جنرل باجوہ سیاستدانوں کے نشانے پر کیوں آ گئے؟

جتنی دُشنام طرازی جنرل باجوہ پر ہوئی ہے کسی سابق سپہ سالار پر نہیں ہوئی۔ جنرل مشرف کا کوئی نام نہیں لیتا، راحیل شریف کے بغیر ہماری سرحدیں محفوظ نہیں رہ سکتی تھیں۔ ہم نے گزارہ کر لیا، جنرل ضیا الحق کے ذکر کے بغیر کوئی دانشور آپ کو پاکستان کی کہانی سُنا نہیں سکتا ان کو بھی پاکستان کی تاریخ میں ولن بنا کر پیش کیا گیا ہے لیکن اُن کے بارے میں بھی بزرگ صحافی مجیب الرحمٰن کُچھ اچھے الفاظ کہہ دیں گے، لیکن جنرل باجوہ کے حق میں کوئی ان کی اپنی برادری کا چھوٹا باجوہ بھی بولنے کو تیار نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینیئر صحافی محمد حنیف نے بی بی سی کیلئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ محمد حنیف خان مزید کہنا ہے کہ شادیوں کے تازہ موسم میں سابق سپہ سالار جنرل باجوہ ایک شادی میں تشریف لے گئے۔ باجوہ صاحب رونقی آدمی ہیں اور اتنی رونق لگا گئے ہیں کہ اڈیالہ جیل سے بھی اُن کا نام سُنائی دیتا ہے اور جس کو اڈیالہ میں ڈالنے کے بعد پرانے لوگ واپس لے کر آئے ہیں وہ بھی انھی کا نام لے کر شکایت کرتے ہیں۔جس کو حکومت سے نکالا وہ بھی دشمن اور جن کو لے کر آئے وہ بھی دشمن۔

محمد حنیف لے مطابق اگر جنرل باجوہ چاہتے تو وہ شادی میں دلہا دلہن کو سلامی دے کر، دور سے اپنے فینز کو ہاتھ ہلا کر گھر واپس جا سکتے تھے لیکن لاہور کی ہر شادی میں ایک ناراض پھپھا کی طرح انھوں نے بزرگ صحافی مجیب الرحمٰن شامی کے کندھے پر ہاتھ رکھا، جیب سے قرآن پاک نکالا اور بتایا کہ نہ میں نے کسی کو باہر بھیجا نہ اندر، نہ میں نے نواز شریف کو مُلک سے نکالا نہ عمران خان کو حکومت سے۔ جو کہتے ہیں کہ میں نے ایکسٹینشن لی تو نہ میں چاہتا تھا نہ میں نے مانگی۔ محمد حنیف کے بقول جیسا کہ شادی پہ شکار ہوئے محترم مجیب الرحمٰن شامی صاحب نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی جیب سے قرآن نکال کے اپنی ماں کی قبر کا حوالہ دے، روزِ قیامت اپنی شفاعت واپس دینے کی بات کرے تو ہم اُس کی بات پر کیا کہہ سکتے ہیں؟

محمد حنیف کا مزید کہنا ہے کہ میں بھی تب سے سوچ رہا ہوں کہ ایک خوش باش ریٹائرڈ سپہ سالار شادی میں جاتے ہوئے اپنے ساتھ ایک جیبی قرآن پاک کیوں رکھے گا۔ ہو سکتا ہے اپنی حفاظت کے لیے، خدا کے کلام کو دل کے پاس رکھنے کے لیے یا اس لیے کہ ہو سکتا ہے قسم اُٹھانی پڑ جائے۔ قسم کون اُٹھاتا ہے اور کب اُٹھاتا ہے جب لوگوں کو اُس کی بات پر یقین نہ ہو۔جنرل باجوہ کو شاید یقین ہے کہ کسی شادی پر ملنے والا کوئی بزرگ صحافی بھی ان کی بات پر یقین نہیں کرے گا جب تک وہ جیب سے قرآن نکال کر قسم نہیں اُٹھائیں گے۔

محمد حنیف نے سابق آرمی چیف کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جنرل باجوہ کو اگر آئندہ شادی کا کارڈ آئے تو گھر سے سلامی بھجوا دیں۔ اگر تنہائی ستائے تو ضرور جائیں۔ لیکن اس مرتبہ کوٹ کی ایک جیب میں قرآن اور دوسری میں آئینِ پاکستان کی کتاب ضروررکھیں، کیونکہ اُس کتاب کی بھی انھوں نے قسم کھائی تھی۔

Back to top button