فوج سے مذاکرات کے معاملے پر پی ٹی آئی تقسیم کیوں ہو گئی؟

حکومت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی بھیک مانگنے والی تحریک انصاف عسکری قیادت سے بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے جہاں ایک دھڑا پارٹی کی بقاء کیلئے فوری مذاکراتی عمل شروع کرنے کا حامی ہے وہیں دوسری جانب مخالف دھڑے نے مذاکراتی عمل کیخلاف سوشل میڈیا کا محاذ سنبھال لیا ہے اور عمران خان اور 9 مئی کے شرپسندوں کی رہائی سے قبل مذاکرات کے خلاف مہم شروع کر دی ہے۔ دوسری جانب روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی اوورسیز نے مصالحتی مذاکرات کی کھل کر مخالفت کر دی ہےجبکہ ملک کے اندر موجود ورکرز کی اکثریت عمران خان کی رہائی کیلئے مذاکرات کے حامی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے فوجی قیادت سے رابطوں پر حکمران اتحاد میں تشویش پائی جاتی ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی اندرونی تقسیم کا شکار ہے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے بعض اہم پی ٹی آئی رہنمائوں اور غیر سیاسی شخصیات نے عمران خان کو سمجھانا شروع کر دیا ہے کہ جیل میں قید سے جو فائدہ پی ٹی آئی کو ہو سکتا تھا ہوگیا۔ اب مزید جیل میں رہنا پارٹی اور خود عمران خان کیلئے سودمند ثابت نہیں ہو گا۔ حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے سے فائدہ صرف نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو ملے گا اور اگر حکومت چلتی رہی تو 5 سال بعد پی ٹی آئی کو اس کا نقصان ہوگا۔ جبکہ خیبرپختونخوا حکومت عوام کو ریلیف کیلیے جو بڑے منصوبے شروع کرنا چاہتی ہے، وہ بھی تاخیر کا شکار ہوں گے کیونکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا زیادہ فوکس عمران خان کی رہائی اور پارٹی کے اندر اپنی من مانی کرنے والوں کو کنٹرول کرنے پر رہےگا۔ جس کی وجہ سے صوبائی حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وفاق میں موجود نون لیگ، ایم کیو ایم اور پپلز پارٹی بھی یہی چاہتی ہیں کہ کے پی حکومت عوامی ریلیف منصوبوں کے بجائے مزاحمتی سیاست کا شکار رہے۔ ذرائع کے مطابق ان رہنما اور شخصیات کے سمجھانے کے بعد عمران خان نے جیل سے دو اہم فیصلوں کی ہدایت کر دی ہے۔

ایک وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو صوبائی حکومت چلانے کیلئے مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ وہ جن کو چاہیں کابینہ میں رکھ لیں اور کابینہ یا پارٹی فیصلوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو فوری طور پر باہر کا راستہ دکھا سکتے ہیں۔ جبکہ دوسرا فیصلہ عسکری قیادت کے ساتھ ملکی معاملات چلانے کیلئے مذاکرات کی اجازت ہے۔ ذرائع کے بقول مستقبل کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے عمران خان کی طرف سے پہلی بار نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ آئینی معاملات پر مذاکرات کی اجازت دی گئی ہے۔ جس کی تصدیق شبلی فراز نے بھی کی ہے۔

تاہم ذرائع کا دعوی ہے کہ تحریک انصاف کے فوجی قیادت کے ساتھ رابطوں کا آغاز کور ہیڈ کوارٹر میں کابینہ اجلاس کے بعد ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کے پی حکومت نے صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان تنازعات کے حل کیلئے فوج سے تعاون مانگ لیا ہے۔اس حوالے سے صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے میڈیا کو تصدیق کی ہے کہ فوج سے رابطہ رکھنا غلط نہیں۔ کیونکہ فوج پاکستان کی ہے۔ اور اگر پی ٹی آئی فوج سے کوئی بات چیت کر رہی ہے تو ملک کی بہتری کیلئے کر رہی ہے۔ فوج اس ملک کی سیکورٹی کی ذمہ دار ہے اور صوبہ مشکلات کا شکار ہے۔ عوام نے پی ٹی آئی پر اعتماد کیا ہے اور عوام کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وفاقی حکومت صوبے کا حق نہیں دے رہی۔ جس کی وجہ سے سیکورٹی کیلئے پیسے نہیں اور اسی لیے فوج سے بات کریں گے۔

تاہم دوسری جانب ذرائع کے مطابق اگر فوجی قیادت کے ساتھ پی ٹی آئی کے مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کا کردار اہم ہوگا۔ کیونکہ اس سے قبل کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات میں حکومت اور مقتدر حلقوں کی نمائندگی بیرسٹر محمد علی سیف نے کی تھی۔ سیکورٹی اداروں خاص کر فوج کے اہم حصوں کا بیرسٹر محمد علی سیف پر ماضی میں اعتماد تھا اور اب بھی ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی صورت میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کچھ آئینی قانون سازی، معاشی اصلاحات اور ملک میں استحکام کے حوالے سے معاملات طے کیے جائیں گے۔ جس سے ملک میں استحکام آئے گا۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف موجودہ مصالحتی بیانیے پر کب تک کاربند رہتی ہے؟

Back to top button