کیا واقعی شاہدخاقان عباسی نون لیگ کو دھوکہ دینے والے ہیں؟

عام انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ ہی ملک میں ایک اورنئی سیاسی جماعت کی بازگشت زوروشور سے سنائی دینا شروع ہو چکی ہے۔ نون لیگ سے بغاوت کرنے والے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسمٰعیل اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے نئی سیاسی جماعت قائم کرنے کیلئے سنجیدگی سے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
نئی جماعت کی تشکیل کی تصدیق کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ جو ملک کے حالات ہیں ایک نئی اور موثر سیاسی جماعت بنے گی، سیاسی جماعت کون بنائے گا یہ وقت بتائے گا، یہ ضروری نہیں کہ میں اس سیاسی جماعت میں شامل ہوں،نئی پارٹی کا مقصد اگر اقتدار ہے تو پھر بات نہیں بنے گی، ایسی جماعت ہونی چاہئے جس کا مقصد واضح ہو کہ کیا اور کیسے کرنا ہے، پچھلے تین سال میں ہر جماعت اقتدار میں رہی مگر کچھ نہیں کرسکی، آج بات اقتدار، کرسیوں اور پارٹیوں کی نہیں ملک کی ہوگئی ہے، 35 سال سے ن لیگ کے ساتھ ہوں آج میرے پاس لوگوں کے سوالات کا جواب نہیں ہے
دوسری طرف مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ نئی پارٹی سے متعلق ہماری کوششیں جاری ہیں، ہماری دوستوں سے مشاورت ہو رہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کو بھی قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔تاہم اگر شاہد خاقان عباسی تیار نہ ہوئے تو پھر پارٹی نہیں بنائی جائے گی۔شاہد خاقان عباسی نئی پارٹی پر قائل نہ ہوئے تو آزاد الیکشن لڑوں گا،
دوسری جانب سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کے مطابق نئی جماعت کی تشکیل بارے فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا لیکن اس معاملے پر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے۔مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کی مقبولیت جانچنے کیلئے سروے کرایا تھا اور سروے رپورٹ کے نتائج پڑھ کر ہی وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ نئی سیاسی جماعت کے قیام کی ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ شاہدخاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور مصطفیٰ نواز کھوکھر مختلف لوگوں کے ساتھ مل کر ایک نئی سیاسی جماعت قائم کرنے پر بحث و مباحثہ کر رہے ہیں اور ساتھ ہی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ کیا نئی جماعت قائم کی جا سکتی ہے یا نہیں۔تینوں میں سے مصطفیٰ کھوکھر نئی پارٹی لانے کیلئے زیادہ آرزو مند ہیں جبکہ باقی دو لوگ ابھی واضح طور پر فیصلہ نہیں کر پائے کہ پارٹی قائم کی جائے یا نہیں۔
شاہد عباسی، مفتاح اسمٰعیل اور مصطفیٰ کھوکھر کا خیال ہے کہ ووٹروں کی ایک بڑی تعداد، جو فی الوقت نون لیگ کو مسترد کرنے کی وجہ سے عمران خان کی طرف مائل نظر آتی ہے، کو نئی سیاسی جماعت کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے کیونکہ عمران خان کے کٹر حامی اور نواز شریف کے کٹر حامی کسی دوسری سیاسی جماعت کو ووٹ نہیں دیں گے۔9؍ مئی کے بعد عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف کیلئے پیدا ہونے والی مشکل صورتحال کے تناظر میں خیال کیا جاتا ہے کہ نئی سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے ووٹروں کی ایک نمایاں تعداد جن میں کٹر حامی شامل نہیں کو اپنی جانب راغب کر سکتی ہے، کیونکہ یہ لوگ پنجاب میں نون لیگ یا کسی دوسری جماعت کو ووٹ نہیں ڈالیں گے۔
خیال رہے کہ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے طاقتور حلقوں پر تنقید کی تھی جس پر ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ جس کے بعد مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اپنی جماعت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔
مفتاح اسمٰعیل کے ساتھ نون لیگ کی اعلیٰ قیادت نے اپنے اقتصادی اقدامات کا دفاع کرنے پر سرد مہری کا اظہار کیا تھاکیونکہ ان کے کئے گئے اقدامات اسحاق ڈار کی پالیسی سے مختلف تھے۔ مفتاح نے بھی وزیر خزانہ کی حیثیت سے اسحاق ڈار کی پالیسیوں کی مخالفت کی تھی اور دلیل دی تھی کہ جب وہ وزیر خزانہ تھے اس وقت اسحاق ڈار نے بھی ان پر تنقید کی تھی۔ تاہم، اسحاق ڈار پر تنقید کی وجہ سے شریف برادران نے انہیں اجنبی کر دیا تھا۔
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو لیگی حلقے بے وفا اور احسان فراموش قرار دیتے ہیں لیگی حلقوں کے مطابق نواز شریف اور نون لیگ کی وجہ سے انھیں وزیر اعظم تک کا عہدہ ملا لیکن انھوں نے احسان فراموشی کی، خیال رہے کہ شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ چند ماہ کے دوران نون لیگ کی اعلیٰ قیادت سے فاصلہ اختیار کررکھا ہے۔اگرچہ پارٹی قیادت انہیں دور ہوتا نہیں دیکھنا چاہتی لیکن شاہد عباسی نون لیگ سمیت ملک کی تین سرکردہ سیاسی جماعتوں کے طرز سیاست سے مطمئن نہیں ہیں۔ شاہد عباسی آئندہ الیکشن کیلئے نون لیگ کے ٹکٹ کے حصول کے معاملے میں بھی دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے جبکہ مریم نواز کو پارٹی کا سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر لگائے جانے کے بعد سے وہ سینئر نائب صدر کی حیثیت سے کام کرنے سے بھی انکار کر چکے ہیں۔نواز شریف کی ہدایت پر مریم نواز نے شاہد عباسی سے ان کے گھر پر ملاقات کی تھی تاکہ انہیں عہدہ نہ چھوڑنے پر قائل کیا جا سکے لیکن شاہد عباسی نے شائستہ انداز سے انکار کر دیا۔ اب لگتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت نون لیگ چھوڑنے کا اعلان
گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی جلد چھٹی کا امکان کیوں؟
کر دیں گے۔
