پنکی کے’ دونوں‘ شوہروںکی جلد جیل سے رہائی نا ممکن کیوں؟

عمران خان کی موجودہ اہلیہ بشریٰ بی بی مشکلات کا شکار نظر آتی ہیں، موجودہ شورہر عمران خان کے مختلف الزامات پر لمبے عرصے کیلئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے کے بعد سابقہ شوہر خاور فرید مانیکابھی اینٹی کرپشن کی زد میں آ چکے ہیں۔پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے سابق شوہر خاور فریدمانیکا کو سرکای اراضی فراڈ کیس میں اینٹی کرپشن پنجاب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ملزم خاور مانیکا کے خلاف کرپشن کے مزید مقدمات بننے اور سلاخوں کے پیچھے طویل وقت گزارنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق خاور مانیکا کرپشن کا مقدمہ درج ہونے کے بعد سے روپوش تھے اوردبئی فرار ہونے کی کوشش میں قانون کی گرفت میں آگئے تھے۔ جس کے بعد انہیں ساہیوال منتقل کر دیا گیا اور اینٹی کرپشن حکام نے آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ لے کر تفتیش شروع کر رکھی ہے۔
خیال رہے کہ اینٹی کرپشن حکام نے 11 اگست کو انکوائری کے بعد فراڈ، سرکاری اراضی پر قبضے اور قومی خزا نے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں خاور مانیکا پر مقدمہ درج کیا تھااور چودہ ستمبر کو اوکاڑہ کے سینئر سول جج نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا اور خاور فرید مانیکا کو دبئی فرار ہوتے ہوئے لاہور ائیر پورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اینٹی کرپشن اوکاڑہ میں درج مقدمے سے قبل ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ کے انکوائری ریفرنس پر تحقیقات کرنے والی اینٹی کرپشن کے اے ایس آئی بنیامین کی رپورٹ کے مطابق حویلیاں میں واقع پیر اسلام قبرستان کی اراضی پر غیر قانونی طور پر 26 دکانیں بنائی گئیں اور چار کنال اراضی پر شادی ہال بنایا گیا۔ لیکن اس اراضی کے استعمال اور دکانیں بنانے کے علاوہ دیگر امور میں بھی نہ صرف قانونی تقاضے نظر انداز کیے گئے۔ بلکہ ان دکانوں کا کرایہ بھی خود وصول کیا گیا اور سرکاری خزانے میں ایک پائی بھی جمع نہیں کرائی گئی۔ ذرائع کے مطابق یہ اراضی1956 میں مزار پیر اسلام و قبرستان کیلئے الاٹ کی گئی تھی لیکن خاور مانیکا اور اس کے بیٹوں موسیٰ مانیکا اور ابراہم مانیکا نے اس پر قبضہ کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی چار کنال اراضی پر محمد حنیف اور دو بھائیوں حمادرضا اور جوادرضا کا بھی قبضہ کرا دیا۔ اس مقدمے میں محکمہ اوقاف کے ضلعی منیجر اشرف عباس، پٹواری محمد اشرف اور انسپکٹرا یکسائز اللہ نواز وٹو کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس اراضی پر ناجائز قبضہ دوہزارسترہ اور اٹھارہ میں کیا گیا اور تعمیرات کی گئی تھیں ۔ 2018 میں پی ٹی آئی سربراہ کے وزیر اعظم بننے کے بعد سرکاری عملے پر ملزم خاور مانیکا کا راج تھا۔ اینٹی کرپشن حکام کے مطابق اس اراضی پر قبضہ کرنے اور تعمیرات میں ملزم خاور مانیکا کی سابق اہلیہ بشری بی بی کا براہ راست کوئی کردار تا حال ڈیویلپ نہیں ہو سکا۔ تا ہم تفتیش کے عمل میں ایسے شواہد سامنے آسکتے ہیں۔ اینٹی کرپشن حکام کے مطابق اس اراضی سے کرائے کی مد میں ملزم خاور مانیکا اب تک دو کروڑ انسٹھ لاکھ اٹھاسی ہزار روپے وصول کر چکے ہیں۔ جبکہ اس اراضی کی کمرشلائزیشن فیس، نقشوں وغیرہ کی منظوری کے بابت بھی سرکاری خزانے کو ایک کروڑ چھتیس لاکھ سات ہزار آٹھ سو اسی روپے جمع کرانے کے بجائے ہڑپ کیے گئے ہیں۔
اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق عمران خان کے دور حکومت اور پنجاب میں سردار عثمان بزدار کی حکومت میں فرح گوگی اور ملزم خاور مانیکا کے سامنے کوئی پر نہیں مار سکتا تھا۔ اینٹی کرپشن حکام کے دعوے کے مطابق دیگر ملزموں کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور جلد ہی تمام ملزم گرفتار کر لئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق ملزم خاور مانیکا کے خلاف کرپشن کے دیگر الزامات بھی ہیں اور ایک سے زائد مقدمات درج ہونے والے ہیں۔ ملزم ایک لمبا عرصہ سلاخوں کے پیچھے رہ سکتا ہے۔ اس سے تفتیش کے دوران مزید کئی لوگ بے نقاب ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ جس اراضی پر ملزم خاور مانیکا وغیرہ نے قبضہ کیا ہے۔ اس کا کرایہ ابھی تک وہی وصول کر رہا ہے کیونکہ اس اراضی اور دکانوں کے کرائے کو منجمد نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ محکمہ اینٹی کرپشن کا اختیار ہے۔ تاہم اب تمام متعلقہ ادارے، خاص طور پر ضلعی انتظامیہ اور محکمہ اوقاف متحرک ہیں۔ کیونکہ محکمہ اوقاف ہی اس اراضی کا اصل مالک ہے جو قبضہ واگزار کرا کے تعمیرات کا انتظام خود سنبھال لے گا اور کرایہ بھی قواعد وضوابط کے مطابق خود وصول کرے گا۔ ذرائع کے مطابق خاور مانیکا کے اثاثوں اور ٹرانزیکشن کی چھان بین بھی کی جاری ہے۔
خیال رہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں پنجاب کا بچہ بچہ اس حقیقت سے واقف تھا کہ عثمان بزدار صرف نام کے وزیر اعلیٰ تھے اور ان کے اختیارات بشریٰ بی بی کی یار غار اور انکی فرنٹ ویمن کہلانے والی فرح خان عرف گوگی استعمال کرتی تھیں۔ بحریہ ٹاؤن کے ارب پتی مالک ملک ریاض سے ہیرے بطور رشوت وصول کرکے بشریٰ بی بی تک پہنچانے ہوں یا عمران خان کو اسلام آباد میں 458 کنال اراضی الاٹ کروانی ہو، یہ تمام گندے دھندے فرح گوگی اور انکے دوسرے شوہر احسن جمیل گجر کے ذمے تھے۔ بشری ٰبی بی اور فرح خان کے قریبی تعلق کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عمران اور بشری ٰکا خفیہ نکاح ڈیفنس لاہور میں فرح اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر کے گھر پر ہوا تھا۔ احسن جمیل گجر دراصل بشریٰ کے پہلے شوہر خاورمانیکا کے عزیز ترین دوست ہیں۔ بزدار کے دور میں پاکپتن میں اکثر ٹرانفرز اور تقرریاں خاور مانیکا کے حکم پر ہوتی تھیں بزدار کے بعد چودھری پرویزالٰہی کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد بھی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے پہلے شوہر خاور مانیکا پاکپتن کے ڈان بنے رہے ۔ ان کے علاقے میں تمام سرکاری افسران کی پوسٹنگ اور ٹرانسفرز انہی کی مرضی سے ہو تی
اداکارہ ماہرہ، فواد خان کس پراجیکٹ میں اکٹھے جلوہ ہونگے؟
تھیں۔
