کو 24 گھنٹے ایوان کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہونا چاہیے، پھر کہا گیا کہ درخواست گزار کے وکیل بتائیں کہ اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کتنے دن کا وقت مناسب ہوگا، ہم دن مقرر کردیتے ہیں تا کہ مسئلہ حل ہوجائے۔ یاد رہے کہ اس کیس کی سماعت ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب پنجاب اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس جاری تھا جہاں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اراکین مسلسل دو روز سے جاری احتجاج کے دوران پرویز الہٰی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ گورنر پنجاب نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے پنجاب اسمبلی کو تحلیل کرنے کے منصوبے کو روکنے کے لیے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کردیا تھا۔ 22 دسمبر کے اپنے حکم نامے میں گورنر پنجاب نے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے مقررہ دن اور وقت پر اعتماد کا ووٹ نہیں لیا، اس لیے وہ عہدے پر برقرار نہیں رہے، تاہم بلیغ الرحمٰن نے انہیں بطور وزیر اعلیٰ کام جاری رکھنے کا کہا تھا جب تک کہ کوئی ان کا جانشین منتخب نہیں کیا جاتا۔ لیکن گورنر کے اقدام کو غیر آئینی، غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف پرویز الہٰی نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ گزشتہ سماعت پر لاہور ہائی کورٹ نے پرویز الہٰی کو اگلی سماعت تک صوبائی اسمبلی تحلیل نہ کرنے کی یقین دہانی پر گورنر کا حکم معطل کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے منصب پر بحال کردیا تھا۔ وزیر اعلیٰ کو وزارت اعلیٰ کے منصب سے ڈی نوٹیفائی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کر رہا ہے، دیگر ججز میں جسٹس چوہدری محمد اقبال، جسٹس طارق سلیم شیخ، جسٹس عاصم حفیظ اور جسٹس مزمل اختر شبیر شامل ہیں۔ 11 جنوری کو سماعت کے آغاز پر جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا کہ معاملہ حل نہیں ہوا، گورنر کے وکیل نے کہا کہ یہ اعتماد کا ووٹ لیں گے تو معاملہ حل ہوگا، عدالت نے گورنر کے وکیل سے استفسار کیا کہ بتائیں کیا آفر ہے آپ کے پاس، جس پر گورنر کے وکیل نے جواب دیا کہ گزشتہ سماعت سے آج تک کافی وقت گزر گیا ہے لیکن اعتماد کا ووٹ نہیں لیا گیا، یہ وزیر اعلیٰ کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے، عدالت اعتماد کا ووٹ لینے کا وقت مقرر فرما دے۔
اس موقع پر جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ گورنر کے وکیل نے آفر دی ہے کہ اعتماد کا ووٹ لیں، کیا پرویز الہٰی ایسا کریں گے؟ انہوں نے پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کتنے دن کا وقت آپ کے لیے مناسب ہوگا، انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ اب بھی اعتماد کا ووٹ نہیں لیتے تو کل کو گورنر ایک اور نوٹی فکیشن جاری کردیں گے۔ تاہم علی ظفر نے کہا کہ پرویز الٰہی پہلے چاہیں گے کہ عدالت گورنر کے نوٹیفکیشن کی حیثیت کا فیصلہ کرے۔ اس پر جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ ہم اس درخواست پر میرٹ کے مطابق فیصلہ کر دیتے ہیں، ہم نے تو مناسب وقت دیا تھا لیکن اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کیا گیا۔
اس موقع پر گورنر پنجاب کے وکیل نے کہا کہ پنجاب حکومت اور وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے 20 دن مل چکے لیکن انہوں نے ووٹ نہیں لیا، ہم چاہتے ہیں کہ عدالت گورنر کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کی درخواست پر میرٹ پر فیصلہ کرے۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ تو کیا آپ اعتماد کا ووٹ لینے کی آفر قبول نہیں کر رہے، آپ کا اعتراض تھا کہ گورنر نے اعتماد کے ووٹ کے لیے مناسب وقت نہیں دیا۔ جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ اس بات میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ وزیر اعلیٰ کو 24 گھنٹے اکثریت کا اعتماد حاصل ہونا چاہیے، ہم نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ اگر گورنر کے حکم پر عمل نہیں ہوتا تو پھر اسمبلی کی تحلیل کا معاملہ کیا ہو گا اور اس کا راستہ کیسے رکے گا، معاملہ اب ایک مناسب وقت سے زیادہ آگے چلا گیا ہے اور اب اس معاملے کا جلد از جلد فیصلہ کرنا ہوگا۔
اس دوران جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ گورنر نے 19دسمبر کو وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا، اگر گورنر کہتے کہ اعتماد کا ووٹ 10 دن میں لیں تو پھر کیا ہوتا، ایسی صورت میں تو اب تک آپ کو اعتماد کا ووٹ لینا ہی تھا۔ پہلے آپ کا موقف تھا کہ ہمارے اراکین اسمبلی پاکستان سے باہر ہیں اب جبکہ وہ واپس آ چکے ہیں تو اعتماد کا ووٹ کیوں نہیں لیا جا رہا۔ اس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 12 جنوری تک موخر کر دی۔ عدالتی کارروائی کی روشنی میں سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ ہر صورت لینا ہوگا لیکن اب وہ اس پوزیشن میں نہیں رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی نے 11 جنوری کو زمان پارک میں عمران خان سے ملاقات کرکے انہیں بتایا کہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی جھڑتے جا رہے ہیں اور وہ اعتماد کا ووٹ لینے کی پوزیشن میں نہیں رہے لہٰذا کچھ کیا جائے۔ پرویز الٰہی نے عمران کو مزید بتایا کہ عدالت بھی بالآخر انہیں اعتماد کا ووٹ لینے کو کہے گی لہذا اب گیند ان کی کورٹ میں ہے۔
