’’KPK میں انتخابی جوش و خروش ٹھنڈا کیوں پڑ گیا‘‘

کے پی کے میں شدید ٹھنڈ نے انتخابی سرگرمیوں کو بھی جما کر رکھ دیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی پر پابندیوں نے بھی انتخابی ماحول کو متاثر کیا ہے، سیاسی رہنماؤں کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے لیے پرامن ماحول مہیا کرے۔ خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت مختلف اضلاع میں تاحال انتخابی سرگرمیوں کی رونقوں کی بجائے خوف کی فضا دکھائی دے رہی ہے۔ صوبے میں اکثر سیاسی جماعتوں نے امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ان جماعتوں میں جمیعت علماء اسلام (ف) سر فہرست ہے، جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان متعدد بار اپنے بیانات میں کھل کر سیکیورٹی کے بارے میں تشویش کا اظہار کر چکے ہیں، خیبرپختونخوا کے گورنر غلام علی نے حال ہی میں پشاور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں انتخابی ماحول نظر نہیں آ رہا، امن وامان ایک اہم مسئلہ ہے الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابات کے لیے پرامن ماحول مہیا کرے۔اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس صوبے میں دہشت گردی کے 91 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 209افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی بھی ہوئے۔ ان میں زیادہ تر حملوں کا نشانہ سکیورٹی اہلکار اور پولیس بنی۔خیبر پختونخوا کے بالائی اور بعض میدانی علاقے بھی ان دنوں شدید سردی اور دھند کی لپیٹ میں ہیں اور اس وجہ سے یہاں روایتی انتخابی گہماگہمی بھی دیکھنے میں نہیں آرہی۔ اس حوالے سے کے پی کی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے صحافی اورتجزیہ کار طارق وحید نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا، الیکشن میں کچھ ہی وقت بچا ہے لیکن اس مرتبہ وہ سرگرمیاں دکھائی نہیں دے رہیں، جو دوہزار تیرہ یا اٹھارہ کے انتخابات میں تھیں۔ بڑے جلسے جلوس تو ایک طرف گلی محلوں کی سطح پر ہونے والی کارنر میٹنگز بھی کم ہی دیکھنے میں آ رہی ہیں۔پاکستان تحریک انصاف 2018 کے انتخابات میں خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلی کی کُل ننانوے نشستوں میں سے65 پر کامیاب ہوئی تھی جبکہ 2013 میں پی ٹی آئی نے 38 نشستیں حاصل کی تھیں، تجزیہ کاروں کے مطابق گذشتہ ایک دہائی سے خیبر پختونخوا میں مقبول اس جماعت کے خلاف لگائی گئی پابندیاں بھی ووٹنگ کے ٹرن آؤٹ پر یقینا اثر انداز ہوں گی، ڈی ڈبلیو اردو نے اس تمام صورتحال پر عوامی رائے جاننے کی کوشش کی۔ کے پی کی صوبائی اسمبلی کے پشاور میں حلقہ پی کے 78کی عرفانہ اشفاق2022ء ایک مقامی مسجد میں ہونے والے دھماکے میں اپنے بیٹے سمیت خاندان کے پانچ افراد کو کھو چکی ہیں، امن و امان کی فضا کا سازگار ہونا انتہائی ضروری ہے خاص طور پر ایسے حالات میں جب آپ کے ملک میں الیکشن کی طرح کی کوئی بڑی ایکٹیوٹی ہو رہی ہو۔روی کمار پشاور کی ہندو کمیونٹی کے رہنما ہیں وہ کہتے ہیں، میں ووٹ کاسٹ کروں گا کیونکہ شفاف انتخابات جمہوریت کا حسن ہیں لیکن اس بارجو کچھ ملک کی ایک مقبول نمائندہ جماعت کے ساتھ کیا گیا ہے وہ کسی طور قابل قبول نہیں ہے، سیاسی پارٹیوں امیدواروں کو اور ووٹرز کو سازگار انتخابی ماحول کی فراہمی نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔خالدہ نیاز کا تعلق ضلع نوشہرہ کے انتخابی حلقے این اے 34 سے ہے ان کا کہنا ہے، اس بار توووٹ دینے کا کوئی ارادہ نہیں، آپ کونئی جماعتوں میں پرانے چہرے ہی دکھائی دیں گے اوپر سے سکیورٹی کے حالات "آزمائے ہوئے کو آزمانے کے لئے اپنی جان کو خطرے میں کیوں ڈالیں؟ پشاور میں مقیم فرزانہ علی اپنے صحافتی کیرئیر کا پانچواں جنرل الیکشن کور کرنے جا رہی ہیں تاہم خیبر پختونخوا سے مختلف جماعتوں کے امیدواروں، جن میں ن لیگ کے اختیار ولی، عوامی نیشنل پارٹی کی ثمر ہارون بلور اور پی ٹی آئی کے شوکت یوسفزئی شامل ہیں، کا اس حوالے سے ایک ہی موقف ہے کہ پر امن اور ہر لحاظ سے سازگار الیکشن منعقد کروانا الیکشن کمیشن کی اولین ذمہ داری ہے اور یہ کہ پولیٹیکل پارٹیز اور ان کے ورکرز کا کام ہے کہ وہ اپنے ووٹرز کو گھر سے نکالنے کیلئے آمادہ کرے، ان امیدواروں کو یقین ہے کہ اس بار ووٹر گھروں سے ضرور نکلیں گے کیونکہ ان کے پاس اپنی سیاسی رائے کے اظہار کیلئے ایک ہی محفوظ راستہ بچا ہے اور وہ ہے ’’ووٹ کا استعمال‘‘
